آزادی کے 70برس اور ہماری خواتین ملکی ترقی و استحکام میں خواتین کا کردار قابلِ تحسین ہے

آزادی کے 70برس اور ہماری خواتین ملکی ترقی و استحکام میں خواتین کا کردار قابلِ ...

  



رب کریم کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 70برس ہو رہے ہیں۔ 1947ء میں برطانوی پنجہ استبداد سے برصغیر ہندوستان کو چھٹکارا ملا اور دو ملک بھارت اور پاکستان ظہور میں آئے۔ ریڈ کلف ایوارڈ کے نتیجہ میں تقسیم کی جو لکیر کھینچی گئی، دیکھتے ہی دیکھتے وہ آگ اور خون کا دریا بن گئی۔ جہالت، جنون اور پاگل پن کے آسیب نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ جما لیا۔ کل کے گہرے ہمسائے آج کے جانی دشمن بن گئے اور پانچ دریاؤں کے پانی جو امرت سے زیادہ میٹھے تھے انسانی لہو کا ذائقہ دینے لگے۔ کنویں لاشوں سے اَٹ گئے اور دریاؤں کے پانیوں نے نازک ابدان کو اپنی لہروں میں چھپا لیا۔ اب جو پیچھے مڑ کر، شیشے کی فصیل کے پار دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آنکھیں دکھنے لگتی ہیں اور دل کی مرمراہٹ میں بے قاعدگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس مملک خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و عورت کی تخصیص ہرگز نہیں ہے۔ مردو خواتین دونوں نے آزادی کے حصول کے لئے مال و جان کے نذرانے پیش کئے ہیں۔

ہمارے قائد اعظمؒ کو اپنی خواتین کی اہمیت کا کامل اندازہ اور ان کی ہمت و جرات کا پورا ادراک تھا۔ ایک آزاد ملک حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہماری خواتین مادرِملتؒ کی رہنمائی میں مردوں کے شانہ بشانہ تھیں۔مردوں ہی کی طرح انہوں نے تلواریں سونت کر اپنے عظیم قائدؒ کے محافظ کے فرائض بھی سر انجام دیئے تھے۔ آزادی کی جدوجہد میں خواتین کے کردار کے بارے میں جس قدر میں مطالعہ اور تحقیق کرتی ہوں اسی قدر حیرت زدہ ہوتی جاتی ہوں۔ آج کی عورتوں کو بہت کم احساس ہے اس بات کا کہ تحریک آزادی کے دوران ہماری خواتین نے کیا کردار ادا کیا تھا اور کس دلیری اور جانفشانی سے مطلوب و مقصود پایا تھا۔ کردار کی اسی عظمت کا نتیجہ ہے کہ آج ستر برس گزرجانے کے بعد ہماری خواتین طب و سائنس، انجینئرنگ اور فن تعمیر، سیاست اور اقتصادیات، فوج اور کھیلوں کے ساتھ ساتھ فضائے بسیط میں اور سربفلک چوٹیوں پر اپنی ہمتوں کے پھریرے لہرا رہی ہیں۔ جونہی یہ احساس دل میں جاگتا ہے، پورے جسم میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ میں خود کو ایک عظیم مملکت کا فرد تصور کرتی ہوں اور ان منفی سوچوں کو ذہن سے جھٹک دیتی ہوں جو صرف مایوسی کے احساس کو جنم دیتی ہیں۔

بظاہر دیکھو تو یوں لگتا ہے جیسے آزادی کے ستر برس پلک جھپکتے گزر گئے ہیں۔ ہم ہر سال یوم آزادی پر تجدیدِ عہد کی بات کرتے ہیں لیکن عہد دہراتے ہیں نہ تجدید کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم نسیان کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ہماری سیاسی و معاشی اور معاشرتی ابتری اسی صورت بہتر ہو سکتی ہے اگر ہم اپنے روزو شب کا حساب ہر دم کریں اور بے صبری اور ناامیدی کو اپنے پاس پھٹکنے نہ دیں۔

مجھے اپنی خواتین سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان فرائض کی بجا آوری کے دوران جو ایک تنظیم کی سربراہ کے طور پر مجھ پر واجب تھے، میں نے خواتین کے اقوال اور افعال کو بہت قریب سے اور بڑی باریک بینی سے دیکھا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ ہماری خواتین قومی اور سماجی تقاضوں کو اپنی ذاتی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے یہ رجحان اس کی ترقی اور استحکام کے لئے اشد ضروری ہے۔ پاکستان کی سربلندی اور سرفرازی کے لئے ہماری خواتین کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرتیں۔ ہم ان عورتوں پر کہ جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں جو وطنِ عزیز کی گندم کھاتی ہیں اور گن غیروں کے جاپتی ہیں۔

پاکستان سے ہماری محبت ڈکھی چھپی نہیں ہے۔ اس مملکت خداداد کی آن اور حرمت کے لئے ہم ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ ویسی ہی قربانی جیسی ہم سے 70برس پہلے ہماری عورتوں نے اس کے حصول کے وقت پیش کی تھی۔

بے انتہا خوشی کی بات ہے کہ آج سے چھٹے دن ہم 70واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ ہم اپنے قائدؒ اور مفکر پاکستان کے ممنون ہیں اور ان کی بلندئ درجات کے لئے دعا گو ہیں۔ ہم ان تمام افراد کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں جو آزادی کی راہ پر شہید ہو گئے تھے اور ان جرات مند لوگوں کے حق میں دعا کرتے ہیں جو اس ملک کی آزادی کے تحفظ اور اس کی سالمیت کے لئے سینہ سپر ہوئے اور جنہوں نے اس کی سرحدوں کو اپنے خون سے سینچا اور سینچ رہے ہیں۔

میری رفقاء اور میں نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ ہم اس ملک کی بہتری اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی اور اپنے اوقات کو حاجت مند افراد کی پریشانیاں دور کرنے میں کھپائیں گی۔ تعلیم،صحت اور صاف پانی کی فراہمی اس ملک کے لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ آزادی کے 71ویں برس میں ہم ان مسائل کو حل کریں گے جن کے سبب ہمارے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو رہی ہیں۔اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو۔

مزید : ایڈیشن 1