وہ واحد آدمی جو آگ کی بجائے شیشے سے روزانہ ڈھیروں مرغیاں پکا تا ہے

وہ واحد آدمی جو آگ کی بجائے شیشے سے روزانہ ڈھیروں مرغیاں پکا تا ہے
 وہ واحد آدمی جو آگ کی بجائے شیشے سے روزانہ ڈھیروں مرغیاں پکا تا ہے

  



بنکاک ( مانیٹرنگ ڈیسک ) آپ نے چکن روسٹ کرنے کے کئی طریقے دیکھے ہوں گے لیکن تھائی لینڈ میں ایک شخص نے اس کا ایسا طریقہ دریافت کر ڈالا ہے کہ ہر دیکھنے والا دانتوں میں انگلی دبا کر بس دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سلہ سوتھارت نامی یہ شخص سڑک کنارے روسٹڈ چکن فروخت کرتا ہے اور وہ چکن کی تیاری کے لئے کسی چولہے یا کوئلے کا استعمال نہیں کرتا بلکہ چکن کو سورج کی روشنی سے تیار کرتا ہے۔ سوتھارت بھی پہلے تمام دکانداروں کی طرح چکن پکانے کے لئے کوئلے کا استعمال کرتا تھا لیکن یہ سب 1997ء4 میں اس وقت بدل گیا جب سلہ نے ایک دن بس کے شیشے پر پڑنے والی سورج کی روشنی کی وجہ سے تپش محسوس کی اور اس نے سوچا کہ وہ اس حرارت کو چکن پکانے میں استعمال کرسکتا ہے۔اس کے بعد اس نے شیشوں کی مدد سے ایسا چادرتیارکرنی شروع کی جس سے وہ سورج کی روشنی کو صحیح طریقے سے کام میں لا سکے۔بالآخروہ ایک ہزار چھوٹے چھوٹے شیشوں کی مدد سے یہ چادر تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا جس سے اتنی حرارت آتی ہے کہ ایک مرغی 10سے 15منٹ میں پک جاتی ہے۔

سوتھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کی اس ایجاد سے 312ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا ہوتی ہے اس لیے وہ باورچی کا لباس پہننے کی بجائے ہمیشہ ویلڈنگ ماسک پہن کر رکھتا ہے۔سوتھارت کا کہنا تھا کہ ’’شروع میں لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ تم پاگل ہو گئے ہو، ایسے کبھی چکن تیار نہیں کیا جا سکتا لیکن جب میں نے چادر تیار کر لی اور سورج کی روشنی میں مرغیاں پکانے لگا تو دیکھ کر وہ سب لوگ حیران رہ گئے۔ اب میرا یہ طریقہ ہی میرے کاروبار میں بڑھوتری کا باعث بنا کیونکہ گاہک اس انوکھے طریقے سے پکنے والا چکن کھانے کے لیے خود ہی چلے آتے ہیں۔ اب مجھے اس طریقے سے چکن پکاتے ہوئے 20سال ہو گئے ہیں۔‘‘

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...