واپسی کا مسئلہ حل، تحریک انصاف والے،انتخابی اصلاحات اور احتساب بل پر زور لگائیں

واپسی کا مسئلہ حل، تحریک انصاف والے،انتخابی اصلاحات اور احتساب بل پر زور ...

تجزیہ :چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں واپسی کا معاملہ بخیر وخوبی طے پا گیا۔مولانا فضل الرحمان اور متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی اپنی قراردادیں واپس لے لیں اور یوں تحریک انصاف کے اراکین کو نشستوں سے محروم کرنے کی تحریک بھی ختم ہوگئی،اب اس کے لئے کس نے کیا کیا۔اس بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں اور ہوتی بھی رہیں گی ۔ہماری توخواہش پوری ہوگئی اور اب تحریک انصاف سے یہ توقع ہے کہ وہ کارروائی میں بھرپور حصہ لے گی۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی تحریک کے مطابق انتخابی اصلاحات اور احتساب کے قوانین اور آئینی ترامیم کے لئے بھرپورمحنت کرے اورجتنی جلد ہو سکے غیرجانبدار،بے داغ اور خود مختار الیکشن کمیشن اور احتساب بیورو بن جائے اور ملک میں آئندہ شفاف انتخابی عمل ممکن ہو اور احتسابی ادارہ بن جانے کے بعد فوری احتساب کا سلسلہ شروع ہو سکے تاکہ عوامی شکایات کا ازالہ ہو ،فوج کی طرف سے این ایل سی کے متعلق کیس کو فوری حل کرنے کے بعد اپنے سابق جنرلوں کو سزا دے کر احتساب میں غیرجانبداری کی بھی مثال پیدا کر دی گئی ہے۔اس لئے اصل میں بھی ایسا کرنا ہوگا اور اس کے لئے نیا خودمختار اور غیر جانبداربااختیار ادارہ بن جانا ضروری ہے ۔توانائیاں اب اس پر خرچ کریں۔

ادھر ایم کیو ایم اب پریشانی سے تودوچار ہے تاہم اس کی حالت لطیفوں والی ہوگئی۔الطاف حسین کا شکوہ ہے، تکیہ جن پتوں پر تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے۔ وہ کہتے ہیں وزیر بن کر عیش کرنے والے چھوڑ کر بھاگ گئے۔اگرچہ یہ حضرت احتساب کے خوف سے ملک سے باہر گئے یا روپوش ہیں کہ قبضہ گروپوں اور گھوسٹ ملازموں کی وجہ سے بھاگے ہیں کہ رسہ ان کی گردن تک پہنچنے والا ہے ۔الطاف حسین کو یہ بھی شکایت ہوگئی کہ جنرلوں نے آصف علی زرداری کو چھوڑ دیا اورمیرے پیچھے پڑگئے ہیں۔حالانکہ ابھی تومنی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس تفتیشی مراحل میں ہیں۔پھر الطاف بھائی کو تو فکر نہیں ہونا چاہیے کہ ان کا نیٹ ورک تو امریکہ ،جنوبی افریقہ اور بھارت میں بھی ہے۔ البتہ فکر مندی ان کو اپنے خطابات سے ہونا چاہیے کہ جس وجہ سے مشکل پیدا ہوئی ہے ،اوراب تو رابطہ کمیٹی والے خطوط نے بھی نئی شکل پیدا کر دی ہے۔ الطاف بھائی اورمتحدہ کو تو اب خود عسکری ونگ سے جان چھڑا لینا چاہیے کہ یہ وقت اچھا ہے۔پھر لوٹ کرنہیں آئے گا۔ جہاں تک پیپلزپارٹی اورآصف علی زرداری کا تعلق ہے تو ان کا فیصلہ بھی وقت کرے گا۔ آصف علی زرداری بھی تو ایک سخت تقریر کے باعث باہر ہیں،انہوں نے ضد نہیں کی۔ان کے خلاف ریفرنس عدالتوں میں ہیں ۔پیپلز پارٹی کے سابق وزراء اعظم کے خلاف ریفرنس دائر ہو رہے ہیں۔ وہ تو عدالتوں میں سامنا کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔پھر آصف علی زرداری کاکیا مسئلہ ہے وہ بھی ریفرنس بھگت رہے ہیں۔البتہ اگر کوئی معاملہ ہے تو باپ بیٹے کا ہے۔ بلاول دوبئی اور لندن کا چکر لگا کر واپس آگئے جیسے گئے ویسے آگئے۔حالات کو دیکھ رہے اور تنظیمی امورپر غوراورمشاورت کر رہے ہیں۔ ان کا دورہ پنجاب ہی نئے رجحان کا پتہ دے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے لئے ان کو لیڈ توکرنا ہی ہے۔

مزید : تجزیہ