بھارتی پولیس کے ہوٹلوں کے چھاپے ,شرمناک حرکات میں ملوث جوڑوں کو پکڑنے کے بعد کیا انوکھا سلوک کر ڈالا?جان کر آپ بھی خوفزدہ ہو جائیں گے

بھارتی پولیس کے ہوٹلوں کے چھاپے ,شرمناک حرکات میں ملوث جوڑوں کو پکڑنے کے بعد ...
بھارتی پولیس کے ہوٹلوں کے چھاپے ,شرمناک حرکات میں ملوث جوڑوں کو پکڑنے کے بعد کیا انوکھا سلوک کر ڈالا?جان کر آپ بھی خوفزدہ ہو جائیں گے

  

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں ہوٹلوں پر پولیس کے چھاپے اور جوڑوں کی گرفتاریوں کی خبروں کے ہم عادی ہیں۔ گزشتہ روز بھارتی فلم انڈسٹری کے گڑھ ممبئی میں، جہاں سیکولرازم اور لبرل ازم کا طوطی بولتا ہے، پولیس نے مختلف ہوٹلوں پر چھاپے مار کر 40جوڑوں کو گرفتار کر لیا۔ممبئی پولیس کے اس طرزعمل پر بھارتی شہریوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ان جوڑوں میں موجود خواتین جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ نہیں تھیں بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ آئی ہوئی تھیں جس کی بھارتی قانون میں اجازت ہے لیکن ممبئی پولیس نے بھی پاکستانی پولیس کی پیروی کرتے ہوئے ان جوڑوں کو ہوٹلوں سے حراست میں لیا لیکن ایف آئی آر میں پارک اور دیگر عوامی جگہوں سے گرفتاری ڈال دی۔ 

پکڑے جانے والے جوڑوں میں کئی کالج کے طلباءو طالبات تھے۔ گرفتاری کے بعد خوف کی وجہ سے ایک 19سالہ طالبہ نے پولیس کی حراست میں خودکشی کی کوشش بھی کی۔پکڑی گئی ایک اور 21سالہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ”میں بالغ ہوں اور میںاپنے منگیتر کے ساتھ ہوٹل گئی تھی، اس کے ساتھ اگلے مہینے میری شادی ہونے والی ہے۔ میں نے ہوٹل کے استقبالیہ پر اپنا مکمل نام و پتہ بھی درج کروایا اور پولیس کو بھی بتایالیکن جب میں نے ایک لیڈی کانسٹیبل کو سب سچ بتانے کی کوشش کی تو اس نے میرے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ کیا ہم بھارتی شہری کے طور پر حقیقی معنوں میں آزاد ہیں؟ کوئی کیسے ہمیں جرمانہ کر سکتا ہے اور سرعام رسوا کر سکتا ہے۔ اگر پولیس کو کوئی قانونی کارروائی کرنی ہی ہے تو ان ہوٹلوں کے خلاف کرے جو جسم فروشی کا دھندہ کرواتے ہیں۔ اپنی پسند کے آدمی کے ساتھ ہوٹل میں جانا کوئی جرم نہیں ہے۔“

ممبئی پولیس نے تمام جوڑوں کو 5گھنٹے تک پولیس سٹیشن میں رکھا اور اس کے بعد ہر جوڑے سے 1200روپے لے کر چھوڑ دیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس