’کار حادثے میں موت سے چند روز قبل لیڈی ڈیانا میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ کیا میں اس مسلمان سے شادی کرسکتی ہوں؟‘ ڈیانا کی موت کے 20 برس بعد پادری نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا، شہزادی کس سے شادی کرنا چاہتی تھیں؟ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

’کار حادثے میں موت سے چند روز قبل لیڈی ڈیانا میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ کیا ...
’کار حادثے میں موت سے چند روز قبل لیڈی ڈیانا میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ کیا میں اس مسلمان سے شادی کرسکتی ہوں؟‘ ڈیانا کی موت کے 20 برس بعد پادری نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا، شہزادی کس سے شادی کرنا چاہتی تھیں؟ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لیڈی ڈیانا ایسی کرشماتی شخصیت کا نام ہے جو اپنی زندگی میں تو بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہی، موت کے 20سال بعد بھی وہ گاہے عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آتی رہتی ہیں اور ہر بار اپنی عشقیہ داستان کے ایک نئے باب کے ساتھ۔اب لندن کے ایک پادری نے ڈیانا کی داستان کا ایک نیا باب بیان کر دیا ہے۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ’فادر فرینک گیلی‘ نے انکشاف کیا ہے کہ لیڈی ڈیانا اپنی زندگی کے آخری ایام میں مصری کھرب پتی تاجر کے بیٹے ڈوڈی الفائد کے ساتھ شادی کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔

شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر آگئی، ایسا انکشاف کہ دیکھ کر امریکی کانپ اٹھے

فادر فرینک کا کہنا ہے کہ ”ان دنوں میںمغربی لندن کے علاقے کینسنگٹن کے سینٹ میری ایبٹس چرچ میں متعین تھا، جو شہزادی ڈیانا کے کینسنگٹن پیلیس کے قریب واقع تھا۔ اس نے اپنی موت سے چند ماہ قبل اس چرچ میں عبادت کے لیے آنا شروع کر دیا تھا۔ وہ خاموشی سے عام لوگوں کی طرح چرچ میں آتی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آیا وہ کسی دوسرے مذہب کے شخص کے ساتھ شادی کر سکتی ہے؟ میں نے اسے بتایا تھا کہ وہ یہ شادی کر سکتی ہے۔جب ہم یہ بات کر رہے تھے اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ یقینا دوسری طرف ڈوڈی تھا۔ فون آنے پر ڈیانا کی آنکھیں جگمگا اٹھی تھیں۔ تب جاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا کہ ’اگر میں یہاں شادی کرنے آﺅں تو کیا تم ہماری شادی کرواﺅ گے؟‘ اس کی آنکھوں میں محبت عیاں ہو رہی تھی۔“

فادر فرینک نے مزید بتایا ہے کہ ”ایک بار ڈیانا ڈوڈی کے ساتھ اس کے باپ کی لگژری کشتی پر بحیرہ روم میں تفریح کر رہی تھی، تب اس نے مجھے کال کی تھی اور کہا تھا کہ ’میرے پاس ایک خوشخبری ہے۔ میں جب واپس آﺅں گی تو تم مجھے کینسنگٹن پیلیس میں آ کر ملنا۔‘ لیکن بدقسمتی سے وہ دونوں وہاں سے پیرس گئے اور وہاں ان کی کارحادثے میں موت واقع ہو گئی۔مجھے یقین ہے کہ اگر ڈیانا اور ڈوڈی کی موت نہ ہوتی تو وہ شادی کر چکے ہوتے۔ڈیانا اس سے بہت محبت کرتی تھی۔ وہ بہت خوش تھی اور اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہی تھی۔اسے مسلمان شخص سے شادی کرنے کے لیے صرف مذہبی اجازت کی ضرورت تھی جو مل چکی تھی۔اس نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ ڈوڈی اس کے بچوں کے ساتھ بہت محبت کرتا ہے اور بچے بھی ڈوڈی کی صحبت سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ بات ڈیانا کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔“واضح رہے کہ فاردر فرینک روم میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ انہوں نے علم الہٰی، ایجوکیشن اور اسلامک سٹڈیز کی تعلیم حاصل کی۔ اب وہ برطانوی علاقے ایسیکس میں رہتے ہیں اور لندن میں بطور سیاحتی گائیڈ کام کرتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...