شفیق آباد ، آؤٹ فال روڈ پر پارکنگ میں کھڑے ٹرک میں زور دار دھماکہ ، ایک شخص جاں بحق ، 40سے زائد زخمی ، ورکشاپ کی عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل

شفیق آباد ، آؤٹ فال روڈ پر پارکنگ میں کھڑے ٹرک میں زور دار دھماکہ ، ایک شخص ...

  



لاہور (کرا ئم ر پو رٹر ، خبر نگا ر،اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے ) شفیق آبا د کے علاقہ آؤٹ فال روڈپر تاج کمپنی کے قریب واقع ر حمت بھٹی پا رکنگ کے گراؤنڈ میں کھڑے ٹرک میں زوردار دھماکہ سے ایک شخص جا ں بحق ۔ بچوں اور خواتین سمیت 40 سے زائد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ ،ٹرک مکمل طور پر تباہ، ورکشاپ کی عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل، اردگرد کی دیگر عمارتیں بھی جزوی طور پر تباہ ہو گئیں ۔ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اردگرد واقع کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے،جائے وقوعہ پر 15فٹ گہرا گڑھا پڑگیا۔ ریسکیو ٹیموں نے40کے قریب زخمیوں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا ہے۔ د ھما کہ کے بعد قریبی تعلیمی ادارے کی عمارت بھی متاثر ہوئی جبکہ دو گھر بھی زمین بو س ہو گئے اور ٹرانسفارمر کے ہائی ٹینشن تاربھی ٹو ٹ گئے ۔ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف کے مطا بق د ہشتگردی کی وارادت ہے تا ہم د ہشتگردو ں کو سیکیورٹی کے بہتر انتظا ما ت کی وجہ سے د ھما کہ کر نے کا موقع نہیں مل سکا ۔ ذرا ئع نے دعو ی ٰ کیا ہے یہ د ھما کہ نواز شریف کی ر یلی پر کیا جا نا تھا ۔ تفصیلا ت کے مطا بق دھماکہ آؤٹ فال روڈ پر شفیق آباد قریب جس علاقے میں ہوا وہ ایک گنجان علاقہ ہے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں یہاں دیر سے پہنچیں جس کے باعث زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے جس ٹرک میں دھماکہ ہوا ہے وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ دھماکے سے ورکشاپ کی عمارت مکمل طور پر اور ایک مقامی کالج کی عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی ہے اور کئی افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ دھماکے سے 40 سے زائد زخمی ہو نے والوں میں عمانوئیل مسیح،شیر محمد،رضوان،طاہر،ساجد،اجمل،نسیم،شمیم ،عابدہ،سید سراج،افتخار،ساجد،شہیر ملک وارث ،فرحان ،سبط احمداور ارحم وغیر ہ شامل ہیں ۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس نے تاحال میڈیا اور عوام کو جائے وقوعہ پر نہیں جانے دیا اور اس نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ ر یسکیو نے 26 زخمیوں کو میاں منشی ہسپتال اور 14 زخمیوں کو میو ہسپتال میں منتقل کیا ۔ میاں منشی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور گھروں میں موجود تمام ڈاکٹروں کو بھی ہسپتال طلب کر لیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق میاں منشی ہسپتال پہنچے اور انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ خواجہ سلمان رفیق نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کے علاج کے دوران بال بیرنگ وغیرہ لگنے کے آثار نہیں ملے جس کے بعد ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کا یہی خیال ہے کہ دھماکہ بارودی مواد کا نہیں تھا۔ ادھر صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کے مطابق، 10 معمولی زخمیوں کو ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے۔ 13 زخمیوں کو میو ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ پولیس نے ارد گرد کے علاقوں بالخصوص بند روڈ سے منسلک افغان بستیوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور دو مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن رات گئے تک جاری رہے گا۔دوسری جا نب سی ٹی ڈی نے جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کر لئے ہیں جن میں بال بیرنگ بھی شامل ہیں۔ جا ئے وقوعہ پر رینجرز اور ایلیٹ پولیس کے کمانڈوز نے موقع پر پہنچ کر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز راجہ حیدر اشرف نے بھی جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ پولیس نے جائے حادثہ پر خصوصی لائٹس نصب کرکے وہاں سے موصول ہونے والے شواہد کو فرانزک لیب بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی پولیس سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یاد رہے کہ دھماکہ شہر کے انٹری پوائنٹ پر ہوا۔ دو روز قبل طے کئے گئے روٹ کے مطابق، اسی مقام سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گزرنا تھا تاہم بعد میں ان کا روٹ تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بند روڈ دھماکہ کے دوران زمین بوس ہونے والی عمارت کے ملبہ سے ایک نعش ملی ہے جس کی شناخت اما نت کے نا م سے ہوئی ہے اور یہ کا مو نکی کا رہائشی ہے۔ پولیس نے نعش کو قبضہ میں لے کر مردہ خانہ میں جمع کروا دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق نعش کی شناخت ہونے کے بعد پتہ چل سکے گا کہ ہلاک ہونے والا شخص کون ہے۔

ٹرک میں دھماکہ

مزید : صفحہ اول