اضافی ڈیوٹیاں ، پٹواری اصل فرائض بھو ل گئے ، لینڈر یو نیو ایکٹ کتابوں تک محدود

اضافی ڈیوٹیاں ، پٹواری اصل فرائض بھو ل گئے ، لینڈر یو نیو ایکٹ کتابوں تک ...

  



لاہور(اپنے نمائندہ سے)بورڈ آف ریونیو کے انتظامی افسران کی مبینہ غفلت اور صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کے عہدے پر فائز اعلیٰ افسران کی لاعلمی کے سبب محکمہ مال کے پٹواری سالہا سال سے اپنے بنیادی اور اصل فرائض بھول گئے،لینڈ ریونیو ایکٹ کے قوانین اور ہدایات صرف لاء بک تک محدود رہ گئیں۔روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے سینئر ممبر اور انتظامی افسران کی عدم دلچسپی کے باعث سالہا سال سے نہ تو قانون میں ترمیم کی جاسکی ہے اور نہ ہی قانون لینڈ ریونیو ایکٹ پر عمل درآمد کرنے لئے سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کے عہدے پر براجمان افسران کی کثیر تعداد محکمہ ریونیو سٹاف کو لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق کام کروانے کی بجائے اپنی مرضی کے ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے ان سے کام لینے میں مصروف ہے جس سے لاقانونیت ،بدنظمی ،کرپشن ،ریکارڈ میں ردوبدل ، ختیارات کا ناجائز استعمال ،رشوت وصولی جیس شکایات عام روٹین کا حصہ بن چکی ہیں اور پٹواریوں کی کثیر تعداد اپنی اصل ذمہ داری سے بے خبر ہو کر اضافی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں ،پٹواریوں کے ذمہ جو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں ان میں ا نسانوں یا حیوانوں میں طاعون ،چیچک یا کسی دیگر وباء کے پھوٹ پڑنے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر یا وٹرنری اسسٹنٹ کو بروقت اطلاع دینا،حیوانات کی موت کے متعلق ہر مہینہ کی یکم سے پندرہ تاریخ کو پندرہ روزہ وٹرنری اسسٹنٹ کو اطلاع ، پٹواری کا یہ بھی فرض ہے کہ اگر اس کے حلقہ میں کوئی ایسی آفت واقع ہو جس سے زمین ،فصلات اور مویشیوں یا کاشت کاروں کو نقصان پہنچے تو اس کے متعلق تحصیلدار اور فیلڈ قانونگو دونوں کو تحریری رپورٹ کرے۔ اپنے متعلقہ حلقہ میں نمبردار کی کوئی اسامی خالی ہو تو پٹواری فوری طور پر یعنی اسامی خالی ہونے سے دو دن کے اندر گرداور اور قانونگو کی مداخلت کے بغیر ضروری نقشہ کے ساتھ اسکی رپورٹ تحصیلدار کو کرے،پٹواری کو چاہئے کہ وہ یہ پڑتال کرنے کے لئے کہ وراثت سے متعلق تمام انتقالات کا باقاعدہ انداراج ہوا ہے ،چوکیدار کے رجسٹرڈ پیدائش و اموات کا معائنہ کرے،نا م ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کئی پٹواریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پوری طرح احساس اور ادراک ہے لیکن ہم کیا کریں ہمارے حقیقی فرائض سے زیادہ ہم پر اضافی ڈیوٹیوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے ،حکومتی جلسوں سے لے کر ،پرائس کنٹرول کمیٹیاں،ایل پی جی چھاپے،سرکاری پروٹوکول ،سرکاری ترقیاتی پراجیکٹ میں لگنے والی اضافیاں ہمیں ہمارے اصل فرائض سے دور کر دیتی ہیں۔بورڈ آف ریونیو کے ترجمان نے کہا ہے کہ اضافی ڈیوٹیاں مہینے میں چند بار لگتی ہیں لیکن اس کے بعد ہر پٹواری کو لینڈ ریونیوایکٹ اور اپنی مرضی سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی پابندی نہیں۔

،مستقبل قریب میں لینڈ ریونیو ایکٹ پر پوری طرح عمل درآمد اور پٹواریوں سے ان کی اصل ڈیوٹیوں لینے کے متعلق باقاعدہ لائحہ عمل مرتب کر لیا جائے گا۔

لاہور(اپنے نمائندہ سے)بورڈ آف ریونیو کے انتظامی افسران کی مبینہ غفلت اور صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کے عہدے پر فائز اعلیٰ افسران کی لاعلمی کے سبب محکمہ مال کے پٹواری سالہا سال سے اپنے بنیادی اور اصل فرائض بھول گئے،لینڈ ریونیو ایکٹ کے قوانین اور ہدایات صرف لاء بک تک محدود رہ گئیں۔روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے سینئر ممبر اور انتظامی افسران کی عدم دلچسپی کے باعث سالہا سال سے نہ تو قانون میں ترمیم کی جاسکی ہے اور نہ ہی قانون لینڈ ریونیو ایکٹ پر عمل درآمد کرنے لئے سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کے عہدے پر براجمان افسران کی کثیر تعداد محکمہ ریونیو سٹاف کو لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق کام کروانے کی بجائے اپنی مرضی کے ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے ان سے کام لینے میں مصروف ہے جس سے لاقانونیت ،بدنظمی ،کرپشن ،ریکارڈ میں ردوبدل ، ختیارات کا ناجائز استعمال ،رشوت وصولی جیس شکایات عام روٹین کا حصہ بن چکی ہیں اور پٹواریوں کی کثیر تعداد اپنی اصل ذمہ داری سے بے خبر ہو کر اضافی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں ،پٹواریوں کے ذمہ جو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں ان میں ا نسانوں یا حیوانوں میں طاعون ،چیچک یا کسی دیگر وباء کے پھوٹ پڑنے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر یا وٹرنری اسسٹنٹ کو بروقت اطلاع دینا،حیوانات کی موت کے متعلق ہر مہینہ کی یکم سے پندرہ تاریخ کو پندرہ روزہ وٹرنری اسسٹنٹ کو اطلاع ، پٹواری کا یہ بھی فرض ہے کہ اگر اس کے حلقہ میں کوئی ایسی آفت واقع ہو جس سے زمین ،فصلات اور مویشیوں یا کاشت کاروں کو نقصان پہنچے تو اس کے متعلق تحصیلدار اور فیلڈ قانونگو دونوں کو تحریری رپورٹ کرے۔ اپنے متعلقہ حلقہ میں نمبردار کی کوئی اسامی خالی ہو تو پٹواری فوری طور پر یعنی اسامی خالی ہونے سے دو دن کے اندر گرداور اور قانونگو کی مداخلت کے بغیر ضروری نقشہ کے ساتھ اسکی رپورٹ تحصیلدار کو کرے،پٹواری کو چاہئے کہ وہ یہ پڑتال کرنے کے لئے کہ وراثت سے متعلق تمام انتقالات کا باقاعدہ انداراج ہوا ہے ،چوکیدار کے رجسٹرڈ پیدائش و اموات کا معائنہ کرے،نا م ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کئی پٹواریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پوری طرح احساس اور ادراک ہے لیکن ہم کیا کریں ہمارے حقیقی فرائض سے زیادہ ہم پر اضافی ڈیوٹیوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے ،حکومتی جلسوں سے لے کر ،پرائس کنٹرول کمیٹیاں،ایل پی جی چھاپے،سرکاری پروٹوکول ،سرکاری ترقیاتی پراجیکٹ میں لگنے والی اضافیاں ہمیں ہمارے اصل فرائض سے دور کر دیتی ہیں۔بورڈ آف ریونیو کے ترجمان نے کہا ہے کہ اضافی ڈیوٹیاں مہینے میں چند بار لگتی ہیں لیکن اس کے بعد ہر پٹواری کو لینڈ ریونیوایکٹ اور اپنی مرضی سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی پابندی نہیں۔

،مستقبل قریب میں لینڈ ریونیو ایکٹ پر پوری طرح عمل درآمد اور پٹواریوں سے ان کی اصل ڈیوٹیوں لینے کے متعلق باقاعدہ لائحہ عمل مرتب کر لیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...