14 اگست کا پیغام

14 اگست کا پیغام
14 اگست کا پیغام

  



14اگست کی آمد آمد ہے .دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو متعین کردہ بنیادوں پر قائم و دائم رکھے۔ اس پر اپنی رحمتوں کا سایہ ہمیشہ برقرار رکھے، اس میں ترقی و خوشحالی کا عمل جاری وساری رہے، اس کی صنعت فروغ پائے، اس کے کھیت سرسبز و شاداب رہیں، خوشحالی ہر غریب کے دروازے پر دستک دے تاکہ اس کا ہرشہری ملک سے محبت کے جذبوں سے سرشار رہے .بد خواہوں اور شرپسندوں کے شر سے محفوظ و مامون رہے . یہ دن کاروباری طبقہ کی ملک سے محبت اور بے مثال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ر ہے، جب قائداعظمؒ نے نو زائیدہ مملکت میں وسائل کی فراہمی کے لئے آواز دی اور کاروباری طبقے کے بڑوں نے مالی وسائل قائداعظمؒ کے قدموں پر نچھاور کر دیئے . اسی پر اکتفا نہیں کیا . بانی پاکستان کے فرمان پرعمل پیرا ہو کر بزنس کمیونٹی نے دن رات محنت کی . صنعت کا جال پھیلایا اور تجارت کو فروغ دیا۔ ہم وطنوں پر جب بھی کوئی زمینی یا آسمانی مصیبت آ ئی، صنعت و تجارت سے وابستہ لوگوں نے بساط سے بڑھ کر مدد کی . ایوانہائے صنعت و تجارت نے سیلاب سے متاثرہ بے گھر خاندانوں کے لئے تازہ بستیاں تعمیر کرکے دیں اور اہل وطن کو خیر خواہ جذبوں کی موجودگی کا احساس دیا . اس دن سے عوام کی محبت کا یہ عالم ہے کہ کافی دن پہلے ہی جشن آزادی کی تیاریا ں شروع کر دی گئی ہیں ۔حکمران،

کاروباری طبقہ اور عوام اس دن کو شان و شوکت سے منائیں گے .بچے بوڑھے جوان حتی کہ خواتین پاکستان کا پرچم بلند کرکے پاک وطن سے محبت کے جذبوں کو تازہ و سربلند کریں گے۔ .بچوں کے چمکتے دمکتے چہرے، ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے اور زبان پر پاکستان زندہ باد کے نعرے روشن مستقبل کے لئے اُمنگوں کا اظہار ہے . سیاست دان تقریروں کے ذریعے ملک کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کریں گے . حالانکہ ملک کو بنانے سنوارنے میں سیاست دانوں کا اپنا کردار قابل تقلید نہیں ہے . ملک میں بگاڑ پیدا کرنے اور بار بار ترقی کے راستے سے ہٹانے میں انہوں نے شعوری یا لا شعوری طور پر کافی کردار ادا کیاہے ۔

2017ء کا جشن آزادی اس پس منظر میں آ رہا ہے، سیاست دانوں کی پیدا کردہ افراتفری، خلفشار اور مقدمہ بازیوں کی وجہ سے یہ سوال عام ہے کہ قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ نے حصول پاکستان کا کٹھن مقدمہ کیا اس لئے لڑا تھا کہ ان کے بعد سیاست دان اسے جنگ و جدل کا اکھاڑہ بنائیں اور اقتدار چھیننے کی لڑائی میں ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں،حتیٰ کہ چادر اور چار دیواری بھی سیاست دانوں سے دست برد اور آوارہ لبی سے محفوظ نہ رہے . قومیانے کے نام پر کاروباری خاندانوں کے کاروبارچھین کر مالکان کو بیرون ملک در بدر کر دیا جائے اور ملک میں بے روزگاری کوعام کیا جائے۔ تحریک پاکستان کے دوران لوگوں نے اپنے بچے اس لئے ذبح نہیں کرائے تھے کہ ملک بننے کے بعد سیاست دان اس میں من مانیاں کرتے رہیں، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے اس لیے عصمتیں نہیں لٹائی تھیں کہ سیاست دانوں کو ایک خطہ زمین مل جائے، جہاں وہ اقتدار کا کھیل کھیلتے اور بار بار مارشل لاء لگواتے رہیں . ہندوستان سے بھوکے پیاسے مرد و خواتین کے آبلہ پاقافلوں نے خاک و خون کا سمندر پار کرکے اس سرزمین پر اس لئے قدم نہیں رکھا تھا کہ سیاست دان انہیں مختلف تعصبات کی آگ میں جلاتے اور اپنے اپنے پسندیدہ نعرے لگوا تے رہیں .14 اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ بھارتی قیادت نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا . ستر برس کے دوران دو جنگیں مسلط کیں کہ اس ملک کو صفحہ ہستی سے مٹا دے .لیکن جسے ’’اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘۔۔۔ آج بھی بھارتی فوجیں کنٹرول لائن پر گولہ باری سے پاکستان کے معصوم شہریوں کو شہید کر رہی ہیں . کشمیر کے جوانوں اور ماؤں، بہنوں کو بھارتی جارحیت کا ایندھن بنایا جا رہا ہے . 14 اگست ہمیں ان تمام مناظر کو تبدیل کرنے اور دشمن کی ناپاک جسارتوں اور کارستانیوں کے سامنے بند باندھنے کا ایک ہی طریقہ بتاتا ہے کہ اقتدار کے لئے ملک اجاڑنے میں توانائیاں برباد کرنے والے سیاست دان اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

14 اگست کے روز ہر پارٹی اپنی اپنی جلوسیاں نکالنے اور’’ ہمچو ما دیگرے نیست‘‘ کا کمزور اظہار کرنے کی بجائے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ایک ایک بڑا جلسہ کیا جائے، جسے قومی جلسہ کہا جائے . جس کے بعد قومی سطخ کا ایک ہی جلوس نکالا جائے۔اجتماعی قوت کا بھرپور اظہار دشمن کی آنکھیں کھول دے گا . کسی جماعت کے پرچم کی بجائے ہر ایک کے ہاتھ میں قومی پرچم ہو . بد قسمتی سے سیاست دانوں کے سابقہ اور مروجہ رویوں کے پیش نظر ان سے اتحاد ویکجہتی کی بہت کم توقع نظر آتی ہے . حسب سابق اور حسب عادت سیاست دان اپنی اپنی ذات کو ابھارتے، ملک سے محبت کے جذبوں کو تقسیم اور قومی طاقت وتوانائی کو نقصان پہنچاتے رہیں گے . ماضی میں تعمیری رویوں کا فقدان رہا، جس سے ملک کو کافی نقصان پہنچا . بجلی کی شدید کمی رہی . کوئی بڑا تعمیری منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔ اس لئے کاروباری طبقہ، ملک کے بہی خواہ اور کاروبار شناس حکمران کو تلاش کرتے رہے۔ کافی تلاش و انتظار کے بعد میاں محمد نواز شریف کی صورت میں ترقی پسند لیڈرشپ ملک کو میسر آئی تھی . جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات سے مالا مال ہے۔ میاں محمد نواز شریف اقتدار میں آئے تو انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں انہوں نے بھی دھماکہ کرنے کا فیصلہ کر لیا . امریکہ کی دھمکیوں اور لالچ کو خاطر میں نہ لائے . انہوں نے وہ کیا جو قوم نے چاہا . اس کے نتیجے میں انہیں .قید وبند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا . جلا وطنی اور عوام سے دوری کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، لیکن اپنے آہنی عزم اور مضبوط ارادوں کی وجہ سے دوبارہ اقتدار میں آئے تو جرات مندانہ فیصلوں اور پاک فوج کے اپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی .کراچی میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کا خاتمہ کیا جس کی وجہ سے تاجروں اور صنعتکاروں نے سکھ کا سانس لیا۔

بدقسمتی سے ایک بار پھر الزامات دھرنوں اور مقدمہ بازیوں سے ملک کے معاشی حالات خراب کئے گئے،اعلیٰ عدلیہ کے با بصیرت ارکان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ سیاست دانوں کی خرمستیاں بانی پاکستان کے دیئے ہوئے معاشی وخوشحالی پروگرام کے بالکل برعکس ہیں۔ ہمارے نزدیک ملک کے معاشی حالات کو دگر گوں کرنے والی شر انگیزیوں پر حکمت وتدبر کا پانی ڈالنے کا بندوبست اعلیٰ عدلیہ کے معزز ارکان بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ ایسے مقدمات کو ترجیحی لسٹ میں لینے کی بجائے سالہا سال سے معلق مقدمات کی سماعت کا پہلے اہتمام کریں .اس کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کو قائداعظمؒ کے ویژن کے تحت سیاست کرنے کی تلقین ضرور کریں . تاکہ ان میں صبر و تحمل تدبر اور ملک کی خدمت کے سچے جذبے پیدا ہو سکیں . یقین ہے کہ اگر تمام طبقات نے صبر اور بھائی چارے کا سبق یاد کر لیا تو14 اگست کا ذکر صرف کتابوں اور ایک دن تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ہر شخص وطن عزیز کا سچا سپاہی بنے گا . صرف جھنڈیو ں اور جھنڈوں پر اکتفا نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ بڑھتے ہوئے معاشی وسائل سے خوشحال پاکستان میں سانس لے رہے ہوں گے . ایسا جشن آزادی ملے گا جس کی شان و شوکت دشمن کو ہلا کر رکھ دے گی ۔

مزید : کالم


loading...