نیب کا سابق سیکرٹری صحت محمد جلال اور محکمہ صحت کے دیگر افسران کیخلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنیکا فیصلہ

نیب کا سابق سیکرٹری صحت محمد جلال اور محکمہ صحت کے دیگر افسران کیخلاف کرپشن ...

 اسلام آباد(آئی این پی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی میں ملوث سابق سیکرٹری صحت محمد جلال، ایڈیشنل سیکرٹری اور محکمہ صحت کے دیگر افسران کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نیب نے بدعنوانی میں ملوث سابق ممبر ایف بی آر اسرار رؤف ، قرضہ سیکنڈل میں ملوث بینک آف پنجاب کے سابق ڈائریکٹرز ، فرید مغیث شیخ اور گوہر اعجاز کے خلاف انکوائری جبکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے سیکرٹری افتخار رحیم ، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر خواجہ علقمہ اور سٹیٹ بینک کے سابق افسران کے خلاف انوسٹی گیشن اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر تعلیم کے خلاف کمپلینٹ ویری فیکیشن کی منظوری دے دی ہے ۔ نیب نے سابق وفاقی وزیر حامد یار ہراج کو غیر قانونی طریقے سے پلاٹ الاٹ کرنے پر سی ڈی اے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی صدارت میں نیب ہیڈ کواٹراسلام آباد میں ہوا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے سابق سیکرٹری صحت محمد جلال ، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر نصیر احمد بلوچ ، میڈیسن کے سربراہ عبدالباقی درانی اور دیگر کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ۔ ملزمان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے قومی خزانے کو ایک کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اجلاس میں قومی خزانے کو 8کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے پر سابق ممبر ایف بی آر اسرار روف ، ممبر ایف اے ٹی ای (ایف بی آر)ندیم ڈار ، اور میسرز عباس سٹیل کراچی کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملزمان نے میسرز عباس سٹیل کراچی کو غیر قانونی طریقے سے سیلز ٹیکس کی مد میں آٹھ کروڑ ورپے ریفنڈ کئے، ایگزیکٹو بورڈ نے میسرز کالونی گروپ آف کمپنیز کے ڈائریکٹر (سابق ڈائریکٹر بینک آف پنجاب)فرید مغیث شیخ اور اعجاز سپننگ ملز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو (سابق ڈائریکٹر بینک آف پنجاب) گوہر اعجاز کے خلاف قرضہ سیکنڈل میں ملوث ہونے کی انکوائری کی منظوری دی ، ملزمان نے بطور ڈائریکٹر بینک آف پنجاب اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خود بینک سے قرضہ لیا۔ نیب نے غیر قانونی طریقے سے مخصوص ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیکر قومی خزانے کو ایک کروڑ کا نقصان پہنچانے پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نعیم اختر اور ٹریژرر ڈاکٹر محمد علی کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں قلات کوئٹہ چمن روڈ کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر اور مبینہ غبن پر این ایچ اے کے افسران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ نیب نے قرض نادہندگی کیس میں میسرز فجر رائس ملز ، پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز /گارنٹرز کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ۔ ایگزیکٹو بورڈ نے سٹیٹ بینک کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرحت سعید ، سابق ڈائریکٹر انجینرنگ محمد بلال چوہدری ، سابق چیف مینجر لاہور محمد سہراب عباسی، ابوذرشاد ، محمد نعمان سلطان پراچہ اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان نے مبینہ طور پر سٹیٹ بینک سٹاف کالونی کی عمارت پرائیویٹ افراد کو اونے پونے داموں فروخت کر دی اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا ۔ ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی پر ورکرز ویلفیئر فنڈ کے سیکرٹری افتخار رحیم اور افسران کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خواجہ علقمہ ، رجسٹرار ملک منیر حسین ، چیئرمین بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس منیر احمد بھٹی اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی ۔ ملزمان نے یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ ۔ یونیورسٹی آف پنجاب لاہور اور ہائرایجوکیشن کمیشن سے منظوری حاصل کئے بغیر لاہور میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا۔ اجلاس میں ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے پر سابق وزیر تعلیم گلگت بلتستان علی مدد شیر کے خلاف کمپلینٹ ویری فیکیشن کی منظوری دی گئی۔ ایگزیکٹو بورڈ نے غیر قانونی طریقے سے ٹھیکہ دینے پر یونیورسل سروس فنڈ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں سابق وزیر حامد یار ہراج کو ڈپلومٹیک انکلیو میں سکول کا پلاٹ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الاٹ کرنے پر سی ڈی اے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

کرپشن ریفرنس

مزید : صفحہ آخر