این اے 120: انتخابی دنگل کی تیاریاں شروع ’’پہلوانوں ‘‘ نے لنگوٹ کس لیے

این اے 120: انتخابی دنگل کی تیاریاں شروع ’’پہلوانوں ‘‘ نے لنگوٹ کس لیے

  



لاہور(رپورٹ: شہزاد ملک) سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 120پر ضمنی الیکشن کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ ماہ 17ستمبر کو ضمنی الیکشن کروانے کا باقاعدہ شیڈول جاری ہونے کے بعد اب اس حلقہ میں دوبارہ انتخابی دنگل سجنے کو ہے اور موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں پاکستان تحریک انصاف نے سال 2013کے عام الیکشن میں یہاں سے انتخاب لڑنے والی ڈاکٹر یاسمین راشد کو دوبارہ پارٹی ٹکٹ جاری کردیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی لاہور نے بھی سال 2013کے عام الیکشن میں یہاں سے انتخاب لڑنے والے پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر حافظ زبیر کاردار کو الیکشن لڑنے کے لئے گرین سگنل دیدیا ہے یہ الگ بات ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب کی طرف سے ابھی ان کی ٹکٹ کو کنفرم قرار نہیں دیا جارہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن سال برائے 2002میں اس حلقہ کے کل ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 32ہزار 800تھی اور اس وقت اس الیکشن میں اس حلقہ سے ٹوٹل دس امیدواروں نے حصہ لیا تھا اس وقت کل 72ہزار 806ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جن میں سے 819ووٹوں کو مسترد کردیا گیا اس وقت اس الیکشن کی ٹرن آؤٹ کی شرح 31.27فیصد رہی اور مسلم لیگ (ن) کے محمد پرویز ملک 33ہزار 741ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار الطاف احمد قریشی کو 19ہزار 483ووٹ مل سکے تھے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے تھے اور مسلم لیگ (ق) کی طرف سے میاں محمد اشرف 15ہزار 85ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔اسی طرح سے سال 2008کے عام الیکشن میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 68ہزار 552تھے جن میں سے 97ہزار 433ووٹ کاسٹ ہوئے تھے اور 60ووٹ مسترد ہو گئے تھے اس الیکشن میں مختلف جماعتوں کے 8امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بلال یاسین 65ہزار 946ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے تھے اس الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار جہانگیر بدر دوسرے نمبر پر رہے تھے اور انہیں 24ہزار 308ووٹ ملے تھے اس الیکشن میں ٹرن آؤٹ کی شرح 36.28فیصد رہی تھی ۔سال 2013کے عام الیکشن میں اس حلقہ کے کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 95ہزار 826تھی جس میں سے ایک لاکھ 53ہزار 328ووٹ کاسٹ ہوئے تھے اس الیکشن میں مختلف جماعتوں کے کل 27امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا اس الیکشن میں بقیہ دو عام انتخابات کی نسبت ووٹ کاسٹ کرنے کی شرح زیادہ رہی اور اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف 91ہزار 683ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے اور اسی نشست پر وہ ملک کے وزیراعظم بھی منتخب ہوئے تھے یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اس نشست کے علاوہ دیگر حلقوں سے بھی الیکشن لڑا تھا اور کامیاب بھی ہوئے تھے لیکن انہوں نے این اے 120کی نشست کو اپنے پاس رکھا اور باقی کامیاب ہونے والی نشستوں کو چھوڑ دیا تھا ان کے بعد اس الیکشن میں گزشتہ دو عام انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی کی بجائے پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد دوسرے نمبر پر رہیں اور انہوں نے 52ہزار 354ووت حاصل کئے تھے اور اس الیکشن میں ٹرن آؤٹ کی شرح 51.85فیصد رہی تھی۔اس وقت اس حلقہ کے کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تین لاکھ 61ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اب یہاں سے کون کامیاب ہو تا ہے اس کا فیصلہ 17ستمبر کو ہو جائے گا لیکن مسلم لیگ (ن) ‘پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے انتخابی مہم شروع کردی ہے اور تینوں جماعتوں کا دعوی ہے کہ ان کا امیدوار ہی کامیاب ہو گا۔

این اے 120رپورٹ

مزید : صفحہ اول


loading...