بھارتی فوج کی چینی سرحد کے اندر کارروائی!

بھارتی فوج کی چینی سرحد کے اندر کارروائی!
 بھارتی فوج کی چینی سرحد کے اندر کارروائی!

  



ہندوستانی فوجیوں نے گزشتہ ماہ کے اختتام پر چین کے خود مختار علاقے تبت میں واقع سرحدی علاقے ڈوکلام میں ایک سڑک کی تعمیر کے دوران اپنے اتحادی بھوٹان کے حقوق کا دفاع کرنے کے جواز میں رکاوٹیں پیدا کی تھیں، جس پر دونوں ملکوں کی فوجیں سرحدوں کے دونوں جانب چاق و چوبند ہو گئی تھیں۔چینی حکام نے بھارتی فوج کو متعدد بار "سرحدوں سے پیچھے ہٹنے" کا انتباہ دیا تھا تو نیو دہلی انتظامیہ ایک ماہ کی مہلت کے باوجود پیچھے قدم نہ ہٹانے پر مصر ہے۔دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین جون کے مہینے سے جاری اس کشیدگی کے بعد معاملات کسی ممکنہ مسلح تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اس بارے میں چینی میڈیا میں بھارت مخالف بیانیے کے ساتھ ساتھ ’’ممکنہ جنگی کارروائی‘‘ کی خبریں سرحدی باشندوں اور سیاسی مبصرین و تجزیہ کاروں کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔بھارت اورچین کے درمیان گذشتہ جون میں اس وقت کشید گی پیدا ہوئی جب انڈیا کی فوج بھوٹان اور چین کے درمیان واقع متنازع علاقے ڈوکلام میں داخل ہوگئی اور اس نے چینی فوجیوں کو وہاں ایک سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔ چین کا کہنا ہے کہ انڈین فوجیوں کو ڈوکلام سے باہر نکالنے کے لئے دو ہفتے کے اندر محدود نوعیت کی فوجی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ انڈیا نے ایک ایسے ملک کو چیلنج کیا ہے جو اس کے مقابلے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ شاید جنوبی ایشیا میں وہ اپنی علاقائی اجارہ داری اور مغربی میڈیا کے تبصروں سے اس حد تک اندھا ہو گیا ہے کہ اسے یہ یقین ہونے لگا ہے کہ وہ چین جیسے طاقتور ملک کے ساتھ اسی طرح پیش آ سکتا ہے، جیسے وہ جنوبی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔

18 جون کو 270 سے زیادہ انڈین فوجی ہتھیاروں سمیت دو بلڈوزر لے کر سکم سیکٹر سے ڈوکلام کے نزدیک سرحد پار پہنچے۔ انڈین فوجی سڑک بنانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مقصد سے چینی علاقے میں 100 میٹر اندر تک گھس آئے۔اس وقت وہاں انڈین فوجیوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی تھی۔ انڈین فوجیوں نے وہاں تین خیمے گاڑ دیئے اور چین کی سرحد میں 180 میٹر اندر تک گھس گئے۔ اب بھی 40 بھارتی فوجی اور ایک بلڈوزر غیر قانونی طریقے سے چینی سرحد میں موجود ہے۔چینی اخبار کے مطابق انڈین فوج کا چینی فوج سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔چینی فوج سرحدی خطے میں تمام بھارتی فوجیوں کو تباہ کرنے کی قطعی اہلیت رکھتی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے اور انڈیا کے قومی وقار اور پُرامن ترقی کے عمل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ مودی کو چینی فوج کی عظیم طاقت اور اس کے ساز وسامان کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔ مودی حکومت کا قدم علاقائی سلامتی اور امن کے لئے خطرہ ہے۔ یہ انڈیا کی تقدیر اور ملک کے عوام کی فلاح کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ اگر مودی حکومت اپنی ضد پر ڈٹی رہی تو یہ ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دے گی، جسے روکنا انڈیا کے بس میں نہیں ہو گا۔

’’گلوبل ٹائمز‘‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ چین سرحد پر امن کا احترام کرتا ہے اور وہ یہ نہیں چاہتا کہ یہ امن تباہ ہو۔ اخبار کے مطابق چینی فوج نے ابھی تک فوجی کارروائی اس لئے نہیں کی کہ امن کو ایک اور موقع دیا جائے اور بھارت جنگی کارروائی کے مضمرات کو سمجھ سکے۔ چین کا کہنا ہے کہ بھارت نے ڈوکلام سرحدی علاقے میں اپنی فوج میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔ڈوکلام سرحد پر جہاں پہلے تقریباً 400 بھارتی فوجی تھے وہاں فوجیوں کی تعداد گھٹ کر محض 40 رہ گئی ہے، لیکن بھارت نے چین کے دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین غلط بیانی سے کام لے رہا ہے اورڈوکلام سرحد پر بھارت کے تقریباً 350 تا 400 فوجی ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ چینی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارت نے اپنی فوج میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت چین کے مطالبات کو درست تسلیم کرتے ہوئے سرحد سے اپنی فوج کا انخلا کر رہا ہے۔

چین نے بھارت سے کہا ہے کہ چینی قوم اپنی علاقائی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی، اس لئے وہ چینی علاقے میں غیر قانونی طورپر داخل ہونے والے اپنے فوجی دستے فوراً واپس بلالے ۔ چینی سرحدی دستوں نے ابھی علاقے میں اپنے ابتدائی دفاعی اقدامات کئے ہیں اور وہ اپنے اہداف کے مطابق وہاں تعینات رہیں گے اور تربیت حاصل کریں گے۔ چینی ترجمان نے بھارت کو وارننگ دی ہے کہ وہ دھوکہ بازی اور فریب سے باز رہے ۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ اس کی اہلیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور ملک کی سلامتی اور علاقائی خود مختار ی کے تحفظ کے لئے اس کا عزم ناقابل شکست ہے۔ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دینا تو آسان ہے، مگر چین کی پیپلز لبریشن آرمی کو شکست دینا مشکل ہے۔ چین نے تبت میں اپنی فوج اور اپنے جدید ٹینکوں کی ایک بڑی تعداد تعینات کی ہے۔ اس علاقے میں چینی فوج اور ٹینکوں کی تعیناتی غیر معینہ مدت کے لئے کی گئی ہے۔ تبت میں ٹینک اور فوج کی تعیناتی فوجی صلاحیت جانچنے اور لڑائی کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے کی گئی ہے۔ تبت میں وی ٹی فائیو لائٹ ڈیوٹی ٹینک کی صلاحیت کو بھی جانچا جائے گا۔ 105ملی میٹر ٹینک گن، 35ملی میٹر گرنیڈ لانچر اور12.7ملی میٹر مشین گن صلاحیت کو بھی جانچنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ یہ گن پہاڑوں پر نصب کی گئی ہے ،تاکہ پہاڑی علاقوں میں آپریشن میں استعمال کیا جاسکے۔ GV150ٹائپ انجن رکھنے والے 1ہزار ہارس پاورکے لائٹ ویٹ ٹینک بھی آزمائے جائیں گے۔ 2016ء میں بھی حالات کے مدنظر چین نے بھارت کے ساتھ ملنے والے سرحدی علاقے میں ٹینک میزائل اور فائٹر جیٹ طیارے تعینات کردیئے تھے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان رین گواچیانگ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں کے چین کی سرحدی حدود میں داخل ہونے کے بعد بیجنگ نے انتہائی برداشت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن چین کی برداشت کی بھی ایک حد ہے۔ چین کے مطابق بھارت نے اپنے اتحادی بھوٹان کی سرحد کے قریب اس چینی علاقے میں داخل ہو کر 1890ء میں طے پانے والے اس سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جو چین اور اس وقت کی برصغیر میں برسراقتدار برطانوی حکومت کے مابین طے پایا تھا۔دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ چینی فوجوں نے بھوٹانی علاقے میں سڑک تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد بھوٹان کی جانب سے شکایت اور مداخلت کی اپیل کے بعد بھارتی فوجیں اس علاقے میں روانہ کی گئی تھیں۔

مزید : کالم