ملا عمر کا پاکستان میں انتقال ہوا نہ تدفین ،طالبان کے اختلافات سے سرو کار نہیں ،خواجہ آصف

ملا عمر کا پاکستان میں انتقال ہوا نہ تدفین ،طالبان کے اختلافات سے سرو کار ...

 اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے دوٹوک انداز میں واضح کہا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا عمر کا پاکستان میں انتقال ہوا نہ ان کی تدفین پاکستان میں کی گئی، طالبان میں قیادت پر اختلافات سے کوئی سروکار نہیں، یہ طالبان کا اندرونی معاملہ ہے، افغانستان میں قیام امن کے لئے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں، امریکہ اور چین ان خدشات میں مبصر کے طور پر شریک ہیں، افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہوگی،افغان حکام کی طرف سے ملا عمر کی پاکستان میں ہلاکت اور تدفین کے بیان کی پرزور تردید کرتے ہیں۔وزیر دفاع جمعرات کوقومی اسمبلی میں پی پی پی کے چیف وہیب سید نوید قمر کے نکتہ اعتراض کا جواب میں اظہارخیال کر رہے تھے۔ نوید قمر نے کہا کہ ملا عمر کی ہلاکت پر ایوان کو اعتماد میں لیا جائے، ملا عمر 2 سال قبل انتقال ہو گیا تھا تو پھر طالبان پاکستان مذاکرات کے وقت طالبان کو ہدایات کون دے رہا تھا، حکومت ایوان کو حقائق سے آگاہ کرے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ساری توجہ تبدیلیوں پر ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ پراسس اسی طرح چلتا رہے، ماضی میں ہم نے طالبان کے معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہو کر نقصان اٹھایا، ہمیں نہیں معلوم کہ ملا عمر کا انتقال ہوا یا مارے گئے، ہمیں یہ پتہ ہے کہ ان کا انتقال پاکستان میں نہیں ہوا، کوئٹہ یا کراچی میں انتقال کی خبریں درست نہیں ہیں، اگر دو سال قبل انتقال ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ متبادل قیادت ان کے معاملات چلا رہی تھی، طالبان اور افغان حکومت کے درمیان افہام و تفہیم کے حوالے سے پاکستان کی خواہش ہے کہ معاملہ چلتا رے، ہمارا طالبان پر کوئی کنٹرول نہیں اور چین امریکہ ان مذاکرات میں آبزرور کے طور پر شریک ہیں، پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، ملا عمر کے عزیز و اقارب کا کہنا ہے کہ ان کی تدفین افغانستان میں ہوئی، قیادت پر اختلافات طالبان کا اندرونی معاملہ ہے۔

مزید : صفحہ آخر