اپنا قائد ، اپنا چیف

اپنا قائد ، اپنا چیف

  



سارا گاؤں اسے بابار ب کے نام سے پکارتا تھا ،کرامات تو خیر تھیں ہی اس کی ایک آنکھ بھی کام نہیں کرتی تھی اور گاؤں کا کوئی فیصلہ اس کے پاس آتا تو وہ بغیر کسی لحاظ کے فیصلہ صادر کردیتااور پورا گاؤں اس پر بلا چوں و چراں عمل کرتا۔ لوگ کہتے تھے کہ بابار ب سب کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے اور کسی کے خلاف زیادتی نہیں ہونے دیتا۔ وہ لگ بھگ 95برس کا ہوگا لیکن آج بھی اپنے بیٹوں کے بیٹوں کے ننھے منے بیٹوں کے ساتھ کھیتوں میں جاتا ، سارا دن کام میں جتا رہتا اور شام میں گھر کی بیٹھک میں دور دراز سے آئے ہوئے اپنے مریدوں کے دکھڑے سنتا، انہیں کھانے کھلاتا اور رات گئے چارپائی پر جا سوتا۔

لوگ بتاتے تھے کہ ایک زمانے میں بابا رب بڑا جلالی تھا۔ اس نے اپنے مرشد کے حکم پر ہر چلے اور ہر ریاضت کو بڑے دل سے کیا تھا ، گھر میں سب سے بڑا بیٹا تھا ، اس کے بوڑھے باپ کو اس کی مدد تعاون کی اشد ضرورت رہتی مگر وہ سرمستی میں سرشار کام کاج سے الگ تھلگ کسی کونے میں بیٹھا تصور حقیقی میں کھویا رہتا۔ زبان میں تاثیر کا یہ عالم تھا کہ اگر بھولے سے کسی جانور کو کہہ دیتا کہ ’مروی‘ تو چند ہی دنوں میں اس کی حالت غیر ہو جاتی ۔ یہ صورت حال دیکھ کر بوڑھے باپ نے اس کے مرشد سے جا عرض کی کہ حضور ! علی محمد میرا سب سے بڑا بیٹا ہے ، کھیتی باڑی کے لئے مجھے اس کے سہارے کی ضرورت ہے مگر وہ تو ہر شے سے لاغرض ہو چکا ہے ، اسے بلائیے اور حکم دیجئے کہ وہ کھیتوں میں کام کیا کرے۔ مرشد نے بلا بھیجا اور کہا ! علی محمدآج سے تم کھیتی باڑی کیا کرو گے ، یہی تمھاری ڈیوٹی ہے ۔ اس وقت وہ بیس کے پیٹے میں ہوگا ، تب سے 95برس کی عمر تک اس نے مینہ دیکھا نہ آندھی ، گرمی دیکھی نہ سردی اور کولہو کے بیل کی طرح کام پر جتا رہا اور جس لمحے اس کی موت واقعہ ہوئی اس وقت بھی اس کے ایک ہاتھ میں درانتی اور دوسرے میں گندم کے ڈانڈوں کا گُھچا تھا۔ یہی نہیں اس کے چھوٹے بھائی نے گھر والوں کو بتایا کہ اس نے کہا تھا کہ میری موت کے بعد مجھے کھیتوں میں ہی دفنانا...آج وہ اسی کھیت میں دفن ہے اور اس کے مرید ہر سال اکٹھے ہوتے ہیں ، ڈھول بجتے ہیں اور بھنڈارا تقسیم ہوتا ہے ۔نہ جانے آئندہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا!

نواز شریف ایک بزنس فیملی سے تعلق رکھتے تھے ، ملک کی دیگر بزنس فیملیوں کی طرح ان کی فیملی کو بھی سیاست سے خاص شغف نہ تھا۔ میاں شریف اپنی کماتے ، اپنی کھاتے تھے اور بقول حمزہ شہباز کے سارے گھر والوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے کو ترجیح دیتے ۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سلیم غوری کے والد رحمت اللہ غوری بتاتے ہیں کہ وہ 1952میں لاہور واٹر پمپ خریدنے آئے تو میاں شریف کی دکان پر آئے تھے ، خریداری کر چکے تو میاں صاحب نے پوچھا کہاں سے آئے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ بہاولپور سے آئے ہیں تو کہنے لگے کہ دوپہر کا کھانا کھا کر جائیے گا اور پھر برانڈرتھ روڈ پر واقع دکان کے پیچھے فرشی دسترخوان پر انہوں نے میاں شریف کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور کھانے کے بعد تربوز بھی پیش کیا گیا۔ میاں شریف کی خواہش ہوگی کہ ان کی اولاد ان کے بزنس میں ہی نام کمائے لیکن حالات نے ایسی کروٹ کھائی کہ انہوں نے نواز شریف کی ڈیوٹی لگادی کہ وہ سیاست کریں گے ۔ تب سے اب تک نواز شریف اپنے والد کے حکم پر سیاست کو عبادت سمجھ کر کر رہے ہیں ۔کہنا نہیں چاہئے لیکن لگتا ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہ کر جان جانِ آفریں کے حوالے کرنے کو ترجیح دیں گے ۔

2014میں جب ان کے نکالے جانے کا اندیشہ بڑھ رہا تھا تب بھی وہ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد نبوی جا بیٹھے تھے۔ جدہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی چوہدری اعتزاز الرحمٰن سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا...عرض کی کہ پیپلز پارٹی کے حامی ہو کر آپ ایسی بات کیسے کہہ رہے ہیں ؟ترنت بولے ،اس لئے کہ نواز شریف کی ماں زندہ ہے!

آخر میں نون لیگیوں کے اس جذبے کی نذر چند اشعار جس کا اظہار انہوں نے بارہ کہو میں نواز شریف کے استقبال کے دوران کیا!

اپنا قائد ، اپنا چیف

نواز شریف نواز شریف

ڈکٹیشن نہ لینے والا

الٹی ٹینشن دینے والا

اسٹیٹس کو کا کھلا حریف

نواز شریف نواز شریف

ہر کوئی اس کا متوالا ہے

جوش جنوں ہمت والا ہے

بو لو احسن، کہو حنیف

نواز شریف نواز شریف

آگے آگے چلتا جائے

دشمن کو بھی تلتا جائے

سن لو عمراں خان ضعیف

نواز شریف نواز شریف

پھر سے لوٹ کے آئے گا وہ

پاکستان بنائے گا وہ

مل کے بولیں سب حلیف

نواز شریف نواز شریف

مزید : کالم


loading...