’ایک لڑکی کی قیمت صرف12400روپے ‘

’ایک لڑکی کی قیمت صرف12400روپے ‘
’ایک لڑکی کی قیمت صرف12400روپے ‘

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) چند ماہ قبل انٹرنیٹ پر نوعمر لڑکیوں کی بطورجنسی غلام فروخت اور خریداروں کی سہولت کیلئے لڑکیوں کی قیمتوں سے متعلق ایک شرمناک کتابچہ منظر عام پر آیا اور مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ کتابچہ داعش کا شائع کردہ ہے۔ اگرچہ داعش کے حمایتیوں کی طرف سے اسے بے بنیاد قرار دیاگیا لیکن اب اخبار Business Insider نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ناقابل یقین کتابچہ واقعی حقیقی ہے اور اسے داعش نے اپنے جنگجوﺅں کی سہولت کیلئے شائع کیا۔

مزیدپڑھیں:بچپن کے پیار کو ہیرے کی انگوٹھی دینے کیلئے شہری نے ایسا کام کر ڈالا کہ پیار کی نئی داستان رقم کردی

اخبار کا کہنا ہے کہ داعش کے قبضے میں اغواءشدہ لڑکیوں اور خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے، جن میں سے اکثریت کا تعلق یزیدی قوم سے ہے، اور انہیں داعش کے جنگجوﺅں اور مشرق وسطیٰ کے امراءکی تفریح کیلئے فروخت کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر سامنے آنے والے کتابچے میں مختلف عمروں کی لڑکیوں کی قیمتیں دی گئی ہیں اور بزنس انسائیڈر کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکیوں کی قیمت 124 ڈالر (تقریباً 12,400 پاکستانی روپے) سے شروع ہوکر ہزاروں ڈالر تک ہے۔ اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اصل میں قیمتیں بتائی گئی قیمتوں سے زیادہ ہیں کیونکہ عام طور پر جنسی غلاموں کے طور پر فروخت ہونے والی لڑکیوں کی بولی لگائی جاتی ہے اور سب سے زیادہ قیمت دینے والے کے ہاتھ لڑکی کسی جانور کی طرح فروخت کردی جاتی ہے۔

اخبار کے مطابق 9 سال تک عمر کے لڑکے اور لڑکیاں جنگجوﺅں کو 165 ڈالر (تقریباً 16,500 پاکستانی روپے) میں فروخت کئے جاتے ہیں، جبکہ بالغ لڑکیوں کی قیمت 125 ڈالر (تقریباً 12,500 پاکستانی روپے) ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی زینت بنگورا کا کہنا ہے کہ بدقسمت لڑکیوں کی فروخت ایک سے دوسرے خریدار کو جاری رہتی ہے اور عموماً انہیں 5 سے 6 دفعہ مختلف لوگوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس