ہائیکورٹ کا جبری بد اخلاقی کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی بچی کو10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم

ہائیکورٹ کا جبری بد اخلاقی کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی بچی کو10 لاکھ روپے ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے "جبری بداخلاقی "کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو زرتلافی اورمعاوضے کا حق دار قرار دیتے ہوئے ماتحت عدالتوں کوحکم جاری کیا ہے کہ جبری بداخلاقی کے مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت اس جرم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو ان کے ناجائز باپ سے معاوضہ دلوایا جائے۔ملک کی عدالتی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے ۔مسٹر جسٹس انوارالحق نے یہ فیصلہ جبری بداخلاقی کے مقدمہ کے مجرم کی اپیل خارج کرکے اس کے جرم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بچی کو 10لاکھ روپے معاوضہ جبکہ متاثرہ خاتون کو جرمانے کی رقم میں سے ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کاحکم جاری کرتے ہوئے دیا۔یہ اپیل ندیم مسعود نامی مجرم نے دائر کی تھی جسے ٹرائل کورٹ نے جبری بداخلاقی کے مقدمہ میں 20سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنارکھی ہے ۔ 2010میں ندیم مسعود کے خلاف تھانہ میانی سرگودھا میں حمیرا یاسمین کو جبری بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھاجس میں اسے مذکورہ سزاسنائی گئی ،مجرم کی اپیل کی سماعت کے دوران عدالت کے علم میں آیا کہ مجرم کے گناہ کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی ایک معصوم بچی کو جنم دے چکی ہے۔عدالت نے جبری بداخلاقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بچی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ جبکہ متاثرہ خاتون کو جرمانے کی ایک لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ماتحت عدالتیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 544(اے)کے تحت ایسے مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے جرم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے حق میں بھی معاوضے کا حکم جاری کریں۔عدالت نے قرار دیا کہ اسلامی قانون کے تحت جبری بداخلاقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا وراثت میں اپنے بائیولوجیکل باپ سے کوئی قانونی رشتہ نہیں ہوتا تاہم گناہ کے جرم میں پیدا ہونے والا بچہ زندگی کا ناقابل تردید حق رکھتا ہے جو کہ ریاست اور اس کے بائیولوجیکل والدین کی ذمہ داری ہے۔ڈی این اے ٹیسٹ میں مجرم اور متاثرہ لڑکی بچی کے بائیولوجیکل والدین ثابت ہوئے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ زندگی کے حق کا احترام کرنا چاہئے چاہے وہ بائیولوجیکل والدین کے گناہ کا ہی نتیجہ کیوں نہ ہو۔ عدالت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے ضابطہ فوجداری کے تحت نہ صرف متاثر ہ خاتون بلکہ اس معصوم بچی کو بھی معاوضے کی ادائیگی نظر انداز کر دی جو کہ اس جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 544(اے)میں واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جو ذہنی یا جسمانی اذیت کا شکار ہو ، وہاں جرم کی سزا کے ساتھ معاوضے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ بچی جو مجرم ندیم مسعود کے گناہ کے نتیجے میں پیدا ہوئی وہ تمام عمر ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار رہے گی۔ لہذا وہ بھی معاوضے کی حقدار ہے۔ عدالت نے کمسن بچی شازیہ ندیم کے بیالوجیکل باپ ندیم مسعود کوحکم دیا کہ وہ بچی کو 10لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے۔عدالت نے قرار دیا کہ یہ بچی سول قانون کے تحت جب بھی چاہے مجرم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی رکھتی ہے اور معاوضے کا یہ حکم سول قانون کے تحت کارروائی پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ معاوضے کی یہ رقم وصولی کے بعد بچی کے نام پر ڈیفنس سیونگ سرٹفکیٹس کی شکل میں جمع کروائی جائے۔ جو صر ف بچی کو بالغ ہونے کے بعد ملے گی تاہم بچی کی اشد ضرورت کی صورت میں سرپرست متعلقہ گارڈین عدالت کے حکم سے یہ رقم نکلوا سکتا ہے اور گارڈین عدالت بچی کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کا فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے مجرم کو عائد کردہ ایک لاکھ روپے جرمانے کی رقم متاثرہ خاتون بچی کی ماں کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر