اتنی بڑی کابینہ کیوں ؟

اتنی بڑی کابینہ کیوں ؟
 اتنی بڑی کابینہ کیوں ؟

  



پاکستان میں ایک اور وزیر اعظم کی کابینہ تشکیل پا گئی ہے۔ کابینہ کیا ہے بس حیرانی کا سبب ہے۔ کیا خوب ہے کہ ایک ایسے وزیر اعظم نے کابینہ تشکیل دی ہے جن کے بارے ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ وہ 45روزہ وزیر اعظم ہیں یا دس ماہ کے لئے حکومت کریں گے۔ دس ماہ بعد پاکستان میں عام انتخابات طے ہیں کیوں کہ موجودہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کر چکیں گی۔ واہ واہ 49رکنی کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔کابینہ کی تشکیل کے لئے بھی وزیر اعظم کو مشاورت کے کئی دور کرنے پڑے۔ کابینہ کیا معرکے سر کرے گی ، یہ تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہی بتاسکیں گے۔ ویسے بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اگر کوئی معلوم کر سکے تو معلوم کرے کہ ان کی کابینہ نے کیا معرکے سرانجام دئے تھے۔ عام مشاہدے میں تو یہ آیا ہے کہ کابینائیں کسی لحاظ سے کچھ بھی نہیں کرسکی ہیں۔پارلیمنٹ میں کس منصوبہ بندی پر بحث ہوئی اور فیصلے کئے گئے۔ بس قومی اسمبلی کلب کے برائے نام اجلاس ہوئے۔ اراکین نے گپ شپ کی اور اجلاس برخاست ہو گئے۔بر سبیل تذکرہ کوئی یہ بتا سکے گا کہ گزشتہ کابینہ میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے کیا کارکردگی انجام دی تھی۔ وزیر خارجہ تو تھا ہی نہیں، مشیران کام چلا رہے تھے اور انہوں نے جیسا کام چلایا، پڑوسیوں سے تعلقات خراب ہی ہوتے گئے۔ وزیر دفاع بھی نہیں مقرر کیا گیا تھا، یہ تو ایک مقدمہ میں سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہونا تھا، تو وزیر اعظم نے دفاع کا قلم دان خواجہ آصف کے حوالے کردیا تھا۔ وہ پانی اور بجلی کے وزیر تھے۔ اس وزارت کی اکثر کارروائی وزیر مملکت عابد شیر علی انجام دیتے تھے۔ اتنے بڑے حجم کی کابینہ کا کیا فائدہ؟ سوائے اس کے اور کیا فائدہ کہ وفاداران نواز شریف کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کر دیا گیا ہے جہاں سے وہ مالی منفعت حاصل کر سکیں گے اور اپنی سیاسی زندگیوں کو جلا بخش سکیں گے۔ مزید و ہی بتا سکیں گے۔

یہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ اس ملک میں دہشت گردی کے واقعات کہیں نہ کہیں رونما ہوجاتے ہیں۔اس کی معیشت بہت بری حد تک متاثر ہے۔ ہر آنے والے روز معیشت زوال پذیر ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کے سہارے چلائے جانے والے ملک کی برآمدات پریشان کن حد تک گر چکی ہیں۔ در آمدات میں اٖضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ملک کی پیداواری صلاحیت مشکلات کا شکار ہے۔ اسمگلنگ میں بھی روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ بھارت، ایران، چین ، تھائی لینڈ، سنگا پور، تائیوان، کوریا، جرمنی وغیرہ کے سامان سے بازار بھرے پڑے ہیں، دوکاندار بھارت میں تیار کردہ کپڑا بڑے چاؤ سے دکھا کر گاہک کو لبھاتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اسمگل شدہ سگریٹ بازاروں میں کھلے عام دستیاب ہیں۔ کابینہ نے کیا کیا؟ کس وزیر نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا کسی نے کوئی روک تھام کا اہتمام کیا۔ نیشنل ایکشن پلان منظور کیا گیا، صوبوں میں اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، کمیٹیوں کے اجلاس ضرور ہوئے لیکن نتائج وہ تو بر آمد نہیں ہوسکے جن کی نیشنل ایکشن پلان سے امید دلائی گئی تھی۔

شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں وزیر اعظم نے پیٹرولیم کی وزارت خود رکھی ہے، وہ نواز شریف کابینہ میں یہ قلم دان رکھتے تھے۔ کابینہ میں نواز شریف کابینہ کے اکثر اراکین عباسی کابینہ میں شامل ہیں۔ وہ لوگ بھی شامل کئے گئے ہیں جو حالیہ دنوں میں سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایسی زبان جو تصادم پر اکساتی ہو۔ خواجہ آصف کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔احسن ا قبال کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ سابق کا بینہ میں وہ وزیر منصوبہ بندی ہوا کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کابینہ میں شامل کرنے کی خاطر عبدالقادر بلوچ کو وزیر سفیران مقرر کیا گیا ہے۔ ماحولیات کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ مشاہد اللہ کو ان کے فوج کے خلاف دئے گئے ایک انٹر ویو کے بعد کابینہ سے مستعفی کرا دیا گیا تھا لیکن انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ صرف مسلم لیگ ہی نہیں بلکہ اکثر وزرائے اعظم نے اپنی کابینہ کا حجم بڑا رکھا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اراکین کو سمویا جاسکے۔پاکستان میں سیاست کرنے والے افراد یا گھرانے پارلیمنٹ میں داخلے کے بعد کابینہ میں بھی داخلہ چاہتے ہیں۔ مقصد واضح ہے کہ مفادات اسی راستہ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی کابینہ صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھی۔ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ بھی مختصر تھی ۔

شاہد خاقان عباسی کابینہ کوئی ہدف مقرر کر سکتی ہے؟ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کب تک ممکن ہوگا؟ بامقصد انتخابی اصلاحات کے نفاذ کو کب تک ممکن بنایا جا سکے گا؟ کیا کابینہ ایسا کوئی ہدف دے سکے گی کہ آئی ایم ایف کے قرضوں پر کسی صورت میں انحصار نہ کیا جائے؟کیا اراکین کابینہ اور اسمبلی یہ رضاکارانہ فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ اپنی تن خواہیں اور مراعات وصول نہ کریں ؟ تمام ہی وزراء کا تعلق خوش حال گھرانوں سے ہے۔وزیر اعظم ہوں یاکابینہ کے اراکین، کوئی ہدف مقرر نہیں کر سکیں گے، ان کا ہدف ایک ہی ہے کہ نواز شریف کی واپسی ہو یا پھر ان کی مقبولیت کے سہارے ن لیگ کو زندہ رکھا جائے۔ سعد رفیق کا یہ کہنا کہ ایک شریف کو بھیجو گے، دوسرا شریف لائیں گے، خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔انہوں نے محسوس کر لیا ہوگا کہ دانیا ل عزیز صرف عہدے کی خاطر وزیر مملکت کا حلف اٹھانے نہیں آئے۔ سارے لوگ جو سپریم کورٹ یا جے آئی ٹی کے عارضی دفتر کے باہر جو لفاظی کیا کرتے تھے یا بڑکیں مارتے تھے ، وہ صرف نواز شریف کو دکھانے کے لئے تھیں کہ ہم آپ کے وفادار ہیں۔ بعض کو کابینہ میں شامل کر کے صلہ بھی دے دیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی اور جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے دوران سوال جواب میں ہی نواز شریف اور دیگر افراد کو بہتر اندازہ ہو گیا تھا کہ کیا نتیجہ نکلنا ہے۔ اب نواز شریف جس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، جب وہ پارلیمنٹ میں تھے تو انہیں کس نے روکا تھا کہ وہ بتاتے کہ ان کی حکومت کے خلاف کون سازش کر رہا ہے۔کون ہے جو اس ملک کی ترقی کو روک رہا ہے۔ وہ یہ بھی تو بتاتے کہ ملک نے کیا ترقی کی ہے؟ جو ترقی ہوئی ہے وہ دوسروں کو کیوں نہیں نظر آتی؟ پاناما کے معاملے پر انہوں نے دو تقاریر کردیں لیکن ملکی معاملات پر انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک بھی تقریر ایسی نہیں کی جس سے قوم کو معلوم ہوتا کہ کون سے عناصر ان کی حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ نااہل کئے جانے کے بعد وہ جس قسم کی تقریریں کر رہے ہیں وہ سپریم کورٹ کی توہین کے زمرے میں آتی ہیں، انہیں احتیاط کرنا چاہئے۔

مزید : کالم


loading...