ابھی تک 8 کیس سامنے آئے،ہر چیز انتظامیہ پر ڈالنا غلط ہے، آر پی او

ابھی تک 8 کیس سامنے آئے،ہر چیز انتظامیہ پر ڈالنا غلط ہے، آر پی او
ابھی تک 8 کیس سامنے آئے،ہر چیز انتظامیہ پر ڈالنا غلط ہے، آر پی او

  

گنڈا سنگھ/ قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) گاﺅں حسین والہ میں 6 ،7 سال سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور اب تک 8 کیس سامنے آئے ہیں ,ہر چیز انتظامیہ پر ڈالنا غلط ہے۔ ان خیالات کا اظہار متعلقہ آر پی او نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق آر پی او  کا کہنا ہے کہ گاﺅں حسین والہ میں تقریباً چھ ، سات سال سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں ۔ ابھی تک کل 8 مقدمات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد میں اعلانات کروائے گئے مگر اس سلسلے میں کوئی مقدمہ درج کروانے نہیں آیا۔ افسوس کی بات ہے کہ 6 سال سے کسی نے اس مسئلہ پر آواز نہیں اٹھائی۔ اس کے علاوہ آر پی او شیخوپورہ نے کہا کہ دراصل یہ ایک زمین کا مسئلہ ہے جو کہ ان لوگوں نے خریدی جو ضمانت پر ہیں۔ آر پی او نے مزید کہا کہ میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ خبر چلانی چاہیئے۔اگر یہ زمین کا مسئلہ ہے تو حقیقت کیا ہے ؟ اتنی بری تعداد میں عوام کا سڑکوں پر آنا مسلسل دو دن کا احتجاج ایک قیمتی جان کا ضیاع اس کے پیچھے کیا حقیقت ہے تو آر پی او صاحب نے صحافیوں کو کیمرے اور مائیک بند کر دینے کا حکم صادر فرما دیا۔

عوامی حلقوں نے آر پی او کی اس نرالی منطق پرشدید الفاظ میں احتجاج ہے کیونکہ اگر پولیس کے علم میں ہے کہ یہ واقعات 6 ،7 سات سال سے ہو رہے ہیں اور اگر ان واقعات کے خلاف 8 کیس درج بھی ہو چکے ہیں اس کے باوجود ذمہ داری سے مبرا ءہونے کیلئے عوام کو ہی مورد الزام ٹھہرانا سمجھ سے عاری ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے پولیس بااثر ملزمان پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتی بلکہ انہیں بچانے کیلئے متضاد بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ مزید برآں مسلسل لمبے احتجاج اور ایک قیمتی جان کے ضیاع کے بعد ایسے بیانات کا پولیس کی طرف سے جاری ہونا انتہائی شرمناک ہے۔

مزید : قصور /اہم خبریں