اس ظالم اور بے حس زوال سے کسی کو مفر نہیں (1)

اس ظالم اور بے حس زوال سے کسی کو مفر نہیں (1)

  



دونوں اتنے خوبصورت تھے کہ دیکھ کر سانس بند ہونے لگتی تھی ،یہ گورارنگ ، گوشت سے بھرا جسم،سفید براق لباس ،گھر سے باہر آتے تو کسی بدیسی ٹیلکم پاؤڈر کی مہک ساتھ ہوتی، ایک نوکر نے پانی بھرا تھرماس پکڑا ہوتا تو دوسرا بیٹھنے سستانے کے لیے دو چھوٹی چھوٹی پیڑھیاں اور چھروں کاڈبہ لیے ساتھ ہوتا، ایر گن کو کبھی ایک کندھے پہ رکھ لیتا اور کبھی دوسرا بڑے انداز وادا سے ہاتھ میں پکر کے بے نیازی سے چلنے لگتا۔

مجھے وہ پہلے روز سے ہی اچھے لگنے لگے تھے۔ ان کے ابو کسی بڑے شہر سے ٹرانسفر ہوکر آئے تھے۔ وہ نہ بھی بتاتے تو ان کے بالوں کی تراش سے لے کر بے شکن نیکر اور شرٹ سبھی باآواز بلند یہی بتاتی تھیں ۔ہم نے انہیں کبھی کسی مقامی بچے سے بات کرتے نہ دیکھا۔ کلاس میں دونوں اکڑی گردنوں سے آتے، خاموشی سے ٹیچر کو سنتے، کبھی جو خود بولتے تو اردو کے لفظ یوں ان کے منہ سے جھڑتے تھے جیسے موتی قطار اندر قطار جھڑ رہے ہوں۔ سبھی لڑکے ان کی طرف یوں متوجہ رہتے جیسے مکھیاں مصری کی ڈلی پر لپکتی اور منڈلاتی ہیں۔ ان سے بات کرنے کی خواہش سب کے چہرے پر جلی حروف میں لکھی ہوئی دور سے پڑھی جاتی تھی، کلاس میں اکثر لڑکے اپنی ماؤں کے ہاتھ کے سلے ہوئے کچھے پہنتے جب کہ وہ ریڈی میڈ نیکریں پہن کر آتے۔ ہم سب کے پاس کپڑے کے تھیلے یا کھڈی کے بنے بستے تھے، وہ پلاسٹک نما کپڑے کے بیگ میں کتابیں رکھ کر لاتے جس کو کھولنے کے لیے دوبٹن لگے تھے ہم سب بستوں اور تھیلوں کو کندھوں پہ لٹکاتے، ان کے بیگ اُٹھانے کے لیے نوکر کلاس کے باہر آموجود ہوتا۔ دوپہر کو ہم اپنے تھیلوں سے پونوں اور رومالوں میں لپٹی روٹی نکالتے اوپر اچار رکھا ہوتا ساتھ کبھی کبھار پیاز کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی ہوتے،تب انڈے اور بن کا توتصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا،اسی کھانے سے لنچ کا مزہ دوبالا ہو جاتا۔کلاس میں ورائٹی محدود تھی ،کسی کسی کے پاس تو ابلی ہوئی شکرقندی ہوتی تو کوئی ابلی چھلی کو دوپہر کے کھانے کے طور پر ساتھ لایا ہوتا مگر وہ دونوں کسی پونے اور رومال کی بجائے چھوٹا پلاسٹک کاڈبہ نکالتے جس کے کئی خانے ہوتے ،ہم نے پہلی بار ایسا ڈبہ دیکھا تھا جس کا نام تک نہ آتا تھا ، ہاں اس کے اوپر بنی کارٹون نما تصویر کو ہاتھ لگا کر دیکھنے کو بڑا جی کرتا تھا مگر وہ جس خاموشی سے نکالتے اتنے سلیقے سے کھا کر واپس رکھ دیتے۔ ہم باری باری پلاٹ میں لگے نلکے کو پہلے گیڑتے پھر منہ لگا کر پانی پیتے اور بازو سے گیلا منہ صاف کرتے۔آدھی ٹانگیں مفت میں گیلی ہو جاتیں ۔ ان کے پاس پانی بھری بوتل ہوتی ،ساتھ پلاسٹک کاگلاس جو کھٹ کرکے بڑا ہوجاتا اور دبانے سے پھر منہ بسورتا ہوا دبک جاتا۔ آج اتنے سالوں کے بعد اچانک جوان کی یاد آئی تو آئے جاتی ہے، ستائے جاتی ہے حالانکہ زندگی کے ان چند مہینوں کے بعد نہ ان کو دیکھا نہ کبھی ان کا ذکر ہی ہوا مگر یادوں کا کیا ہے یہ تو بن بادل بھی برسنے کو آجائیں تو اچھی لگتی ہیں

سردیوں میں ہم لوگ دھوپ کے لیے سکول کے کھلے پلاٹ میں ٹاٹ بچھا کر بیٹھتے تھے، موسم بدلا تو شیشم کے سائے میں کلاس لگنے لگی۔ ایک روز کیادیکھتے ہیں کہ انہوں نے بیگ سے مناسا چاقو نکالا اور درخت کے تنے پر اپنا نام لکھ دیا۔ تب ہم کو جوڑ جوڑ کر پورے لفظ بنانے آتو گئے تھے مگر تختی لکھتے بھی فکر ہی رہتی تھی کہ غلطی اب ہوئی کہ تب ہوئی ۔ درخت پر ا ن کا نام لکھا دیکھ کر ان کا رعب اور دبدبہ اور بڑھ گیا، باپ کا بڑا منصب اور مخلوق سے فاصلہ رکھنے کی ادائیں،کیوں نہ رعب بڑھتا ،کوئی درخت کے تنے کو چھونا تو درکنار پاس ٹیک لگا کر بھی نہ بیٹھتا کہ شیخ صاحب کے بیٹوں کے وہاں نام لکھے تھے،انہی کی ملکیت گردانی جاتی ، دوستی تو دو ر کی بات ان سے تو رسمی تعارف بھی نہ ہوسکا تھا۔ بات چیت نہ ہوسکنے کی خواہش غصے میں ڈھل گئی اور میں نے سکول آنا کم کردیا، سوچا کہ آنا ہے تو اسی طرح پیڑھی لے کر۔ نیکر پہن کر اور بٹن والا بیگ لے کر ورنہ نہیں جانا،یوں اگلے روزاپنا تھیلا نما سکول بیگ جو کروشیئے کے موٹے دھاگے سے دادی نے بنواکر بھیجا تھا،گھر سے ذرا دور ایک آم کے پود ے کی نیچے لٹکتی شاخ سے لٹکا کر تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ رہااور پھر بیٹھے بیٹھے سو گیا۔

ڈاہرانوالہ ہائی سکول نہر مراد کے کنارے واقع ہے اوربہت بڑا اور کھلا تھا، ہاسٹل کی طرف آموں کاپورا باغ تھا ،کھیتوں میں سبزی خوب کاشت ہوتی تھی اور میں ان کے کنارے بیٹھ کر من ہی من میں غصہ ، حسرت، اور خواہش کاشت کرتا، گھر، کھیت، اور سکول، ہر جگہ ویسی ہی اہمیت کی طلب لیے گھومتا، اسی میں سوتا، اسی میں جاگتا، ان کاتکبربرا بھی لگتا مگر ویسا ہی رعب ودبدبہ اور ٹہکااپنانے کی خواہش بھی کم نہ ہوتی۔ استاد بھی ان کے آگے پیچھے ہوتے، صاحب زادہ صاحب کہہ کر مخاطب کرتے ، بچھ بچھ جاتے پھر نجانے کیا ہوا،ایک دم سے موسم بدل گیا۔ جنرل یحیٰٰ خان کا زمانہ تھا،شیخ اسلم صاحب کانام برطرف ہونے والے 313افسروں میں آگیا۔ وہ نوکری بچانے کے لیے لاہور چلے گئے اور ان کی جگہ نیا صاحب، نئے ہیڈماسٹر آگئے ۔ حالات نے پلٹا کھایا، سارے نوکر نئے صاحب کے ساتھ مصروف ہوگئے اور صاحب زادگان یوسف بے کارواں ہو کر رہ گئے ۔ پہلے پیڑھیاں چھٹیں اور کلاس میں سب کے ساتھ زمین پہ بیٹھنا پڑا،پھر کلاس ٹیچر کی جھڑکیاں طعنوں میں بدلیں۔

عروج کے دن اچھے گزرے ہوں تو زوال آتے آتے وقت لیتا ہے ورنہ دوسری صورت میں زوال تو ہر دروازے کے ساتھ لگا موقع ملنے کی آس میں کھڑا ملتا ہے، اب وہ دونوں تھے۔ صبح خودبیگ اُٹھائے سکول آتے اورخود ہی واپس جاتے ، فضیلیتیں رخصت ہوچکی تھیں اور جاتے جاتے مصنوعی عزت، وقعت، اہمیت بھی ساتھ لے گئی تھیں۔ عظمت رفتہ کی باسی یادوں اور باتوں کی خوراک سے تو کوئی زندگی نہیں چلتی۔ چوٹ لگتی ہے تو درد کی بھی سمجھ آتی ہے، وجہ درد کی بھی اور مقام درد کی بھی۔ کچھ باتیں جلدی سمجھ میں آجاتی ہیں اور کچھ عمر بھر اپنا سر انہیں پکڑاتیں۔ جو اپنے بڑوں کے نام اور مقام یا اپنے ذاتی عہدے اور مرتبے کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں۔ وہ اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ان کاحق بھی ہے اور امتیاز بھی اور یہ مستقل رہے گا۔ وہ اپنے رویے، عادات اور مزاج کو اسی حوالے سے بناتے ، لوگوں کو اپنے سے دور رکھتے اور اپنے آگے جھکاتے ایک عمر گزاردیتے ہیں ،ایک روز جب یہ سب مصنوعی سہارے اور آسرے چھن جاتے ہیں تو ان کاحال جناب ایس اے مشربی سے بھی بدتر ہوتا ہے

وہ چند برس قبل ہی ایک معروف جرمن فارماسوٹیکل کمپنی کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے ، 8لوگوں سے کمپنی شروع ہوئی تو وہ ان میں سے ایک تھے ،آٹھ سے 800 لوگوں تک کاسفر انہی کی رہنمائی میں طے ہوا۔ ان کی اتھارٹی تھی انہی کانام اور دبدبہ ،مجال تھی کبھی کوئی اختلاف کرتا۔ صبح وشام ملاقاتیوں کارش رہتا، تحائف کے انبار جمع ہوتے۔ لوگ ڈانٹ کھا کر بھی بے مزہ نہ ہوتے مسکراتے ہوئے واپس جاتے۔ تب لگتا تھا سورج ان سے پوچھ کر طلوع ہوتا ہے اور انہی کی اجازت سے غروپ ہونے جاتا ہے۔ اب وہی دل دکھا ہوا اور سرجھکا ہوا ،وہ سامنے تھے۔ آنکھیں پرنم تھیں اور ہونٹوں پہ عجیب سا شکوہ کہ آپ کوپتا ہے دفتر والوں نے میری نیم پلیٹ تک اکھاڑ کر سٹور میں پھینک دی ہے۔

بیتے سالوں میں منصب اور عہدے کے زور پہ بہت لوگوں کو بڑے بنتے اور پھر منہ کے بل گرتے دیکھا۔ ہر ہر بار دل کانپ کانپ گیا۔ انسان بنیادی طور پر جتنا کمزور ہے مرتبے اور عزت کے لیے اسی قدر مضبوط حرص رکھتا ہے،اعلیٰ عہدوں پہ فائز ہوکر جب عزت اور احترام پاتا ہے تو اکثر آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، اور جب وہ منصب چھن جاتا ہے تو یوں لگتا ہے سب ڈراؤنا خواب تھا،نہ ملاقاتی ہوتے ہیں نہ تحائف آتے ہیں۔ نہ نیم پلپٹس تعارف اور دبدبے کاباعث بنتی ہیں‘ نہ اس کااپنا وجود کسی کے لیے کشش اور فیض کاباعث رہتا ہے جو تعلق تھا وہ عہدے کے حوالے سے بنا تھا ہر کسی کو اپنا نفع ونقصان پہنچا سکنے کی قدرت سے ڈرایا تھا۔ اب وہ قدرت اور طاقت ہی باقی نہ رہی تو کوئی کیوں سلام کرنے آئے گا، مشرقی صاحب کو یہ بات سمجھنے میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ نہیں سمجھیں گے تو کسی روز یہ صدمہ ہارٹ اٹیک کی صورت میں زیادہ زور سے سمجھانے آئے گا۔انہیں مجھ سے شکوہ تھا کہ تم جمعیت میں رہے تو تین دہائیوں بعد بھی لوگ تمہیں یادرکھے ہوئے ہیں،کسی کو گھر سے بھاگ کر آنا اور تمہارے ساتھ رہنا یاد ہے تو کسی کو تمہارے پاس آکر کھانا کھانا،اورہمقدم اور ادارے کے دفتر میں آکر گپ کرنا،کسی کو نوائے وقت اور پھول کا وقت یوں یاد ہے جیسے کل کی بات ہو، ان کی شادیوں اور بچوں کی سالگراہوں تک پر اب بھی جاتے ہو،چلو یہ تو نادان تھے اس لئے یاد رکھتے ہیں، اردو ڈائجسٹ میں پڑھنے والے تو بڈھے بڈھے تھے انہیں کیا مصیبت ہے وہ کیوں یاد رکھتے ہیں، وہ کیوں تم سے محبت کرتے ہیں، وہ کیوں تمہاری تحریروں کا حوالہ دیتے ہیں؟۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...