نرسنگ کے طلبا کا امتحانی نتائج کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج

نرسنگ کے طلبا کا امتحانی نتائج کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) نرسنگ کے طلبا کا امتحانی نتائج اور نرسنگ امتحانی بورڈ کی انتظامیہ کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج پیر کو بھی جاری رہا۔ طلبا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ زاٹھا رکھے تھے جن پر کنٹرولر نامنظور، ڈپٹی کنٹرولر نامنظور ، گو عطا حسین راجپر ، گو خیرالنساء گو سمیت دیگر نعرے درج تھے۔ مظاہرے کی قیادت ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اعجاز کلیر کر رہے تھے ۔ طلبا کا کہنا تھا کہ 10ماہ بعد نتائج کا اجراء کیا گیا اور صرف 39فیصد طلبا کو پاس کرکے 61فیصد کو فیل کر دیا گیا ،ہم اس نتائج کو مسترد کرتے ہیں ،یہ رزلٹ نہیں دھاندلی ہے ،ہمیں انصاف چاہیے۔طلباء نے الزام عائد کیا کہ محکمہ صحت میں سیاسی اثر رسوخ کے حامل بھرتی کیے گئے ناتجربہ کار انسٹرکٹرکو کنٹرولر ، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کنٹرولر نے کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ کرائی ہے لیکن زبانی امتحان دوبارہ نہیں لیے گئے، تحریری امتحان کے500جبکہ زبانی امتحان کے300نمبر ہوتے ہیں، امتحانات کے نتائج نا مکمل رہے ہیں اور ہمیں سازش کے تحت فیل کیا گیا ہے جو قبول نہیں،ہم وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اہل افسران کو بورڈ میں تعینات کیا جائے ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔اس موقع پر اعجاز علی کلیری کا کہنا تھا کہ اگر طلبا کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ کے نام نہ صرف سرکار کے لاکھوں روپے ضایع کیے گئے ہیں بلکہ طلبا کے ساتھ ناانصافی بھی ہوئی ہے۔جس پر ہم سیکریٹری صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرف توجہ دی جائے اور ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کی شام نرسنگ امتحانی بورڈ نے 10ماہ کی تاخیر کے بعد طلبا کے نتائج کا اجراء کیا تھا۔ جسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے طلبا نے جمعرات سے احتجاج شروع کیا ہوا ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...