رانا ثناء اللہ اور 2 ٹی وی چینلز شرمناک ترین سکینڈل پر مٹی ڈالنے کیلئے ایک ہو گئے

رانا ثناء اللہ اور 2 ٹی وی چینلز شرمناک ترین سکینڈل پر مٹی ڈالنے کیلئے ایک ہو ...
رانا ثناء اللہ اور 2 ٹی وی چینلز شرمناک ترین سکینڈل پر مٹی ڈالنے کیلئے ایک ہو گئے

  

قصور (مانیٹرنگ ڈیسک ) سینکڑوں بچوں کی زیادتی سے متعلق ملکی تاریخ کے شرمناک سکینڈل نے نیا موڑ اختیار کرلیا ہے اور اب 2 نجی ٹی وی چینلز جیو نیوز اور سماء نیوز نے اس سکینڈل کو دو گروہوں کے درمیان زمین کے تنازعہ کا معاملہ قرار دے کر الگ ہی رنگ دیدیا ہے جبکہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی اس معاملے پر ''مٹی ڈالنے،، کیلئے ان ٹی وی چینلز کی بے بنیاد حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سماءنے دعویٰ کیا ہے کہ بچوں کی زیادتی سے متعلق ویڈیو سکینڈل جھوٹا اور بے بنیا د ہے اور در حقیقت یہ سکینڈل دو گرہوں کے درمیان 19ایکڑ زمین ہتھیانے کے لیے بنایا گیا۔شیرازی گروپ نے 19ایکڑ زمین لیز پر لی تھی ۔بعدازاں اس زمین کے رقم کے لین دین کے معاملے پر دونوں گروہوں میں جھگڑا ہو گیا ہے ۔پولیس حکام کاکہنا ہے کہ ماسٹر ظفر اور شیرازی گروپ زمین کے دعودار ہیں ۔شیرازی گروپ کے پانچ ملزمان حسیم عامر،فیصل مجید ،بشارت چیمہ ،علی مجید اور عبدالمنان گرفتار ہیں ۔ ماسٹر ظفر گروپ نے مزید گرفتاریوں کے لیے سارا ڈرامہ رچایا ہے ۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز نے بھی کچھ اسی طرح کا دعویٰ کیا اور اسے سکینڈل قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے دو گروپوں میں زمین کا تنازعہ قرار دیا۔ ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں اسے واضح طور پر سکینڈل کا نام دینے سے گریز کرتے ہوئے اس بات کو بھی نظر انٓداز کر گئے کہ اگر اس سکینڈل کو دو گروپوں کے درمیان تنازعہ مان بھی لیا جائے تو کسی بھی مہذب معاشرے میں معصوم بچوں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس دوران پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی رپورٹنگ کو ''درست اور حقائٖق پر مبنی،، قرار دیتے ہوئے دوسرے چینلز کو بھی مشورہ دے ڈالا کہ وہ اسی طرح کی ''ذمہ داری،، کا ثبوت دیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ کے شرمناک ترین سکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد ہر مکتبہ فکر کا شخص ملزمان کے خلاف سخت ترین نوٹس لینے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کی اپیل کر رہا ہے تاہم پنجاب حکومت کے اہم ترین وزیر کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے کے بعد عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں