بھارت سرحدوں پر حالات خراب کررہا ہے

بھارت سرحدوں پر حالات خراب کررہا ہے

  



وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت نہ صرف لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے بلکہ سرحد پر بھی حالات خراب کررہا ہے اور کشیدگی برقرار رکھنے کی پالیسی پرگامزن ہے ہم نے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن اس کا خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ کلبھوشن کی گرفتاری مداخلت کا بڑا ثبوت ہے، پاکستان ایسے حالات میں بھی امن کے لئے کوشاں ہے، خطے کے مستقبل کے لئے امن ضروری ہے اس سلسلے میں چین اور روس کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں کشمیری عوام کی خواہشات کا سودا نہیں کریں گے یہ نہیں ہو سکتا کہ کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو اور ہم سودے بازی کرلیں کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کا حق مانگتے ہیں کشمیر میں امن کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوانتہا پسندی کی جس لہر پر سوار ہو کر بی جے پی کو انتخابات میں کامیابی دلائی تھی اب اس کے مظاہرے پورے بھارت میں دیکھے جارہے ہیں مسلمانوں کی زندگی مشکل بنادی گئی ہے ان کے ذہن میں کشمیر کے متعلق بھی جو نقشہ تھا اس کا اظہار انہوں نے ریاستی انتخابات کے موقع پر کردیا تھا مسلم اکثریت کی اس ریاست میں جو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق متنازعہ ہے اور جس کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے مودی وہاں ہندو وزیر اعلیٰ بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے اگرچہ اکثریتی آبادی ریاستی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے اس کے باوجود جن ووٹروں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا انہوں نے بھی مودی کی خواہش پوری نہ ہونے دی ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ ریاست میں بی جے پی کو کامیاب بنائیں گے اس منصوبے کا نام انہوں نے ’’1+44‘‘ رکھا لیکن جب نتیجہ آیا تو انہیں 25نشستیں حاصل ہوئیں سب سے بڑی جماعت مفتی محمد سعید(مرحوم) کی جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بن کر اُبھری تو انہوں نے مفتی سعید کے ساتھ سودے بازی کی کوشش کی اور انہیں کہا کہ اگر وہ بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بنانا قبول کرلیں تو بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت بنادی جائیگی مفتی سعید کا موقف تھا کہ ان کی جماعت اکثریتی نشستیں رکھتی ہے اس لئے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر اس کا حق فائق ہے، نریندر مودی نے یہ بات نہیں مانی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست میں گورنر راج نافذ کردیا حالانکہ خود گورنر نے اس کی مخالفت کی ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اصولوں کے مطابق مفتی سعید کو حکومت بنانے کی دعوت دی جانی چاہئے جیسا کہ ایسی صورت حال میں دوسری ریاستوں میں ہوتا ہے، لیکن نریندر مودی نے اس صائب مشورے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کردیا اور اس دوران درپردہ سازشوں کے ذریعے بی جے پی کی مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کی حکومت سازی کے لئے انہیں مطلوبہ حمایت کہیں سے بھی دستیاب نہ ہوسکی تو گورنر راج کی مدت ختم ہونے پر انہیں طوعاً و کرہاً مفتی سعید کو وزیر اعلیٰ قبول کرنا پڑا لیکن وہ ایک سال سے زیادہ زندہ نہ رہے اُن کے انتقال کے بعد پھر وہی صورت حال پیدا ہوگئی اور سودے بازی اور سازشوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا، مفتی سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی نے بھی اپنے باپ کی طرح سخت موقف اپنایا اور وزارتِ علیا پر اپنی جماعت کا حق مقدم گردانا تو کافی انتظار کے بعد مودی نے محبوبہ مفتی کا مطالبہ مان لیا۔

سیاسی ناکامی کے بعد نریندر مودی نے اب تمام تر ریاستی قوت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے پر لگادی ہے لیکن اس تحریک کو جتنا دبایا جاتا ہے اتنا ہی یہ اُبھرکر سامنے آرہی ہے، بھارتی فوج کے نئے سربراہ نے بھی وہاں ظلم وستم کے نئے ہتھکنڈے آزمانا شروع کررکھے ہیں لیکن اس تحریک کو دبانا ممکن نہیں ہوسکا انسانی حقوق کی خلاف ورزی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کشمیری عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، ایک نوجوان کشمیری کو جیپ کے سامنے باندھ کر سڑکوں پرگشت کیا گیا جس کا مقصد مظاہرین کو خوفزدہ کرنا تھا لیکن اس حربے سے بھی فوج کو کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیری مسلح ہیں اور انہیں سرحد پار سے کمک ملتی ہے لیکن خود فوج کے سربراہ کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کشمیریوں کے پاس پتھروں کے سوا کوئی ہتھیار نہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ اگر گولیاں چلا رہے ہوتے تو جوابی طور پر ان پر زیادہ سختی کی جاسکتی تھی لیکن پتھروں کے جواب میں کتنا تشدد کیا جاسکتا ہے، یہ بھارتی فوج کی بے بسی کا کھلا اعتراف ہے۔

کشمیر کی اس صورت حال پر پورے بھارت میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بھارتی اور کشمیری سیاستدان مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں لیکن مودی کا خیال ہے کہ جس طرح انہوں نے یوپی میں انتخابات جیت کر وہاں ایک ہندوجوگی کو وزیر اعلیٰ بنادیا ہے جو ملک کی اس سب سے بڑی ریاست پر ہندو انتہا پسندی کا ایجنڈا نافذ کرنے پر تلا ہوا ہے اسی طرح وہ کشمیر میں بھی کامیابی حاصل کرے گا لیکن طاقت کے تمام ترحربے ناکام کوششیں ثابت ہوئے ہیں اب وہاں سابق فوجیوں کو آباد کیا جارہا ہے اور پوری ریاست کو گیریژن میں تبدیل کردیا گیا ہے بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں شروع کررکھی ہیں کلبھوشن یادیو کو سی پیک کا منصوبہ ناکام بنانے کے لئے پاکستان میں پلانٹ کیا گیا تھا جس نے یہاں دہشت گردی کا نیٹ ورک بنایا لیکن جلد ہی وہ ناکام ہوگیا اور گرفتاری کے بعد اس نے اپنی سازشوں اور جرائم سے پردہ اٹھادیا افغانستان میں بھارتی قونصل خانے بھی دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان بھیجنے میں معاونت کررہے ہیں، کشمیر کی کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ بھارت مغربی سرحد پر بھی حالات خراب کررہا ہے۔ کشیدگی کی اس فضا میں جامع مذاکرات کی بحالی کا بھی دور دور تک امکان نہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے روس اور چین کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے ابھی حال ہی میں پاکستان اور بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنایا گیا ہے جس میں ہمسایوں کو اپنے باہمی تعلقات بہتر رکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ تنظیم کا رکن بننے کے فوراً بعد ہی بھارت نے سکم میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ بڑھادیا ہے اور چینی علاقے میں بھارتی فوجیں داخل کردی ہیں۔ چین بھارت کی اس شرانگیزی پر فوری جوابی کارروائی سے گریزکررہا ہے تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارتی فوجیں چینی علاقے سے واپس نہ گئیں تو محدود پیمانے پر جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات تو کشیدہ چلے ہی آرہے تھے چین کے ساتھ بھی اس نے خواہ مخواہ اُلجھ کر خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بھارتی قیادت کو ہوش کے ناخن لے کر ہمسایوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...