جی ٹی روڈ کہاں جائے گی؟

جی ٹی روڈ کہاں جائے گی؟
 جی ٹی روڈ کہاں جائے گی؟

  



یہ تاریخ کا منفردا عزاز ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اس وقت حکومت بھی ہیں اور اپوزیشن بھی، شاہد خاقان عباسی کی صورت میں ایک بااعتماد سیاسی کارکن بطور وزیراعظم ایک ایک حکم کی تعمیل کرنے کے لئے ہی موجود نہیں بلکہ پاکستان میں آبادی اور رقبے کے حوالے سے سب سے بڑے دونوں صوبوں پر بھی آئینی اور قانونی طور پر انہی کا حکم چلتا ہے۔ یہ سوال بجا ہے کہ اگر وہ حکومت میں ہیں تو اپوزیشن کیسے کرسکتے ہیں، یہ پاکستان کی تاریخ کی دلچسپ ترین صورت حال ہے، یوں تو پاکستان میں ہر صورت حال ہی اہم اوردلچسپ رہی ہے مگرموجودہ صورت حال کے اہم اور دلچسپ ہونے کا بیان ماضی کی تمام داستانوں سے کچھ سوا ہے، اب انہیں اس حکومت کی اپوزیشن کرنی ہے جو ہر دور میں پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت اور آئینی و قانونی حکومت پر بھی حاوی رہی ہے۔ اس اپوزیشن کے مقابلے میں کسی سیاسی اور جمہوری حکومت کی اپوزیشن تو ایک دعوت اور تفریح لگتی ہے۔ کیا یہ صورت حال آپ کو دلچسپ نہیں لگتی جس میں جو سیاسی جماعت بظاہر اپوزیشن میں ہے وہ حقیقت میں ملک پر حکمرانی کر رہی ہے اور جو سیاسی طاقت سب سے زیادہ ووٹ لے کر اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں وہ اسی طرح ٹارگٹ بنائی جار ہی ہے جس طرح کسی اپوزیشن جماعت کو بنایا جا تا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کے لئے باقاعدہ اصطلاحات موجود ہیں، ہم انہیں قانونی اور حقیقی حکمرانی میں تقسیم کر سکتے ہیں، نواز شریف ملک کے حقیقی حکمران نہیں ہیں۔ حقیقی حکمران وہ ہیں جن کے اشارے پر میاں نواز شریف کیلئے کچھ ٹی وی چینلزباقاعدگی کے ساتھ نااہل وزیراعٖظم کا لفظ استعمال کر رہے ہیں حالانکہ یہ لفظ سابق وزیراعظم بھی ہو سکتا تھا، عمران خان اور ان کے ساتھی اس وقت حقیقی حکمرانوں کاسیاسی چہرہ بنے ہوئے ہیں۔

میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا، ملک میں عوامی حاکمیت کے قیام کے دو ہی طریقے ہیں، ایک یہ کہ حقیقی حکمرانوں سے دوبدو لڑائی کی جائے،اس لڑائی کاکریڈٹ بھٹوفیملی کی قیادت میں پیپلزپارتی کو جاتا ہے جبکہ دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ سیاستدان بیچ کا راستہ نکالیں، اس کے بھی دو طریقے ہیں، ایک یہ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح این آر او کر لیا جائے، یہ شارٹ کٹ ہے ۔دوسرا یہ کہ اپنی ساکھ بحال کریں، عوامی مسائل حل کریں تاکہ آمریتوں کے لئے آسان ترین شکار سمجھے جانے والے معاشرے میں رفتہ رفتہ مزاحمت پیدا ہو سکے، یہ وہ بدقسمت معاشرہ ہے جس میں ایک سابق آمردھڑلے کے ساتھ آمریت کے فوائد اور جمہوریت کے نقائص بیان کرتا ہے۔ مسلم لیگ کبھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت نہیں رہی،اس جماعت میں اس وقت بھی فاختاؤں کا طوطی بولتا تھا جب اس جماعت کی حکومت ہی نہیں بلکہ آئین اور قانون کا بھی جنازہ نکال دیا گیا تھا۔ بہت سارے دوست یہ تصویر کشی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کسی بڑی خطرناک تحریک کی قیادت کرنے جا رہے ہیں۔ لطیفہ تو یہ ہے کہ وہ جو ملک کے حقیقی حکمرانوں کی دی ہوئی گارنٹیوں اور سیکورٹیوں میں جی ٹی روڈ پر ہی مٹھی بھر کارکنوں کے ساتھ سفر کرتے رہے وہ بھی نواز شریف کے جی ٹی روڈ پر سفر کوخطرناک قرار دے رہے ہیں۔ یہ بات سو فیصددرست ہے کہ جب اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ تحریک کی ایک مہرے کے طور پرقیادت کرتے ہوئے عمران خان لاہور سے روانہ ہوئے تھے تو ان کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد تین سے پانچ سو کے درمیا ن تھی، اگر ہر گاڑی میں پانچ افراد تصور کر لئے جائیں تو یہ تعداد پھر بھی اڑھائی ہزار سے زیادہ نہیں بنتی، آپ اپنی خوش فہمی کو دوگنا ، تین گنا اور چار گنا تک بھی بڑھا لیں تو دس ہزار سے زیادہ لوگ ان کے ساتھ نہیں تھے۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اگر یہ لوگ دس ہزار بھی ہوتے تو گوجرانوالہ میں چند مسلم لیگی کارکنوں کی طر ف سے برسائے گئے چند کنکروں پر ایسی راہ فرار اختیار نہ کرتے کہ ان کے لیڈر تک کی گاڑی کا پتا نہ چلتا۔

نواز شریف پر اعتراض ہے کہ وہ جی ٹی روڈ کو کیوں استعمال کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ جی ٹی روڈ کی پارٹی ہے، تحقیر آمیر لہجے میں بار بار ہونے والا یہ ذکر جی ٹی روڈ پر رہنے والوں کی سیاسی وابستگی اور وژن کی دانستہ توہین ہے، کیا یہ وہی جی ٹی روڈ نہیں ہے جہاں کے رہنے والے اپنے بیٹوں کو ارض وطن پر کٹ مرنے کے لئے سب سے زیادہ پیش کرتے ہیں، یہ ا ن کی حب الوطنی ہے اور مسلم لیگ نون پر اعتماد کا اظہار ان کی سیاسی فراست، مسلم لیگ نون کی توہین کرنے والوں نے جب پنجاب کی توہین کی تو پنجاب نے ان سے بدلہ لے لیا، اب جی ٹی روڈ پر آنے والے شہروں اور ان کے باسیوں کی توہین کی جا رہی ہے کیونکہ انہیں علم ہے کہ نواز شریف کے قافلے میں عوام کی بڑی تعداد ہو گی، اس میں وہ ڈرامہ نہیں ہو گا جو ایک لانگ مارچ میں ایک معزول چیف جسٹس کی گاڑی چلاتے ہوئے اعتزاز احسن کیا کرتے تھے۔ ہمارے ایک دوست آج کل قلم کاری کے بڑے جوہر دکھا رہے ہیں، ہمارے ہاں سب سے بڑا جوہر یہی ہے کہ ایک تحریرکے ایک پیراگراف سے ایک کو خو ش کر دو اور دوسرے پیرا گراف سے دوسرے کو، جب میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ خطرے میں نظر آ رہی تھی تو کہا گیا ’پارٹی از اوور‘، ہمارے ایک دوسرے دوست کا خیال ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، اول الذکر کے خیال میں وزارت عظمیٰ ہی پارٹی ہے جس میں مزا لوٹا جا سکتا ہے جبکہ دوسرے دوست کے خیال میں ملک میں حقیقی جمہوریت کے لئے جدوجہدہی اصل پارٹی ہے اگرچہ میں موخر الذکر دوست کی تشریح سے اتفاق کرتا ہوں مگر ا س کے باوجود ابھی تک مجھے وہ اشارے نہیں ملے جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ کوئی عوامی حاکمیت کے لئے کسی بڑی پارٹی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ میاں نوا ز شریف کی اب تک سامنے آنے والے تمام گفتگو اور تقاریر میں صرف اس پارٹی کے شروع ہونے بارے اشارے موجود ہیں۔ وہ ا س راز کو فاش کرنے کی باتیں کر رہے ہیں جس کے بارے میں تین ، چوتھائی پہلے ہی سب کو علم ہے۔ میرے خیال میں سابق وزیراعظم ابھی تک کوشاں ہیں کہ مفاہمت کے ذریعے راستہ نکالا جا سکے، گمان کیا جاسکتا ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی ابھی چل رہی ہو گی۔ شائد یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف ’’ نااہل‘‘ ہونے کے باوجود ابھی تک کھل کر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، وہ اپنے چاہنے والوں کے سامنے نااہل ہونے بارے عمومی قسم کی وضاحتیں پیش کر رہے ہیں۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام آباد کے ڈی چوک سے لاہور کے داتا دربار تک ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ میاں نواز شریف کا استقبال کریں گے اور یہ ان کی طرف سے سیاسی طاقت کا ایک موثر اظہار ہو گا مگر کیا جی ٹی روڈپر طاقت کے مظاہرے سے دوبارہ مفاہمت کی منزل پر پہنچا جا سکے گا، میرے ذہن میں اس بارے میں کافی شکوک و شبہات موجود ہیں۔میں مسلم لیگ نون کی طرف سے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے سامنے نظرثانی کی درخواست کو بھی حقیقی حکمرانوں کے ساتھ مفاہمت کی ایک اور دانستہ کوشش کا حصہ سمجھ سکتا ہوں۔مجھے پورا یقین ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت کسی طور بھی اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو جلاو گھیراو کی خفیہ ہدایات بھی نہیں دے گی کیونکہ وہ جی ٹی روڈ کے ذریعے بھی تصادم نہیں بلکہ مفاہمت کی منزل تک پہنچنا چاہتی ہے، کیا جی ٹی روڈ مفاہمت کی اس منزل تک ان کی رہنمائی کر سکے گی۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جی ٹی روڈ پر کوئی ڈیڈ لاک آجائے ، میاں نواز شریف جس راستے پر چل رہے ہیں وہ راستہ ہی ختم ہوجائے ، تب ممکن ہے کہ وہ پارٹی شروع ہوجائے جس کی امیدیں بہت سارے جمہوریت پسند لگائے ہوئے ہیں۔

مزید : کالم


loading...