’میرا باپ پاکستانی طالبان کے ساتھ تھا، وہ مارا گیا تو ہم بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ایک دن گھر آیا تو دیکھا کہ۔۔۔‘ بم پھاڑنے سے پہلے پکڑے جانے والے 18 سالہ پاکستانی خود کش بمبار نے زبان کھول دی، ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر ہر پاکستانی کے ہوش اُڑجائیں

’میرا باپ پاکستانی طالبان کے ساتھ تھا، وہ مارا گیا تو ہم بھاگ کر افغانستان ...
’میرا باپ پاکستانی طالبان کے ساتھ تھا، وہ مارا گیا تو ہم بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ایک دن گھر آیا تو دیکھا کہ۔۔۔‘ بم پھاڑنے سے پہلے پکڑے جانے والے 18 سالہ پاکستانی خود کش بمبار نے زبان کھول دی، ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر ہر پاکستانی کے ہوش اُڑجائیں

  



شکارپور (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ سال خود کش حملے سے عین پہلے پکڑلئے جانے والے نوعمر لڑکے نے بالآخر زبان کھول دی ہے اور دہشت گردی کی راہ پر اپنے سفر سے لے کر پاکستان میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک تک چشم کشا انکشافات کر دئیے ہیں۔

اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق عثمان نامی اس لڑکے نے شدت پسند مدرسوں، تربیت گاہوں اور بم بنانے والی جگہوں کے متعلق انکشافات کئے ہیں، جو مشرقی افغانستان سے لے کر سندھ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی کے اسی نیٹ ورک نے اسے 2000کلومیٹر کا سفر خفیہ طور پر طے کروا کے شکار پور میں خودکش حملے کے لئے پہنچایا۔

عثمان خودکش حملہ آور کیسے بنا، اس نے خود یہ داستان سناتے ہوئے بتایا ”بنیادی طور پر میرا تعلق سوات سے ہے۔میرا باپ طالبان تحریک میں شامل تھا۔ وہ ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تو ہم فرار ہو کر افغانستان چلے گئے۔ وہاں ہم ننگر ہار صوبے میں رہتے تھے۔ ایک دن میں گھر آیا تو میرا چھوٹا بھائی بڑی عمر کے ایک شخص کے ساتھ بیٹھا تھا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو میرے بھائی نے کہا کہ مجھے جہاد کرنا چاہئیے۔ اس نے مجھے خودکش حملہ آور بننے کو بھی کہا۔ میں ان باتوں سے متاثر ہوا اور خود کش حملہ آور بننے کے لئے نکل کھڑ اہوا۔مجھے ایک صحرائی علاقے میں قائم کیمپ میں تربیت دی گئی۔ وہاں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے مراکز تھے۔ وہاں مجھے معاذ نامی شخص نے اپنے پاس رکھا اور اس نے ہی میرے لئے دو خود کش جیکٹیں فراہم کی تھیں۔ مجھے شکار پور میں ایک شیعہ مذہبی تقریب پر حملے کا حکم دیا گیا تھا۔“

پاکستانی طالبان نے پڑھی لکھی خواتین کیلئے ایسا کام شروع کردیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی، کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے

عثمان نے مزید بتایا کہ اسے دہشت گردی کی تربیت دینے والے نیٹ ورک کا اصل مرکز مشرق وسطیٰ میں ہے لیکن یہ افغانستان اور پاکستان کے علاوہ پورے جنوبی ایشیاءمیں عدم استحکام پھیلانے کیلئے سرگرم ہے۔ بنیادی طور پر یہ نیٹ ورک ایسے حملے کرتا ہے جن سے فرقہ وارانہ اختلاف اور فسادات کو ہوا مل سکے۔ اگرچہ اس نے براہ راست داعش کا نام نہیں لیا لیکن سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ دراصل یہی تنظیم اس نیٹ ورک کے پیچھے ہے۔

کاﺅنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسر راجہ عمر خطاب نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”داعش کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ سٹرکچر نہیں ہے۔ یہ فرینچائز سسٹم کے اصول پر کام کرتی ہے اور پاکستان میں بھی اسی ماڈل کو استعمال کررہی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...