ایران ٹارگٹ کلر اورجاسوس ہمارے ملک میں بھیج رہاہے،افغان الزام

ایران ٹارگٹ کلر اورجاسوس ہمارے ملک میں بھیج رہاہے،افغان الزام

  



تہران(این این آئی)پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دوسری حکومتوں کو تہران کا وفادار بنانے کے لیے ایرانی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دیگر ملکوں کی طرح افغانستان بھی ایران کا اہم ہدف ہے۔ ایران افغانستان کو اپنا وفادار ملک بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی حکومت افغانستان میں طالبان شدت پسندوں کی مدد کررہا تاہے کہ بدلتے حالات میں کابل کو تہران کا وفادار بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان سرحد پر ’فرح‘ نامی ایک شہر واقع ہے۔ اس شہر کا کچھ حصہ افغانستان اور کچھ ایران میں ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ سرحد پار بھی آتے جاتے ہیں۔افغان حکام یہاں پرسرگرم طالبان کو ’ایرانی طالبان‘ کا نام دیتے ہیں۔ ایرانی طالبان انہیں اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ ایران کے شہری ہیں بلکہ انہیں ایرانی رجیم کی جانب سے مدد اور معاونت مل رہی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق تہران اور طالبان کے درمیان باہمی محبت کا انوکھا رشتہ قائم ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی مہمات میں توسیع کے بعد طالبان اور ایران کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ایران افغانستان میں تعینات مغربی قوتوں کو کمزور کرنے کے لیے طالبان کو استعمال کررہا ہے۔ ایران افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا منتظر ہے، امریکی وہاں سے نکلیں اور ایران خلا پرکرتے ہوئے کابل میں تہران نواز حکومت قائم کرنے کے لیے دوڑ پڑے۔امریکی اخبار کے مطابق ایران طالبان کو مالی اور فوجی مدد فراہم کررہا ہے۔ حتیٰ کی ایران میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے نوجوانوں کو طالبان میں بھرتی کرانے میں بھی پیش پیش ہے۔

افغان حکومت کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے ہاں سے ٹارگٹ کلر اور جاسوس افغانستان میں داخل کرنا شروع کیے ہیں۔ ایرانی پولیس اور حکومتی عہدیدار بھی افغانستان میں داخل ہوتے ہیں تاہم ایران ان الزامات کی نفی کرتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...