کیا کوئی مہاجر جماعت جنرل پرویز مشرف کو صدارت طشتری میں رکھ کر پیش کرے گی ؟

کیا کوئی مہاجر جماعت جنرل پرویز مشرف کو صدارت طشتری میں رکھ کر پیش کرے گی ؟

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

جنرل پرویز مشرف جب برسر اقتدار تھے تو بڑے بڑے قابل احترام رہنماؤں پر ’’چلے ہوئے کارتوس‘‘ کی پھبتی کستے تھے ان کے دور میں جو سابق جرنیل سیاست میں سرگرم عمل تھے ان کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال تھا اب جبکہ انہیں محروم اقتدار ہوئے نو سال ہوگئے ہیں وہ سیاست میں دوبارہ سرگرم عمل ہونے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ اب خود انہیں بڑی آسانی سے چلا ہوا کارتوس کہا جاسکتا ہے۔ وہ جب سے اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاسی میدان میں اترے ہیں انہیں نہ تو کوئی ایسے کارکن میسر آئے ہیں جو شہروں اور قصبات میں ان کی جماعت کی تنظیم سازی کریں اور گراس روٹ سطح پر اس جماعت کو منظم کریں، ان کی جماعت کا وجود تو صوبائی سطح پر بھی کہیں نظر نہیں آتا، وہ اپنی آل پاکستان جماعت کے صدر ہیں اور باقی عہدیدار کون کون سے ہیں اس کے بارے میں لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں، پنجاب میں ان کی جماعت کہاں ہے، سندھ میں جو ان کا اپنا صوبہ ہے اور جہاں وہ مہاجروں کو منظم کرنا چاہتے ہیں کون سے عہدیدار ہیں کسی کو کچھ معلوم نہیں اسی طرح بلوچستان اور کے پی کے میں دور دور تک ان کی جماعت کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ لے دے کے وہ اپنی ذات میں انجمن کے طور پر موجود ہیں وہ بھی اگر ملک کے اندر موجود ہوتے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہوتے تو بھی پتہ چلتا کہ ووہ کوئی تیسری قوت بنا رہے ہیں وہ رہتے دبئی میں ہیں کبھی کبھار پاکستان سے اپنے دوستوں کو تبادلہ خیال کے لئے وہیں بلا لیتے ہیں۔ ان کی زیادہ سے زیادہ سیاسی سرگرمی یہی سامنے آتی ہے کہ مسلم لیگوں کو متحد کردیا جائے جو آج تک تو متحد نہیں ہوسکیں نہ آئندہ ان سے کسی کرشمے کا امکان ہے جب ایسا نہیں ہوپاتا تو پھر وہ سیاسی اتحاد بنانے کی بات کرنے لگتے ہیں لیکن جب ادھر سے بھی مایوسی ہوتی ہے تو مہاجروں کے گروپوں کو متحد کرنے کا پتہ پھینک دیتے ہیں لیکن ایم کیو ایم پاکستان مہاجر قومی موومنٹ اور پاک سر زمین پارٹی تینوں میں سے کوئی بھی انہیں اپنی پارٹی کی سربراہی پیش کرنے کیلئے تیار نہیں، جب وہ صدر تھے تو ایم کیو ایم کے اس طرح حصے بخرے نہیں ہوئے تھے، جس طرح اب ہوچکے ہیں، انہوں نے اپنے پورے عہدِ حکومت میں ایم کیو ایم کو وفاق اور صوبہ سندھ کے اقتدار میں شریک رکھا، انہیں ان کی پسند کی وزارتیں دیئے رکھیں، عشرت العباد کو صوبے کا گوورنر بنائے رکھا لیکن اب وقت بدلا ہے تو ان میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ایسے میں تیسری قوت کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا؟

ویسے جمہوری ملکوں میں تیسری قوت کا کوئی تصور بھی موجود نہیں برطانیہ میں دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں اقتدار ان دونوں کے گرد گھومتا رہتا ہے، تیسری سیاسی جماعت کئی عشروں بعد مخصوص حالات میں محدود سے کردار کے ساتھ سامنے آتی ہے، وزیراعظم کا تعلق یا تو لیبر پارٹی سے ہوتا ہے یا کنزرویٹو پارٹی سے اگر دونوں میں سے کسی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہ ہو تو ’’تیسری قوت‘‘ کی حمایت کے ساتھ حکومت بنانی پڑتی ہے، جیسے آج کل کنزرویٹو پارٹی کو ضرورت محسوس ہوئی اگر اگلے انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت لے گئی تو یہ پوزیشن بھی ختم ہوجائیگی، امریکہ میں بھی دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں صدر کا تعلق کبھی ایک جماعت سے ہوتا ہے اور کبھی دوسری سے، پہلے صدر جارج واشنگٹن سے لے کر آج صدر ٹرمپ تک جتنے بھی صدر آئے ان میں سے زیادہ تر ری پبلکن تھے، یا ڈیمو کریٹک، درمیان درمیان کبھی کبھار کوئی ایسا صدر بھی آگیا جس کا دونوں جماعتوں سے تعلق نہ تھا تو یہ غیر معمولی حالات کا نتیجہ تھا، بھارت میں آزادی کے بعد کئی سال تک کانگریس حکمران رہی اس عرصے میں بھی نہرو خاندان سیاست اور حکومت پر چھایا رہا یہ دوسری مرتبہ ہے کہ وہاں بی جے پی کی حکومت بنی ہے اس سے پہلے واجپائی کا تعلق بھی اس جماعت سے تھا، ریاستوں میں البتہ علاقائی جماعتوں کا کردار اہم ہے اور یہ جماعتیں ریاستی حکومتیں بناتی رہتی ہیں، دنیا کے اور بھی بہت سے ملکوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں جہاں دو ہی جماعتیں سیاست اور حکومت میں رہتی ہیں اور اس میں کوئی خرابی نہیں سمجھی جاتی امریکہ میں کبھی کسی کو خیال نہیں آیا کہ ڈیمو کریٹک پارٹی یا ری پبلکن پارٹی سے باہر کا کوئی صدر لایا جائے نہ ایسا ہونا ممکن ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چھوٹی جماعت اتنی طاقت حاصل کرلے کہ دو مضبوط بڑی جماعتوں کو چیلنج کرکے ان کی پوزیشن لے سکے تو دوسری بات ہے۔

جنرل پرویز مشرف کا اگر یہ خیال ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مقابلے میں تیسری سیاسی قوت بنا سکتے ہیں اور وہ سیاست میں کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آسکتی ہے تو پہلے قدم کے طور پر انہیں پاکستان واپس آجانا چاہئے اور اس کے لئے کسی طاقتور حلقے کی اشیر باد پر تکیہ نہیں کرنا چاہئے، اقتدار کے تخت پر ممکن ہو کر مہروں کو اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر کیا جاسکتا ہے لیکن محرومِ اقتدار ہوکر ایسا کرنا ممکن نہیں، پھر سوال یہ ہے کہ کیا مہاجروں کی کوئی جماعت انہیں قبول کرلے گی؟ اور اگر کرلے گی تو کس حیثیت میں، ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا فاروق ستار اور مصطفےٰ کمال دونوں نے کہہ دیا تھا کہ ان کے پاس صدارت کا عہدہ خالی نہیں ہے جس پر وہ پرویز مشرف کو بٹھا سکیں، تو کیا وہ ایک عام کارکن کی حیثیت سے کسی مہاجر جماعت میں شامل ہوں گے؟ وہ تو صدارت سے کم پر راضی نہیں ہوں گے مسلم لیگیں اگر اب تک متحد نہیں ہوسکیں یا کوئی اتحاد نہیں بن سکا تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اتحاد کی صورت میں خود صدر بننا چاہتے ہیں اور ان کی صدارت پر اتحادی متفق نہیں ہوپاتے، پرویز مشرف غالباً اپنی سیاست کسی نادیدہ قوت کی سرپرستی میں کرنا چاہتے ہیں لیکن اقتدار سے باہر رہ کر ایسا ممکن نہیں ہوگا، بہتر یہ ہے کہ وہ مہاجروں کو متحد کرنے یا کسی سیاسی اتحاد کی داغ بیل ڈالنے سے پہلے اپنی جماعت کو تو ملک بھر میں منظم کریں کم از کم چاروں صوبوں میں اس کی تنظیم سازی کریں۔ انتخابات میں کسی جیت کا تصور کرنے سے پہلے پارٹی کا تنظیمی وجود ضروری ہے، ورنہ تو انہیں پورے ملک میں اتنے امیدوار بھی دستیاب نہیں ہوں گے جتنے ارکان قومی اسمبلی میں اکثریت کے لئے درکار ہیں۔

طشتری

مزید : تجزیہ


loading...