سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کی تنظیم نو ہوگی : چیف ایگزیکٹو آفیسر

سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کی تنظیم نو ہوگی : چیف ...

  



لاہور(کامرس رپورٹر)پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریژکے چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب برانا نے کہا ہے کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ادارے کی تنظیم نو کی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز لاہور ایوان صنعت و تجارت میں لاہور اکنامک جرنلٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک خصوصی نشت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سرمایہ کاری کے حوالے سے موذوں صوبہ ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔اس موقع پر لیجا کے صدر زاہد عابد نے لیجا کے اغراض و مقاصد بتائے جب کہ سیکرٹری جنرل شہرام الحق نے تقریب کا باقائدہ آغاز کیا۔ لیجا کے نائب صدر اشرف مہتاب نے ووٹ تھینکس ادا کیا جب کہ تقریب میں لیجا کے ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سی ای او پی بی آئی ٹی کا کہنا تھا کہ زراعت، لائیو سٹاک، توانائی، صحت، تعلیم، آئی ٹی اور ہاؤسنگ سیکٹر سرمایہ کاری کے حوالے سے بہتر سیکٹر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم نو آئند دو ماہ تک ہو جائے گی جس میں ادارے کی بہترین ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا۔ جہانزیب نے یہ بھی کہا کہ ادارے کا مارکیٹنگ کا شعبہ بہت اچھا ہونا چاہیے اور ان کی کوشش ہے کہ اس کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی تنظیم نو کے بعد سرمایہ کاری کے حوالے سے سمت تعین کیا جائے گا کہ کس سیکٹر میں سرمایہ کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سی ای او کا عہدہ ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور امید ہے کہ کچھ ہی عرصہ بعد اس کے ثمرات بھی سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ بہت زیادہ اور آئیسو لیٹڈ منصوبے لانے کی بجائے مثبت منصوبوں پر کام کیا جانا چاہیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ایک زرعی صوبہ ہے اس کی فی ایکٹر پیداوار بہت کم ہے اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ زرعی شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی صوبے میں زرعی زمینوں کو پانی لگانے کا نظام بہت پرانا ہے اس کو بدلنے ضرورت ہے تاکہ کم پانی سے زیادہ پیداوار لی جا سکے۔ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ جانور پالیں جائیں جو کم خوراک کھا کر زیادہ دودھ دیں۔ صحت کے حوالے سے بھی ان کا موقف تھا کہ مریض کے ڈیٹا بیس کا ایک سنٹرلائز نظام ہونا چاہیے تاکہ دور دراز دیہات سے شہر وں کی طرف آنے والے مریضوں کا پیسہ اور وقت بچایا جا سکے۔ دیہات میں تشخیص کے حوالے سے جدید نظام لانا چاہیے تاکہ دیہات سے آنے والے مریضوں کا شہری ہسپتالوں سے رش کم کیا ج سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمارا پنجاب بھارتی بنگلور کی طرح آئی ٹی سیکٹر میں آگے نکلے تاکہ یہاں کے با صلاحیت نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں اور صوبے کی فی کس آمدن میں اضافہ سکے۔سی ای او پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری لانے کے لیے ضروری ہے کہ انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے ۔ انہوں ں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ پانچ برس میں اس حوالے سے بڑی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے سی پیک کا ذکر کیا اور کہا کہ ابھی بھی100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے جو بھی سرمایہ کار آئے گا وہ سب سے پہلے یہاں کے انفراسٹرکچر کو دیکھ کر اندازہ لگائے گا کہ یہاں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور پنجاب کی جی ڈی پی کے حوالے سے ڈیٹا اکھٹا کرنے کی کوشش جاری ہے اور بہت جلد ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مزید : کامرس


loading...