پاکستان کا وہ شہر جہاں پر قیدیوں کو بادشاہوں کی طرح رکھا جاتا ہے

پاکستان کا وہ شہر جہاں پر قیدیوں کو بادشاہوں کی طرح رکھا جاتا ہے
پاکستان کا وہ شہر جہاں پر قیدیوں کو بادشاہوں کی طرح رکھا جاتا ہے

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری جیلیں غریب مجرموں کیلئے تو جہنم سے کم نہیں لیکن یہی جیلیں طاقتور مجرموں کے لئے کسی آرام دہ اور پرآسائش ہوٹل کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ وسائل اور طاقت رکھنے والے مجرم اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کیلئے تو جیل سے باہر ہسپتالوں کے خصوصی وارڈ مختص کردئیے جاتے ہیں جہاں وہ زندگی کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں کئے گئے چشم کشا انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ یونیورسٹی کے طالبعلم شاہ زیب خان اور اے لیول کے سٹوڈنٹ سلیمان لاشاری کے قاتلوں سمیت درجنوں ایسے مجرم ہیں جو مریضوں کا روپ دھار کر مختلف ہسپتالوں میں شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں۔ سنٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کے مطابق تقریباً 16 ملزمان کو ایک سال قبل سرکاری ہسپتالوں میں چیک اپ کیلئے بھیجا گیا تھا لیکن وہ اب تک جیل واپس نہیں آئے۔

’میری یہ عادت ہے کہ لڑکے سے تعلق قائم کرتی ہوں اور پھر اسے اچانک چھوڑ دیتی ہوں کیونکہ۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر تمام لڑکیوں کا منہ حیرت اور پریشانی کے مارے کھلا کا کھلا رہ جائے گا

رپورٹ کے مطابق پانچ سال قبل شاہ زیب خان نامی طالبعلم کو قتل کرنے والا مجرم شاہ رخ جتوئی جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر میں مقیم ہے۔ اس کا ساتھی مجرم نواب سجاد تالپور بھی اس کے ساتھ ہسپتال میں مقیم ہے۔ ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں ان کی زندگی مجرموں کی بجائے شہزادوں کی طرح گزر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موت کی سزا پانے والا شاہ رخ جتوئی ہسپتال کے ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر ویڈیو گیمز کھیلتا ہے۔ جتوئی خاندان اپنے بیٹے کو ہر سہولیت مہیا کرنے کیلئے جیل حکام کو ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر نواز رہا ہے۔

اسی طرح سلمان ابڑو نامی مجرم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز میں مقیم ہے، جبکہ ہل پارک ہسپتال، لیاقت نیشنل ہسپتال، قمر السلام ہسپتال اور ہیلتھ ویژن ہسپتال میں بھی کئی مجرم پرآسائش زندگی گزاررہے ہیں۔ افسوس کہ یہ سب کچھ اعلٰی حکام کے علم میں ہے لیکن وہ معاملے کا سخت نوٹس لینے کا اعلان کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس