بھارت سمیت دنیا کے دیگر سفارتکاروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے،جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر جوہر سلیم کا تفصیلی انٹرویو

بھارت سمیت دنیا کے دیگر سفارتکاروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ ...
بھارت سمیت دنیا کے دیگر سفارتکاروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے،جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر جوہر سلیم کا تفصیلی انٹرویو

  



برلن (عمر فاروقی /بلال حیدر رانا)جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر جوہر سلیم نے کہاہے کہ مجھے اپنے تیس سالہ کیریئرکے دوران دفتر خارجہ سمیت مختلف ممالک میں بحیثیت سفارتکار کام کرنے کا موقع ملا جن میں یورپ کے مختلف ممالک، ترکی اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات ہوئے بدلتے حالات اور رجحانات پر منحصرہوتے ہیں۔جب میں نے اپنے کیرئر کا آغاز کیا تب بین الاقوامی نظام بائی پولر تھا جبکہ دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد یورپ سمیت دنیا بھر میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوئیں ، تاہم بین الاقوامی معاملات میں کچھ چیزیں اپنی اہمیت اور اساسیت ہمیشہ برقرار رکھتی ہیں جیسا کہ معاشی تعلقات، تجارت اور ان سے جڑے دیگر معاملات ۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں عدم استحکام اور اس کے پاکستان پر اثرات نے پاکستان کی تجارتی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر کافی نقصان پہنچایاہے۔ انہی وجوہات کی بناپر پاکستانی شہریوں کو مختلف ممالک میں ویزے کے اجراءمیں مشکلات اورپاکستان کو غیر ملکی سرمایا کاری کے فقدان سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں ایک منجھے ہوئے سفارتکار کو اپنا جوہر دکھانا پڑتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اب پاکستان کے حالات تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہیں جس کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف موثراقدامات، معاشی استحکام اور جمہوری عمل میں تسلسل ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کو پزیرائی مل رہی ہے۔

جرمنی میں تعینات بھارتی سفیر مسزز مکتا دتا تومر سے آپکے تعلقات کیسے ہیں؟

بھارت سمیت دنیا کے دیگر سفارتکاروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ہندوستان اور دیگر ممالک کے سفاتکاروں سے مختلف تقاریب کے دوران باہمی ملاقات کے کئی مواقع میسر آتے ہیں اور مختلف قومی دنوں کے مواقع پر ہم لوگ ایک دوسرے کی تقاریب میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں۔ جب کبھی بھی ملکی سطح پر دو ممالک کے کے تعلقات میں تناو آئے تو آپس میں سفارتخانوں میں بھی تناو کی صورت پیدا ہوجاتی ہے تاہم بحیثیت سفیر یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے لئے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں یہاں تک کہ دوران جنگ بھی سفارتکار حالات کی بہتری کے لئے اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور قیام امن کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

آپ نا صرف یورپی یونین بلکہ دنیا کے ایک اہم ملک میں بحیثیتِ سفیر پاکستان کی ترجمانی کر رہے ہیں،اس اہم ذمہ داری کے تناظر میں آپ پاکستان کے موجودہ حالات کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جرمنی میں بطور پاکستانی سفیرتعیناتی میرے لئے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں۔بنیادی طور پر میرا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ فارن سروسز میں آنے سے سیاحت کے سلسلے میں مجھے پوری دنیا پھرنے کا اتفاق ہوا۔ میرے نزدیک دنیا مختلف کلچرز کا امتزاج ہے اور دنیا کو ایکسپلور کرنے کا شوق اور پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کرنے کا شوق مجھے فارن سروسسز کی طرف لے کر آیا۔پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے۔ پاکستانی معاشرہ کا ایک دوسرا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس کی بیشتر آبادی نوجوانواں پر مشتمل ہے ۔ یہ نوجوان پاکستان میں معاشی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار اداکر رہے ہیں۔مملکت پاکستان نے جس دلیری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے دنیا اس کی قائل ہے۔ پاکستان میں جی۔ ڈی۔ پی کی گروتھ، جمہوری روایات کا فروغ اور بیرونی سرمایا کاری کا بڑھتا ہو رجحان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان صحیح سمت کی جانب گامزن ہے، اور میں پر اُمید ہوں کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔

سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حالیہ دنوں میں جرمنی نے بھی اس میگا پروجیکٹ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ، اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

میرے خیال میں سی پیک پاکستان میں معاشی ترقی کا ایک بہترین منصوبہ ہے۔ اگر ہم جرمنی کا ذکر کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی اس منصوبے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ سی پیک میں توانائی ایک اہم شعبہ ہے اور جرمنی متبادل توانائی کے شعبہ میں دنیا میںورلڈ لیڈر کی حیثیت کا حامل ہے، اس سلسلے میں جرمنی اپنا کردار ادا کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان میں تھر کے مقام پر دنیا کے کوئلے کے ساتواں بڑا ذخیرہ دریافت ہو اہے، ایسے ہی جرمنی بھی میں کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جن سے وہ مستفید بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان اس شعبے میں جرمنی کے تکنیکی مہارت اورپیشہ ورانہ تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مجھے ذاتی طور پر جرمنی میں موجود کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کا دورہ کر نے کا اتفاق ہوااس دوران یہاں توانائی کے شعبہ کے بہترین اداروں سے منسلک اہم شخصیات سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو بھی ہوئی۔یہاں موجود کئی ادارے پاکستان کے توانائی کے شعبہ میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جرمنی میں توانائی کے ماحول دوست ذرائع پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، آپ کے خیال میں کیا یہ بہتر نہیں کہ پاکستان بھی کوئلہ کے بجائے عالمی ماحولیاتی تحفظ کو مد نطر رکھتے ہوئی متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دے؟

جی پاکستا ن متبادل توانائی کے شعبے میں جرمنی کے تجربوں سے فائدہ اٹھا سکتا جن میں ونڈ ٹربائنز، اورشمسی توانائی کے ذرائع سر فہرست ہیں تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ کوئلہ سے بھی ماحولیاتی محرکات کو محفوظ رکھتے ہوئے توانائی پیدا کیا جا سکے اور پاکستان کو اس سلسلے میں جرمنی سے ضرور فائدہ اٹھانہ چاہیے تا کہ ہم اپنے کوئلے کے ذخائر کا بھی بہترین استعمال کر سکیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی سفارتخانہ ہمہ وقت کوشاں ہے اور حال ہی میںہم نے توانائی کے شعبہ سے متعلق جرمنی کے شہر ڈوزلڈورف میں ایک گول میز کانفرنس منعقد کی جس میں جرمنی کی نمایاں فرمز نے شرکت کی او رپاکستان میں اس شعبہ پر سرمایاکاری میں گہری دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔

یورپ میں دائیں بازوکی سیاسی پارٹیاں اور اسلام مخالف تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں آپ دنیا کے ایک اہم مسلم ملک کے سفیر کی حیثیت سے ان معاملات کا کیسے تجزیہ کریں گے؟

یورپ میں اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوارجحان ایک افسوسناک حقیقت ہے تاہم شدت پسندی دنیا کے ہر معاشرہ میں پائی جاتی ہے ۔ میر ی رائے کے مطابق جرمنی میں اس طرز کے رجحانات موجود تو ہیں پر بہت کم پائے جاتے ہیں اور حال ہی میں میں فرانس اور آسٹریا میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے یہ واضح کیا ہے کہ دائیں بازو اور ان کے تشدد پسندانہ افکارکی سیاست کوعوام نے مسترد کر دیا ہے۔ یورپ کے لوگ یہ جان گئے ہیں کہ مختلف د ہشت گردتنظیموں مثلا ً دائش وغیرہ کو مسلمانوں کی اکثیریت نے مسترد کر دیا ہے اور ان کے تشدد پسندانہ افکار و اقدامات اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں مسلمان اور بالخصوص پاکستانی ملکی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے پرامن طریقے سے اپنا کاروبار زندگی اطمینان سے چلا رہے ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

جرمنی میں پاکستانی صنعت کاروں کے لئے تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں، ان مواقع سے مستفید ہونے کے لیے پاکستانی سفارتخانہ ان کو کس طرح رہنمائی فراہم کرتا ہے؟

جرمنی پاکستان کا اہم تجارتی پارٹنر ہے، اور اس سلسلے میں ٹیکسٹائل، لیدر اور دیگر شعبوں میں بہت سے پاکستانی یہاں پر کاروبار کر رہے ہیں۔ پاکستانی سفارتخانہ اس سلسلے میں ان کو ہر قسم کی معلومات اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔سفارتخانہ اس سلسلے میں مختلف ٹریڈ چیمبرز کے عہدداروں کی باہمی ملاقات کا اہتمام کرتاہے اور پاکستانی کاروباری شخصیات کے لئے مزید مواقع تلاش کرتا ہے۔میں خود بھی جرمنی کی منسٹری فار ایکنومک کارپوریشن اور فارن آفس سے تجارت کے فروغ کے حوالے سے ملاقات کرتا رہتا ہوں۔ حال ہی میں جرمنی کے فارن سیکریٹری نے کاروباری وفود کے ہمراہ پاکستان کا دو بار دورہ کیا اور سرمایہ کاری کرنے میںگہری دلچسپی بھی ظاہر کی۔جرمنی میں ہونیوالی مختلف تجارتی نمائشوں میں بھی سفارتخانہ تاجروں اور انڈسڑی سے مستصل لوگوں کو مکمل سہولت فراہم کرتا ہے۔

اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران آپ دنیا کی مختلف ثقافتوں کا بغور مشاہدہ کر چکے ہیں آپ کے نزدیک جرمنی کی ثقافت کن انفرادی خصوصیات کی حامل ہے؟

ہر ثقافت اپنے اندر ایک انفرادی حسن رکھتی ہے، جرمن معاشرہ مثالی نظم وضبط کا حامل ہے اوراللہ نے اس سرزمین کو انمول قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ علم و فن کے اعتبار سے بھی جرمنی بے پناہ اہمیت کا حامل ہے، فلسفہ، سائنس، آرٹس اور دیگر شعبوں میں جرمنی کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس وقت پاکستانی کمیونٹی بھی جرمنی میں مختلف شعبوں میں کردار

ادا کر رہی ہے۔ جرمنی سیاسی اور معاشی دونوں حوالوں سے ایک مستحکم ملک اور یورپین یونین میں کلیدی اہمیت کاحامل ہے۔

پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد جرمنی کی یونیورسٹیوں میںزیر تعلیم ہے، پاکستانی سفارخانہ ان پاکستانی طلبہ کی کیا رہنمائی اور مدد کرتا ہے؟

یہ سفارتخانہ پاکستانیوں کیلئے ہے اور اسکے دروازے ہمیشہ طلبا کیلئے کھلے ہیں۔یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ جرمنی میں پاکستانی طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ جرمنی میں سائنس اور ریسرچ کے شعبوں میں بہترین کام ہو رہا ہے اور پاکستانی نوجوانوں کو اس موقع سے بھرپور فائدہ حاصل کرنا چاہے۔ اس سلسلے میں ہم پاکستان میں مزید آگاہی فراہم کر رہے ہیں، اور پاکستانی طلبہ سے ملاقاتوں کا سلسہ بھی چلتا رہتا ہے۔ پاکستانی طلبہ کے لئے جرمن ویزے کی آسانی کے سلسلے میں ہم جرمن حکام سے ر ابطے میں ہیں۔

ٓٓآپ اپنی خاندانی زندگی کے حوالے سے ہمارے قارئین کو کچھ بتانا پسند کریں گے؟

میرے دو بچے ہیں ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے جو کہ ابھی پرائمری جماعتوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، میری اہلیہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتی و علمی تقریبات کے سلسلے میں ایک متحرک کردار ادا کرتی ہیں۔

جرمن میڈیا ادارے پاکستان کے حوالے سے اکثر منفی رپورٹنگ کرتے نظر آتے ہیںآپ کے خیال میں پاکستانی کے متعلق برے تاثر کوکس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

حال ہی میں میری ایک بڑے جرمن میڈیا ادارے کے منتظمین سے ملاقات ہوئی جس میں نے ان سے اس حوالے سے بات بھی کی کہ وہ پاکستان کے مثبت پہلووں کو بھی اپنی رپورٹنگ کا حصہ بنائیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ معاشی وجوہات کی بنا پرغیر قانونی طور پر جرمنی آنے والے کئی پاکستانی جو غیر قانونی سر گرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ وہ یہاں کی حکومت اور لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا کیس مضبوط بنانے کے لیے منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں جو جرمنی میں میڈیا کی منفی رپورٹنگ کا باعث بنتا ہے۔پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ دنیا کے جس ملک میں بھی جائیں قانونی طریقے سے جائیں اور وہاں مثبت سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کا نام روشن کریں۔

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد یورپ میں بہتر مستقبل کی خاطر غیر قانونی راستوں سے آنے کی کوشش کرتی ہے، آپ کا ایسے لوگوں کیلئے کیا پیغام ہے ؟

میں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں صرف ان لوگوں کے لئے مواقع ہیں جو قانونی حیثیت میں یہاں آتے ہیں۔ایسے لوگ جو کسی بھی غیر قانونی طریقے سے یہاں پہنچ جاتے ہیں ان کے لیے یہاں بے تحاشا مسائل ہیں۔ایسے لوگوں کی لیے یہاں کے قوانین انتہائی سخت ہیں اسی لیے ان غیر قانونی مہاجرین کو واپس ان کے ملکوں میں واپس بھجوایا جا رہاہے۔ مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوتا ہے کس طرح بعض معصوم لوگ جھوٹے اور سبز خواب دکھانے والے انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیںاور اپنی جان و مال دونوں ہی کو خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔ مزیدبرآں ایسے لوگ پہلے پرپیچ راستوں، سمندر اور مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے یورپ آنے کی کوشش کر تے ہیں جن میں سے کئی تو راستے میں ہی مر جا تے ہیں اور جو کسی بھی طریقے سے یہاں پہنچ بھی جائیں تو تبا ہی اور سوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے اوریہاں سے ان کی واپسی کے سوا کو ئی چارہ نہیں ہوتا۔ میں میڈیا کے توسط سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پچھلے سال کی طرح ا س سال بھی پا کستانیوں کی بڑی تعداد جو کہ غیر قانونی طور پر یہاں آ ئی تھی ، رضاکارانہ طور پر واپس وطن لوٹ گئی ہے جو کہ کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ آخر میں میری سب پاکستانیوں سے یہ اپیل ہے کہ صرف اور صرف قانونی طریقوں سے ہی جرمنی آئیں اور کسی کے ہاتھوں استعمال ہو کر اپنی جان اور اپنے گھر والوں کا قیمتی سرما یہ ضائع ہونے سے بچائیں ۔

مزید : بین الاقوامی


loading...