ادھورا مشن مکمل کر کے شہدا کا قرض چکایا جا سکتاہے

ادھورا مشن مکمل کر کے شہدا کا قرض چکایا جا سکتاہے

  



 گجرات میں قتل وغارت گری کی سب سے بڑی وجہ زر ‘ زن اور زمین ہے جبکہ دوسری بڑی وجہ سیاسی دشمنیاں بھی ہیں جب سے ملک میں جمہوری دور شروع ہوا ہے گجرات میں سیاسی دشمنیوں کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہارنے والا جیتنے والے پر الزامات اور بعض اوقات لڑائی جھگڑے اور بڑھتے بڑھتے یہ خاندانی دشمنی میں تبدیل ہو جاتے ہیں ایک مختاط اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد سیاسی دشمنی کی بنا پر قتل ہوئے اس وقت گجرات میں خطرناک اشتہاری مجرمان کی تعداد ہزاروں میں ہے جو یا تو بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں یا پھر روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں جرم اور قانون کی جنگ لڑتے لڑتے گجرات پولیس کے 69پولیس افسران و سپاہی شہید ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے سابق ڈی پی او رائے اعجاز احمد کے دور میں گجرات پولیس کے شہدا کی تصاویر پولیس لائن کے باہر لگا دی گئیں جبکہ پولیس کی یادگار سابق ایس پی مسعود خان بنگش کے دور میں تعمیر کی گئی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں اشتہاری مجرمان موت کے گھاٹ اترے اور ہزاروں گرفتار کر کے جیل بجھوا دیے گئے اگر یہ کہا جائے کہ یہ سلسلہ شہدا کی قربانیوں کی بدولت ختم ہو چکا ہے تو غلط ہو گا کیونکہ ہر دور میں اور ہر روز بعض ناانصافی پر مبنی فیصلوں کی وجہ سے لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز نہیں کرتے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یا تو وہ خود مرجاتے ہیں یا پھر کسی کو مار کر اشتہاری کی زندگی بسر کرتے ہیں مگر یہ مکافات عمل ہے کسی انسانی جان کا ضیاع کرنیوالا خود بھی اسی طرح ضائع ہوتا ہے کچھ عرصہ قبل سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو قتل وغارت گری کا سلسلہ کسی حد تک رک گیا تھا مگر اب پھانسی کا سلسلہ جو التوا کا شکار ہے او ر جرائم پیشہ افراد کو جب یہ علم ہوتا ہے کہ وہ قانون کی موم جیسی ناک موڑ کر بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر جرائم پیشہ افراد متحرک ہو جاتے ہیں پولیس کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں بے شمار ایسے پولیس مقابلے بھی براہ راست دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جن میں نہ صرف پولیس ملازمین و افسران نے جام شہادت نوش کیا بلکہ اشتہاری مجرمان بھی کیفر کردار تک پہنچے ملک میں جاری دہشت گردی کی فضا کی وجہ سے پولیس کے کندھوں پر مزید ذمہ داریاں عائد ہوئیں اور ان کے خلاف آپریشن کے دوران بھی متعدد پولیس افسران و ملازمین نے جام شہادت نوش کیا ان شہدا کی یاد میں پنجاب بھر میں 4اگست کو یوم شہدا منایا گیا ایک محتاط اندازے کے مطابق پنجاب بھر میں جرائم پیشہ افراد ‘ دہشت گردوں اور اشتہاری مجرمان کے خلاف لڑتے ہوئے کل 14سو پولیس افسران و ملازمین نے جام شہادت نوش کیا جن میں کانسٹیبل سے لیکر ایڈیشنل آئی جی تک شامل ہیں گجرات پولیس کے 69افسران و ملازمین نے شہادت کا رتبہ حاصل کیاجبکہ گجرات کا شہادت حاصل کرنیوالے ملازمین کے حوالے سے شمار ٹاپ ٹین اضلاع میں ہوتا ہے گزشتہ روز پولیس شہدا ڈے پولیس لائن میں انتہائی باوقار انداز سے منایا گیا جس کے مہمان خصوصی ڈی سی گجرات محمد علی رندھاوا جبکہ صدارت ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ نے کی اس موقع پر 69شہدا کے ورثا ‘ والدین ‘ بیوی ‘ بچے بھی موجود تھے جو اپنے پیاروں کی قد آور تصاویر کو دیکھ کر زارو قطار روتے ہوئے نظر آئے اس موقع پر ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ نے شہدا کے ورثا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیس فورس کے شہدا کے علاوہ رینجرز ‘ سول وفوجی افسران اور عوام کے شہدا کی تعداد بہت زیادہ ہے اور انہی کی بدولت آج پاکستان میں تقریبا دہشت گردی ختم ہو کر رہ گئی ہے پولیس کے شہدا بالخصوص ڈاکوؤں اور اشتہاریوں کیخلاف لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں مگر نائن الیون کے بعد پولیس بھی اپنی فوج کے ہمراہ شانہ بشانہ سماج دشمن عناصر کیخلاف لڑتی رہی ہے موجودہ افسران اور جرنیلوں سے لیکر سپاہیوں تک اور سپاہی سے لیکر آئی جی تک قربانیاں دے چکے ہیں اور عظیم ہیں وہ لوگ جنہوں نے پاک دھرتی کے دفاع کے لیے قربانی دی ان کی عظمت میں کوئی شک نہیں پولیس شہدا کا دن منا کر ہم نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ہم عظیم قوم ہیں اور اپنے شہدا کی قربانیوں اور احسانات کو یاد رکھتے ہیں ہمارے لیے انتہائی مقدم ہیں وہ والدین ‘ بہن بھائی جن کے پیاروں نے یہ قربانیاں دیں اب یہ محکمے کا فرض ہے کہ ان کی انفرادی اور اجتماعی طور پر دیکھ بھال کرے انہوں نے کہا کہ نادرا سے شناختی کارڈ بنوانے کا مسئلہ ہو یا بچوں کی تعلیم و تربیت کے علاوہ دیگر مسائل کے حل کے لیے نہ صرف آئی جی آفس میں ڈی آئی جی رینک کا ایک آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی انہیں وہ مقام دیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں ہم اعلی سے اعلی تعلیمی اداروں میں شہدا کے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے باپ کا نام روشن کر سکیں اس موقع پر ڈی سی محمد علی رندھاوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پولیس لائن میں شہدا کے ورثا کے ساتھ کچھ وقت گزار کر جو دلی خوشی ہو رہی ہے اسکا اندازہ لگانا میرے بس کی بات نہیں انہوں نے اندرونی و بیرونی عناصر کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تنخواہ تو سبھی لیتے ہیں مگر جو سرکاری افسران تنخواہ بھی لیتے ہیں اور پھر جان بھی نچھاور کر دیتے ہیں انکا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے گجرات کی سرزمین جس نے تین نشان حیدر حاصل کیے کے 69شہدا بھی وطن پر قربان ہوئے اور اپنی دھرتی کا نام پوری دنیا میں بلند رکھا وہ گجرات کے عوام کو سلام پیش کرتے ہیں جتنی مرضی کوئی سازشیں کر لیں ہم ہمہ وقت تیار ہیں ہماری معاشرے پر گہری نظر ہے اور سماج دشمن عناصر کیخلاف ہماری جنگ جاری رہے گی ہم پر شہدا کے جوانوں کا قرض ہے اور یہ قرض صرف اسی طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے ادھورے مشن کو پورا کریں تقریب کے اختتام پر شہدا کے ورثا میں لاکھوں روپے تقسیم کیے گئے اور بعد ازاں ان کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا اس موقع پر ڈی پی او اور ڈی سی شہدا کے ورثا سے گھل مل گئے ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی احکامات بھی جاری کیے ڈی سی محمد علی رندھاوا نے کہا کہ کیپٹن ندیم اور ایس ایس پی گوندل ان کے بڑے بہترین دوست تھے آج وہ دنیا میں نہیں رہے مگر انہوں نے وردی میں جام شہادت نوش کیا اور یہ ثابت کیا کہ انہیں وطن سے کس قدر محبت ہے پولیس لائن آمد پر ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ ‘ ڈی سی محمد علی رندھاوا نے یادرگار شہدا پر پھول چڑھائے فاتحہ خوانی کی اور پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی دی پولیس لائن میں ہونیوالی اس تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر ظہیر عباس چٹھہ ‘ اور دیگر انتظامی افسران نے بھی شرکت کی اور پولیس کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تجدید عہد بھی کی گئی کہ انتظامیہ اور پولیس مل کر معاشرے کے ناسوروں کیخلاف برسر پیکار رہیں گے اس سے پہلے پولیس اور انتظامیہ کا ایسا مثالی تعاون کبھی سامنے نہیں آیا جس کا تمام تر سہرا ڈی سی محمد علی رندھاوا اور ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ کے سر ہے ۔

***

مزید : ایڈیشن 2