ملا عمر ایک عرصے تک کیا روپ دھار کر رہتے رہے؟ ناقابل یقین دعویٰ سامنے آ گیا

ملا عمر ایک عرصے تک کیا روپ دھار کر رہتے رہے؟ ناقابل یقین دعویٰ سامنے آ گیا
ملا عمر ایک عرصے تک کیا روپ دھار کر رہتے رہے؟ ناقابل یقین دعویٰ سامنے آ گیا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے 2001ءمیں ا فغانستان پر چڑھائی کی تو طالبان کی قیادت روپوش ہوگئی اور  غائب ہو جانے والوں میں امریکہ کے مطلوب ترین طالبان رہنما ملا عمر بھی شامل تھے۔ اگرچہ اس بات کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ ملا عمر افغانستان سے فرار ہوکر پاکستان آئے، مگر امریکی اخبار ’میامی ہیرالڈ‘ کا کہنا ہے کہ امریکہ سے چھپنے کیلئے ملا عمر نے کراچی کا رخ کیا اور یہاں بھیس بدل کر آلو بیچنا شروع کردئیے اور کئی سال تک دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کو آلو بیچ کر دھوکہ دیتے رہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ملا عمر 2002ءسے 2005ءکے درمیان کراچی کی لی مارکیٹ اور کھارا در کے علاقے میں مقیم رہے اور امریکی اور پاکستانی ایجنسیوں سے بچنے کیلئے دیگر طالبان رہنماﺅں اور جنگجوﺅں سے مکمل طور پر لاتعلق رہے۔ اس دوران وہ اپنی توجہ مکمل طور پر آلوﺅں کی خرید و فروخت پر مرکوز کئے رہے۔ اخبار کے مطابق لی مارکیٹ اور کھارادر کے علاقے میں افغانوں کی بڑی تعداد آباد تھی، اور کھارادر میں ہی ایک تھڑے پر ملا عمر آلو فروخت کیا کرتے تھے، جبکہ انہیں دنوں امریکا ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر (تقریباً ایک ارب پاکستانی روپے) مقرر کرکے اپنی پوری طاقت سے ان کی تلاش کر رہا تھا۔

مزید : بین الاقوامی