صیہونی حکام کا نظر بند 30 سالہ فلسطینی نوجوان کو زبردستی خوراک دینے کا فیصلہ

صیہونی حکام کا نظر بند 30 سالہ فلسطینی نوجوان کو زبردستی خوراک دینے کا فیصلہ
صیہونی حکام کا نظر بند 30 سالہ فلسطینی نوجوان کو زبردستی خوراک دینے کا فیصلہ

  

نابلس ( اے این این )اسرائیلی حکام نے نظر بند 30 سالہ فلسطینی نوجوان محمد نصر الدین علان کو زبردستی خوراک دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ نصر الدین اپنی بلاجواز نظر بندی کے خلاف بطور احتجاج 54دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔

محمد علان کے وکیل جمیل خطیب نے ایک بیان میں بتایا کہ انہیں فوجی استغاثہ نے طلب کر کے کہا کہ وہ اپنے موکل علان کو بتا دیں کہ ہم انہیں زبردستی خوراک دینے کے کارروائی کرینگے ۔ادھر اسیران کلب نے اسرائیلی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ قیدی محمد علان کے حق میں زبردستی خوراک دینے کے قانون کے تحت کارروائی سے گریز کریں کیونکہ اس قانون کو ساری دنیا یہ کہ کر مسترد کر چکی ہے کہ اس پر عمل درآمد کا مطلب محمد علان کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔یاد رہے کہ محمد نصر الدین علان کا تعلق شمالی غرب اردن کے علاقے نابلس سے ہے۔

انہوں نے اٹھارہ جون کو اس وقت بھوک ہڑتال کا اعلان کیا جب اسرائیلی حکام نے کسی مقدمے کے بغیر ان کی انتظامی نظر بندی میں دوسری مرتبہ توسیع کا اعلان کیا۔اسیر محمد نصر کو 16 نومبر 2014 میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ علان اس سے پہلے بھی تین برس صہیونی زندان میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔محمد نصر کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بلاجواز گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی ہسپتال سوروکا کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے اپنے بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کریں گی۔

مزید : بین الاقوامی