نظر ثانی اپیل میں بحال ہو گیا تو بھی وزیر اعظم نہیں بنوں گا ، نااہلی کا فیصلہ ہو چکا تھا ، صرف جواز ڈھونڈا گیا : نواز شریف

نظر ثانی اپیل میں بحال ہو گیا تو بھی وزیر اعظم نہیں بنوں گا ، نااہلی کا فیصلہ ...

  



اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک228 نیوز ایجنسیاں)سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ' نظر ثانی اپیل( ریویو پٹیشن) پر بحال ہو گیا تو وزیراعظم نہیں بنوں گا، شہباز پنجاب میں ہی رہیں گے' کیا ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کا احتساب کر کے اسے سزا دے ۔70سال میں ایک بھی وزیراعظم کی مدت پوری نہیں ہوئی، ٹھوکریں کھائیں لیکن ہم پاکستان کی سمت کا تعین نہیں کرسکے، میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاستدانوں کو مل کر جواب تلاش کرنے چاہییں کہ قومی خزانے کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی بلکہ قانون اور آئین کی پاسداری کی ہے، میں حالات کی خرابی نہیں بلکہ تصحیح چاہتا ہوں ۔عوام کی حکمرانی اور مینڈیٹ کی عزت ہونی چاہیے، چار سال جو اقتدار میں گزارے وہ میں ہی جانتا ہوں ایک ادارہ دوسرے کا احترام نہیں کرے گا تو پاکستان آگے نہیں چلے گا، عوام کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے۔ کروڑوں لوگ ووٹ دیں اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر 5 جج نااہل کر دیں یہ مناسب نہیں، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گرینڈ ڈائیلاگ ہونا چاہیے ۔اداروں سے ٹکراؤ کا حامی نہیں ، سازش سے پردہ اٹھاؤں گا جمہوریت کے لئے ہر قربانی دیں گے ،شہبازشریف کو پنجاب میں برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہی رہیں گے۔صحافیوں سے بات چیت کر تے ہو ئے وزیر اعظم نے کہاکہ کیا ملک میں ایسے جج موجود ہیں جو ان کا احتساب کریں اور سزا دیں جنہوں نے ملک کو دولخت کیا ان کا احتساب کون کرے گا۔ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے ہیں کہ ہم کسی تحقیقات سے بھاگ رہے ہیں، بڑے لوگوں نے مشورہ دیا کہ مجھے جے آئی ٹی کے سامنے نہیں جاناچاہیے تھا تاہم میں نے اس لیے قانون کی پاسداری کی کیونکہ میں حالات کی خرابی نہیں بلکہ تصحیح چاہتا ہوں۔ میں قومی خزانے کی امانت میں خیانت نہیں کی سازش سے پردہ اٹھاؤں گا جمہوریت کے لئے ہر قربانی دیں گے میرے لئے یہ کنٹری بیوشن بہت بڑی اور قابل فخر ہے تاہم اب روزمرہ کے تماشے کو ختم ہوناچاہیے۔ میں عدلیہ پر دبا ؤنہیں ڈال رہا صرف گھر جارہا ہوں جی ٹی روڈ کئی دنوں سے نہیں دیکھی اس لیے وہاں سے جانا چاہتا ہوں۔ میرا سوال نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کاسوال ہے نیب کا قانون مشرف نے سیاستدانوں باالخصوص میر ے لیے بنایا ،ہم اس قانون کو ختم کرکے نیاقانون لانا چاہتے تھے تاہم ہماری توجہ ہٹ گئی ہم نہیں لاسکے۔ انہوں نے کہاکہ ججز نے ہمیں گاڈ فادر اورسسلین مافیا کہا ۔سسلین مافیا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتا ہے ۔ ایک جج نے پروموشن کیس میں کہا کہ وزیراعظم کے لیے اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے، وزیراعظم کے لیے کیا یہ کہنامناسب ہے۔نواز شریف نے کہا کہ پروموشن کیس کی فائل بھی میرے دفاتر میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے سے لگتا ہے میری نااہلی کا فیصلہ ہوچکا تھا وجہ تلاش کی جارہی تھی، کچھ نہیں ملاتو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے فارغ کردیاگیا۔جس فیصلے کی بنیاد ہی ٹھیک نہ ہو تو اگلا فیصلہ کیسا ہوگا خواجہ حارث سے میر ی ملاقات ہوئی ہے جس میں ریویو پٹیشن پر بات ہوگی۔ میں بھاگنے والا نہیں حالات کاسامنا کروں گا ۔ میں نے نہیں کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میڈیا نے خود ہی اخذ کیاہے۔ اگرمیں نے تنخواہ نہیں لی توظاہر کرنے کی کیا تک بنتی تھی ۔ایک چیز میرے جیب میں ہی نہیں آئی تو اسے ظاہر کیسے کرتامیرا ذہن اس منطق کو نہیں مانتا، مجھے عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف بات کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مجھے بحال کرنے کے لیے نہیں ناانصافی کے لئے کھڑا ہوناہوگا۔ اڈیالہ جیل سے متعلق جج کے ریمارکس پر میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اس کاجواب آنا چاہئے تھا لیکن نہیں آیا ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم والے ریمارکس افسوسناک ہیں اگر مجھے نکالنا تھا تو کسی وجہ پر نکالتے انہوں نے استفسار کیا کہ نیب کو 6 ہفتے کیوں دیئے جارہے ہیں ۔کیا اس لیے کہ جے آئی ٹی ادھر ادھر سے کچھ تلاش کرے اوراسے بھی شامل کرلیا جائے ۔جج کو نیب کے اوپر بٹھادیاگیا جب ہم اپیل کریں گے تو اپیل والے پہلے ہی نگرانی کررہے ہوں گے۔ میرے اباؤ اجداد کا احتساب کرنے والے شرطیں کیوں لگارہے ہیں ہمیں اس کی تہہ میں جاناچاہیے۔ وزارت عظمی سے بالاتر ہوکر ملک کی؂ ادنی سی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ 70 سال میں ایک بھی وزیراعظم کی مدت پوری نہیں ہوئی میرے مقاصد اب ذاتی نہیں۔ آپ لوگوں سے بھی گزارش کروں گا کہ مجھے بحال کرانے کے لیے نہیں بلکہ ملک ملک کی بہتری کے لیے ہمیں اکٹھاہونا ہوگا۔ اپنے لئے نہیں بلکہ ملک کے لئے کہہ رہا ہوں کہ عوام کی حکمرانی اور مینڈیٹ کی عزت ہونی چاہیے۔ اس وقت نئے سیاسی، سماجی اور عمرانی معاہدے کی ضرور ت ہے، روزمرہ کے تماشے کو ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے پہلے درخواست خارج کی، پھر معلوم نہیں کیسے قبول کر لی، جے آئی ٹی میں مخالفین کو ڈالا گیا، ججوں نے بھی اپنی آبزرویشن میں کہا کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ نااہلی کا فیصلہ ہو چکا تھا، صرف جواز ڈھونڈا گیا، نکالنا تھا تو کسی ایسی چیز پر نکالتے جس کی سمجھ بھی آتی، نیب کیخلاف اپیل کرنا پڑی تو کس کے پاس جائیں گے ۔ نواز شریف نے کہا کہ ادارے ایک دوسرے کا احترام نہیں کرینگے تو ملک آگے نہیں جاسکتا ٗ میڈیا ٗ سول سوسائٹی اور سب کو ملکر ایک سمت تعین کر نا ہوگا ور نہ ملک نہیں چل سکتا ، ٹھوکریں کھائیں لیکن ہم پاکستان کی سمت کا تعین نہیں کرسکے ٗمیڈیا، سول سوسائٹی اور سیاستدانوں کو مل کر جواب تلاش کرنے چاہئیں۔سابق وزیراعظم نے تجویز دی کہ ملک میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بڑا مباحثہ ہونا چاہیے اور روزمرہ کے تماشے کو ختم ہونا چاہیے۔

نواز شریف

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228 نیوزایجنسیاں)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پنجاب ہاؤس میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے ملاقات کی جس میں اہم ملکی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال اور اہم ملکی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔دونوں رہنماؤں کے درمیان جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور مسلم لیگ (ن) کے قائد کی روانگی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے نوازشریف کو جی ٹی روڈ پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے سکیورٹی رپورٹس کے بارے میں بھی آگاہ کیا ،نواز شریف سے گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، اسحاق ڈار ،مریم اورنگزیب سمیت دیگر رہنماں نے پنجاب ہا ؤس میں ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں میں سیاسی صورتحال سمیت بدھ کوبراستہ جی ٹی روڈ لاہورروانگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں این اے 120کے ضمنی انتخابات میں پارٹی کے حتمی امیدوارکے حوالے سے بھی صلح مشورے کئے گئے وزیرداخلہ احسن اقبال نے سابق وزیراعظم کوجی ٹی روڈ لاہورروانگی سے متعلق سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے بریف کیا۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کو فریقین کی مشاورت سے قومی سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ احسن اقبال نے سابق وزیر اعظم کو لاہورروانگی سے متعلق سکیورٹی امورپربریفنگ دی ۔ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے اسلام آباد اورراولپنڈی پولیس سے بھی تفصیلی سکیورٹی پلان تک طلب کرلیا۔وزیرداخلہ نے سیکورٹی پلان کوحتمی شکل دینے کیلئے آج اہم اجلاس بھی بلالیا ہے۔اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف سے مسلم لیگ کے دیگر رہنماؤں نے بھی ملاقات کی۔ملاقات کرنیوالوں میں پرویزرشید، آصف کرمانی، دانیال عزیز اور میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز شامل تھے، ملاقات میں محمد نوازشریف کے بدھ کے روز لاہور جانے کے حوالے سے انتظامات پر مشاورت کی گئی۔

مزید : صفحہ اول


loading...