تعلیم کے لئے پہلی بار 900ارب روپے مختص

تعلیم کے لئے پہلی بار 900ارب روپے مختص

  



وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار تعلیم کے لئے 900 ارب روپے مختص کئے ہیں، یہ ریکارڈ اس لئے قائم ہوا ہے کہ تعلیم کو عام کرنے اور ابتدائی کلاسوں میں داخلے پر کتابوں اور بستے کی مفت فراہمی سے لیکر معقول وظائف دیئے جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ملتان میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طالب علموں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ حکومتی کوششوں سے ابتدائی کلاسز میں 35لاکھ بچوں نے داخلہ حاصل کیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں داخلے کی شرح بڑھنے میں پنجاب دیگر صوبوں سے آگے ہے، پنجاب میں داخلوں کی شرح میں 23فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں داخلوں میں اضافے کی شرح 53فیصد ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان نے تعلیم کے شعبے میں حکومتی کوششوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کی جو تفصیل بیان کی ہے، وہ اس لحاظ سے حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے کہ کچھ حلقوں کی طرف سے یہ تاثر عام کیا جاتا رہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے بعض بھاری بھرکم لاگت کے منصوبوں کو ترجیح دیتے ہوئے تعلیم جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کررکھا ہے اور تعلیم پر سرکاری بجٹ میں بہت کم فنڈزمختص کئے گئے ہیں۔ تعلیم کے لئے 900 ارب روپے مختص کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرنے کا تاثر منفی انداز میں پھیلایا جارہا ہے۔ پرائمری تعلیم پر ہی نہیں، اعلیٰ تعلیم کے لئے بھی حکومت کی طرف سے بھاری رقوم خرچ کی جارہی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ 2010-11ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صرف 12ارب روپے دیئے گئے تھے، جبکہ اس مرتبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے ایک سو ارب مختص کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے حکومتی ترجیحات کی نشاندھی کرتے ہوئے پرائمری سکولوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے لئے معقول فنڈز کے بارے میں بہتر طریقے سے بریفنگ دی ہے۔ تعلیم کے لئے مجموعی طور پر 900 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری بلا شبہ لائق تحسین ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ جن اہداف کے لئے یہ خطیر رقم مختص ہے، انہی مقاصد کے حصول کے لئے خرچ کی جائے اور ایسی پالیسی اختیار کی جائے کہ کسی بھی شعبے میں فنڈز لیپس نہ ہوں۔

مزید : اداریہ