گلالئی الزامات ، سپیکر نے پارلیمانی کمیٹی بنا دی ، تحریک انصاف کا ماننے سے انکار ، عائشہ ایوان میں اجنبی ہیں ، شیریں پہلے آرٹیکل 63اے پڑ ھ لیں : عائشہ

گلالئی الزامات ، سپیکر نے پارلیمانی کمیٹی بنا دی ، تحریک انصاف کا ماننے سے ...
 گلالئی الزامات ، سپیکر نے پارلیمانی کمیٹی بنا دی ، تحریک انصاف کا ماننے سے انکار ، عائشہ ایوان میں اجنبی ہیں ، شیریں پہلے آرٹیکل 63اے پڑ ھ لیں : عائشہ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این،آن لائن ) تحریک انصاف کی منحرف ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی ایوان میں تقریر کرنے پر پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے شدید نعرے بازی کی ۔انہوں نے سپیکر سے کہا کہ اب فاضل ممبر قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر ممبر نہیں رہی ہے اور اس کے بعد نعرے بازی اور ڈیسک بجانا شروع کر دیئے، اور ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا، ایوان گو عائشہ گو کے نعروں سے گونج اٹھا لیکن انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی۔عائشہ گلالئی نے کہا ہے کہ جس قوم کیلئے بہنوں ،بیٹیوں کی عزت کی اہمیت نہ ہو اس قوم کو زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا، پی ٹی آئی میں خواتین کو رشتہ داریوں پر نشستیں دی جاتی ہیں ، آج میں نے کمزور خواتین کو پیغام دیاہے ،عزت اور غیر ت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے ، تحریک انصاف سے نکلتے ہی مجھے قتل اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی گئیں ، میرے گھر والوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں میرٹ پر آئی ہیں اور بطور رکن اسمبلی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔ڈپٹی اسپیکر کی اجازت کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے نئے وزیراعظم خاقان عباسی کو مبارک دی تاہم اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین مسلسل احتجاج کرتے رہے تاہم عائشہ گلالئی نے اپنی تقریر جاری رکھی۔عائشہ گلالی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں ان کی تربیت کریں، جو گالیاں دینے کا ٹرینڈ بنایا گیا اس سے بچیں، نوجوان عزت اور غیرت کی اہمیت سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک پی ٹی آئی میں ہیں ٹھیک، جب چھوڑیں گالیاں دی جاتی ہیں، تحریک انصاف کے ارکان کو کہتی ہوں ان کے ساتھ بھی یہی ہو گا،عائشہ گلالئی نے مزیدکہاکہ ایک خاتون ایم این اے ہوتے ہوئے یہ میرا فرض ہے کہ میں قوم کی بہنوں بیٹیوں کی عزت کی حفاطت کروں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیا جاتا ہے اور یہ صفائی صرف ظاہری صفائی نہیں ہوتی بلکہ روح اور کردار کی صفائی بھی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا جاری رکھوں گی، مجھے فخر ہے کہ میرے پاس ایک فورم ہے جس کے ذریعے میں قوم کی بیٹیوں کے حق کیلئے آواز اٹھاتی رہوں گی۔ عائشہ گلالئی کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کی خواتین کی بھرپور نعرے بازی جاری رہی۔ تاہم تمام تر شورشرابے کو نظرانداز کرتے ہوئے انہوں نے اپنی نہایت جذباتی تقریر مسلسل جاری رکھی، بولیں مجھے پتا ہے کہ تحریک انصاف کی خواتین کونسے میرٹ پر آئی ہیں، ان کی سیاست کیوجہ سے ملک کے وزیر اعظم کو مبارکباد نہیں دے سکی تھی، ہمارے ملک کو تمام نعمتوں کے باوجود بے شمار چیلنجزکا سامنا ہے، خاتون ہو کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے، اپنے ضمیر کے مطابق بات کی اور اس پر مجھے فخر ہے، افسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کمزور خواتین کا استحصال ہوتا رہتا ہے مگر ان کو کوئی نہیں پوچھ رہا، جب تک غریب خودکشی نہیں کرتا اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔عائشہ گلالئی نے مزید کہا کہ کمزور خواتین کو پیغام دیا ہے کہ عزت اور غیرت پر کوئی کمپرومائز نہیں، عمران جیسی شخصیات کو نہیں مانتے کرداراچھا ہونا چاہیے، دنیا کی کسی کتاب میں گالی گلوچ نہیں دی جاتی، والدین اپنے بچوں کو سنبھالیں، جیسے ہی کوئی پی ٹی آئی سے نکلتا ہے اسے سوشل میڈیا بریگیڈ گالیاں، تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دینے لگتا ہے۔ عائشہ گلالئی نے مزید کہا کہ میرے گھر والوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، میں نے حق بات کی، میری بہن سپورٹس وومن ہے، اس کو بھی پی ٹی آئی نے نہیں بخشا، میرے والد کو بھی پی ٹی آئی نے نہیں بخشا۔عائشہ گلالئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک منسٹر میری بہن کے فلاحی ہسپتال کو مسمار کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، یہ کیسا کلچر ہے؟ احتساب کمیشن میرے خلاف انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔ عائشہ گلالئی نے اعلان کیا کہ کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں، بلاول بھٹو اور جماعت اسلامی کی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرا ساتھ دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کام بڑی بڑی این جی اوز نہیں کر سکیں، وہ کام عائشہ گلالئی نے ایک دن میں کر دیا، کوئی انسان خدا نہیں ہوتا، مفادات کی بجائے کردار پر توجہ دیں، مہذب پاکستان چاہتی ہوں، جہاں گالی گلوچ نہ ہو، ایسا پاکستان چاہئے جہاں کسی کا استحصال نہ ہو۔اس سے قبل جب عائشہ گلالئی اسمبلی میں آئی اور اپنی نشست پر بیٹھیں تو شیریں مزاری نے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ ہماری ایک رکن پارٹی چھوڑنے کا کہہ چکی ہیں ،انہیں اجنبی قرار دیا جائے جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آپ کا نکتے پر اعتراض نہیں بنتا پہلے آرٹیکل 63پڑھیں اور پھر بات کریں ۔

عائشہ گلالئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں عائشہ گلالئی کے معاملے پر بننے والی اخلاقیاتی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کے زیر صدارت گزشتہ روز پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہو ا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا عائشہ گلالئی کے معاملے سے متعلق اخلاقیاتی کمیٹی میں6 حکومتی اور اتحادی ممبران اسمبلی جبکہ اپوزیشن کے چار ارکان شامل ہوں گے۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری جماعت اس کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی،انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حقائق سامنے آئیں اور دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ حکومت جس انداز کی کمیٹی بنانے جارہی ہے ،اس سے وہ اپنی مر ضی کے نتائج اخذ کرنا چاہتی ہیں جبکہ ہم نے اس حوالے سے اپنی تجاویز اور اعتراضات سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دی ہیں۔

اخلاقیاتی کمیٹی

مزید : صفحہ اول


loading...