گیارہ سالہ مغوی کیسے برآمد ہوا؟

گیارہ سالہ مغوی کیسے برآمد ہوا؟

  



 انصاف کی فراہمی معاشرتی اساس ہے جس کے بغیرکوئی معاشرہ آگے بڑھ نہیں سکتا، جرائم کا خاتمہ اولین ترجیح نہ ہونے کے باعث ہم جس معاشرتی استحصال کا ایک عرصہ تک شکار رہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عوام کا اعتماد بحال کرنا مشکل ہورہا ہے جس کیلئے اگرچہ تھانوں کی سطح پر پولیس ریفارمز کے باعث نہ صرف پولیس کلچر میں مثبت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں بلکہ پولیس کارکردگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے مگر اس کے باوجود پولیس کے مثبت کردار کی پذیرائی اور کارکردگی کا اعتراف خال خال دکھائی دیتا ہے جو کسی صورت مناسب نہیں ، پولیس سمیت کوئی بھی ادارہ اگر غلطیوں کوتاہیوں اور خامیوں کو اگر دور کرکے بہتری کی جانب گامزن ہے تو اس کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی ہونی چاہئے اس سے یہ گمان قطعی مناسب نہیں کہ پولیس کسی خوش فہمی کا شکار ہو کر اپنے اس مثبت کردار کی داعی نہیں رہے گی یا اسکی مخلصانہ کاروائیوں میں کمی آئے گی بلکہ محکمہ پولیس کا مورال بلند ہونے سے تعمیری رجحانات کو فروغ ملے گا اور پولیس ملازمین کی جرائم کے خاتمہ کی جدوجہد میں تیزی آئے گی، جس کا برملا اظہار ہمارے سامنے ہے جسے ثبوت کے طور پر یقیناًپیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ جب محکمہ پولیس شدید تنقید کے زد میں تھا ہر طرف سے پولیس ریفارمز کی باتیں ہورہی تھیں، پولیس کلچر کی تباہی کا رونا رویا جارہا تھا، پولیس کو درباری اور اقرباء پرور قرار دیا گیا ہے ان حالات میں آیا دیکھنا ہوگا کہ جرائم کے خاتمہ کیلئے پولیس کی جدوجہد زیادہ موثر ہوئی یا پولیس کو درکار مراعات کی فراہمی اور مناسب حوصلہ افزائی سے پولیس کا مورال بلند ہوا لہذاٰ تنقید برائے تنقید کسی صورت مناسب نہیں بلکہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنا قرین انصاف ہے اورجہاں ہم پولیس کی خامیوں پر دل کھول کر بحث کرتے اور سخت سے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہیں وہاں پولیس کی موثر کاروائیوں اور فرائض کی ادائیگی و فرض شناسی کے مظاہرہ کو بھی چیلنج کرنے یا نظر انداز کرنے کی بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور تسلیم کرنا چاہئے کہ محکمہ پولیس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو قانون کی بالادستی کی جدوجہد کے حامل اور فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہیں جبکہ کسی بھی معاشرہ میں عدل و انصاف کی بلاامتیاز فراہمی ، مجرموں کا قلع قمع و جرائم کی بیخ کنی، لاقانونیت کا تدارک ، آئین و دستور کی بالادستی ، امن و امان کا قیام، حقدار کو حق کی فراہمی، مظلوم کی داد رسی سمیت دیگر بے ضابطگیوں و برائیوں کے خاتمہ کا فقدان نہ صرف اقوام کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں شدید رکاوٹ بلکہ معاشرتی اقدار و احیائے انسانی کیلئے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے جبکہ آج جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں اس میں ایک عرصہ تک غالب خیال پایا گیا کہ جرائم کی بیخ کنی ممکن نہیں اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا نہیں جاسکتا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہم بحثیت قوم مجموعی طور پر نہ توماضی میں آئین کی بالادستی کی وہ حقیقی شکل دیکھ پائے ہیں کہ جس سے ہمیں ایک کامیاب معاشرہ کی تشکیل میں مدد ملے سکے اور نہ ہی ہم بحثیت شہری ایک پروقار زندگی کے حامل ثابت ہوئے ہیں بلکہ ہمارے ہاں پائی جانیوالی معاشرتی ابتری کے باعث ہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی تک سے محروم ہوتے چلے گئے اور ہم جس کسمپرسی کا شکار ہوئے اس کی بنیادی وجہ لاقانونیت کا پروان چڑھنا تھی اور اگر اس صورتحال کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تو تمام تانے بانے ہمارے نہایت بدترین ادارتی سسٹم سے جاملتے ، جس میں کرپشن و رشوت ستانی کے عروج کے باعث حق تلفی پروان چڑھی ،متاثرہ و مظلوم شہری دست التجاء اٹھائے داد رسی کے منتظر دکھائی دیئے تاہم اس ناامیدی و بے یقینی کے اندھیروں میں کسی مثبت ادارتی عمل کا سامنے آنا یقیناًاچمبہ کی بات تھی اور چونکہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کی کمی نہیں تھی لہذا کسی ایماندار و فرض شناس آفیسر کا وجود بلا شبہ کسی کرشمہ سے کم نہ تھا مگر ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز خان ورک کی تعیناتی کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہونا شروع ہوگئی اور پولیس کی نہ صرف کارکردگی میں بہتری آتی دکھائی دی بلکہ ادارتی کلچر بھی بہتر ہوتا چلا گیا جس کے باعث تھانوں کی سطح پر شہریوں کی داد رسی کا سلسلہ پروان چڑھااور مجرموں کے خلاف قانون کا آہنی شکنجہ کستا چلا گیا تاہم ایسے بعض کیسز جنہیں ٹریس کرنا پانا ماضی میں پولیس کے بس کی بات سمجھا نہیں جاتا تھا اس حوالے سے بھی زبردست پیش رفت سامنے آئی جس کی واضح مثال گزشتہ دنوں رونما ہونیوالی اغواء کی ایک ایسی واردات ہے جس میں ملزمان کی نہ تو کوئی ہوشیاری ان کے کام آئی اور نہ ہی پولیس نے ان تک رسائی کا موقع گنوایا ، اس واردات کا احوال یہ ہے کہ ملزمان محمد وقاص عرف شاپر سائیں ، محمد عابد عرف انگل سائیں اور شہزاد مسیح عرف گول سائیں نے گیارہ سالہ محمد زین کو مینار پاکستان لاہور سے اغوا کرکے کوٹ عبدالمالک کی آبادی کتی پورہ میں محبوس کردیا اور اس کی رہائی کے بدلے 10لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جس کی اطلاع بچے کے والد محمد نعیم نے پولیس کوکردی اور تمام احوال بیان کرتے ہوئے فوری کاروائی کی اپیل کی جس کی درخواست پر تھانہ سٹی اے ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرکے مغوی زین کی بازیابی کیلئے کاروائی کا آغاز کیا اور ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن شاہد رفیق نے حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے ایک پولیس پارٹی اس کیس پر مامور کردی جنہوں نے زین کی بازیابی کیلئے کام شروع کردیا، اسی اثناء میں ایک روز زین کے حوالے سے ملزمان کے موبائل فون سے تاوان کی ادائیگی کیلئے کا جو مسیج ملا وہ پولیس کیلئے بریک تھرو ثابت ہوا جس کی بابت موبائل فون ریکارڈ اور لوکیشن ٹریس کرلئے جانے کے باعث ملزمان تک رسائی کی امید بندھی اور ایس ایچ او شاہد رفیق نے وقت ضائع کئے بغیر فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس ملازمین کی ڈیوٹیاں ملزمان کی لوکیشن کے ایریا میں لگادیں تاکہ ملزمان مغوی زین کو کسی دیگر مقام پر شفٹ نہ کرسکیں اور کاروائی مزید آگے بڑھانا شروع کردی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت تمام تر وسائل اور توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے مسلسل کام جاری رکھا جبکہ ایس ایچ او اے ڈویژن شاہد رفیق نے خود اس ٹاسک کو کامیابی سے نمٹانے کیلئے ذاتی طور پر اس کاروائی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے محمد ادریس ایس آئی کے ہمراہ فروٹ فروخت کرنے والوں کے روپ دھار کر مسلسل گیارہ رو ز کی دن رات محنت کے بعد مغوی زین تک رسائی حاصل کرلی اورایک بھرپور کاروائی کے ذریعے نہ صرف ملزمان کو گرفتارکرلیا بلکہ مغوی زین کو زندہ سلامت بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئے اور بعدازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پیش کر وا کرزین کو اسکے والد محمد نعیم کے حوالے کیا، ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے مقامی عدالت سے ریمانڈ حاصل کرلیاگیاجنہوں نے دوران تفتیش بتایا کہ ہم تینوں رکشہ ڈرائیور ہیں اور نشہ پورہ کرنے کے لیے بچہ کو اغواء کیا تھا جبکہ ملزمان سے جاری تفتیش میں مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں تو دوسری طر ف ڈی پی او سرفراز خان ورک نے اے ڈویژن پولیس 5000/-نقد انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا ، ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن شاہد رفیق اور اس کیس میں انکی سربراہی میں کام کرنیوالی پولیس ٹیم یقیناًخراج تحسین اور انعام کی حقدار ہے کیونکہ انہوں نے مغوی زین کی بحفاظت بازیابی یقینی بنا کر نہ صرف قانون کی عملداری کی نئی تاریخ رقم کی ہے بلکہ ثابت کیا ہے کہ پولیس مستعد اور باصلاحیت ہے جو ہرطرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے اور کوئی بھی مجرم چاہے کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا تو دوسری طرف اس کامیاب پولیس کاروائی نے ان لاکھوں مایوس افراد کے دلوں میں پائے جانے والے خدشات کا بھی خاتمہ کردیا ہے جو ماضی کے پولیس کردار کے باعث نا امید و مایوسی کا شکار تھے ان پر واضح ہوا ہے کہ ضلع پولیس میں ایس ایچ او شاہد رفیق جیسے باصلاحیت و کرائم فائیٹر پولیس افسران کی موجودگی انہیں انصاف کی فراہمی کی ضمانت ہے اور اسی طرح جرائم پیشہ عناصر کو بھی کھلا پیغام ملا ہے کہ اب نہ صرف جرم انجام دے پانا مشکل ہے بلکہ کسی جرم کے ارتکاب کے بعد پولیس سے بچ پانا قطعی ممکن نہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...