جرمنی سے مہاجرین کو ملک بدر کر کے یونان بھیجنے کا فیصلہ

جرمنی سے مہاجرین کو ملک بدر کر کے یونان بھیجنے کا فیصلہ

  



ایتھنز(این این آئی)یونانی وزیر برائے مہاجرین یوانِس موزالاس نے کہاہے کہ 2011 کے بعد پہلی مرتبہ ’ڈبلن ضوابط‘ کے تحت جرمنی سے مہاجرین کو ملک بدر کر کے یونان بھیجا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بات کی تصدیق یونانی وزیر برائے مہاجرین یوانِس موزالاس نے جرمنی کے عوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کی۔ اس فیصلے پر فوری طور پر ردِ عمل بھی دیکھا گیا۔ یورپ میں مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی تنظیم ’پرو ازْول‘ نے اس فیصلے کو ’اخلاقی طور پر ایک ناجائز عمل‘ قرار دیا ہے۔ڈبلن ضوابط کے تحت ملک بدریوں کا اطلاق ایسے تارکین وطن پر کیا جائے گا جو مارچ 2017 کے بعد یونان سے نکل کر پناہ کی تلاش میں جرمنی یا یورپی یونین کے کسی دوسرے رکن ملک پہنچے ہیں۔ جرمنی سے سن 2011 کے بعد پناہ کے متلاشی کسی غیر ملکی کو ملک بدر کر کے واپس یونان نہیں بھیجا گیا۔ ڈبلن ضوابط پر عمل درآمد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پناہ کا ناقص نظام قرار دیا جاتا ہے۔ڈبلن ضوابط کہلانے والے اس یورپی معاہدے کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی صرف اسی ملک میں پناہ کی درخواست جمع کرا سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوا ہو۔ عام طور پر سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے زیادہ تر تارکین وطن اٹلی اور یونان ہی پہنچتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...