دنیا کا وہ علاقہ جہاں پل اور راستے بنائے نہیں بلکہ اگائے جاتے ہیں

دنیا کا وہ علاقہ جہاں پل اور راستے بنائے نہیں بلکہ اگائے جاتے ہیں
دنیا کا وہ علاقہ جہاں پل اور راستے بنائے نہیں بلکہ اگائے جاتے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی (نیوز ڈیسک) قدرت اپنے بندوں کی زندگی آسان بنانے کیلئے کیسے کیسے خوبصورت اور حیرت انگیز انتظامات کرتی ہے، اس کی ایک جھلک بھارتی ریاست مگھیالہ کے سرسبز و شاداب پہاڑی مقام چراپونجی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں جدید مشینری سے بنائے گئے کنکریٹ اور لوہے کے پل تو نہیں ملتے البتہ ندی نالوں اور حتیٰ کہ دریا پر بھی ایک مخصوص درخت کی لچیلی جڑوں سے بنے زندہ پل نظر آتے ہیں۔

اس علاقے کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ بارش والے علاقوں میں ہوتا ہے اور یہاں پایا جانے والا درخت فیکس الاسٹکا (Ficus elastica)، جسے عام زبان میں ربر ٹری بھی کہا جاتا ہے، اپنی لچکدار مضبوط اور لمبی جڑوں سے قدرتی پل بنانے کی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والے وارخاسس قبائل نے کئی صدیاں قبل اس درخت کی خصوصیات دریافت کیں اور پھر جہاں ضرور پیش آئی وہیں اس درخت کی صورت میں نیا پل اگالیا۔

ان درختوں کے تنوں سے پھوٹنے والی اضافی جڑیں لمبائی میں مسلسل بڑھتی رہتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ کر ندی نالوں کے اوپر پل بنادیتی ہیں، جنہیں علاقے کے لوگ گزرگاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان درختوں کی نرم جڑوں کو کھوکھلے کئے ہوئے خشک تنوں کی مدد سے ندی نالوں کے ایک طرف سے دوسری طرف لے جایا جاتا ہے۔ جب یہ بڑھتی بڑھتی دوسری طرف چلی جاتی ہیں تو انہیں دوبارہ زمین سے ملادیا جاتا ہے اور یہ دوسری طرف بھی زمین میں اتر جاتی ہیں، یوں آہستہ آہستہ دونوں طرف جڑیں رکھنے والا مضبوط اور زندہ پل تیار ہوجاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس