وزیر اعلیٰ سندھ کا اہم سڑکوں اور عمارتوں کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ پر اظہار ناراضی

وزیر اعلیٰ سندھ کا اہم سڑکوں اور عمارتوں کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ پر اظہار ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے تجارتی عمارتوں کے ساتھ اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی پارکنگ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کو ہدایت کی کہ وہ عمارتوں کے بیسمینٹ سے تجارتی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے فوری آپریشن شروع کریں کیونکہ عمارتوں کی بیسمنٹ لے آؤٹ پلان کے مطابق پارکنگ کے مقاصد کے لیے ہوتی ہے ۔انہوں نے یہ بات وزیر اعلی ہاؤس میں شہر میں ٹریفک جام کے متعلق مسائل کے حل کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال ، ایڈیشنل آئی جی ٹریفک مشتاق مہر، سیکریٹری داخلہ قاضی شاہد پرویز ، کمشنر کراچی اعجاز علی خان ، ڈی آئی جی ٹریفک آصف اعجاز شیخ، ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس، پی ڈی کراچی نیاز سومرو، انجینئر خالد، سینئر ڈائریکٹر ٹریفک انجینئر بیورو قاضی عبدالقادر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ وہ موجودہ ٹریفک مینجمنٹ سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی تمام اہم سڑکوں پر زیادہ تر ٹریفک جام رہتاہے جوکہ میں نے خود بھی دیکھاہے۔ انہوں نے کہا کہ طارق روڈ،گلشن اقبال ، عائشہ منزل ، کلفٹن،شاہراہ فیصل اور دیگر علاقوں میں موجود کمرشل پلازوں نے اپنے بیسمنٹ میں تعمیر کئے گئے پارکنگ لاٹس کو دکانوں اور گوداموں میں تبدیل کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی رٹ اور قواعد کی سخت خلاف ورزی ہے اور میں اس قسم کے رویے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو ہدایت کی کہ وہ شاپنگ پلازوں کی بیسمنٹ میں قائم غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے کمشنر کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک کو پولیس کا اہتمام کرکے دیں۔ انہوں نے ڈی آئی جی ٹریفک سے کہا کہ آپ طارق روڈ، کلفٹن اور دیگر علاقوں کی اہم سڑکوں پر گاڑیاں پارک کرنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ سڑکوں پر پارکنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوں نے ایڈیشنل آئی جی ٹریفک اور ٹریفک انجینئرنگ بیورو کو ہدایت کی کہ وہ میٹروپول ہوٹل سے ٹریفک کے پیدا ہونے والے دباؤ کے خاتمے کے لیے تفصیلی پلان ترتیب دے کر اس کی منظوری کے لیے انہیں ایک ہفتے کے اندر پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ دیگر رکاوٹوں اور مسائل کی بھی وقتا فوقتا نشاندہی کی جائے تاکہ ان کا تدارک کیاجاسکے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے وزیر اعلی سندھ کو پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر 3527اسکوئر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں پر 10ہزارکلومیٹر سڑکوں کا نیٹ ورک ہے اور اس کی آبادی تقریبا23.7ملین ہے اور تقریبا 4ملین گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جس میں روزانہ 1186گاڑیوں کا اضافہ ہورہا ہے۔وزیر اعلی سندھ نے مشتاق مہر سے کہا کہ وہ شہر میں ٹریفک چوکنگ پوائنٹس کی نشاندہی کریں، اس پر مشتاق مہر نے کہا کہ 26چوکنگ پوائنٹس ہیں ، ان میں سے ایک ساؤتھ میں 14 شہر میں (ضلع جنوبی کے حدود میں)3سینٹر ل میں ایک ایسٹ میں اور 4ضلع غربی میں ہیں اور 3ملیر میں ہیں۔اس پر وزیر اعلی سندھ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے افراد کے ساتھ بیٹھ کر ان 26چوکنگ پوانئٹس پر ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے جامع منصوبہ بندی ترتیب دیں ۔ ایڈیشنل آئی جی ٹریفک نے کہا کہ 2017کے دوران ٹریفک پولیس نے 1.37ملین گاڑیوں کے ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر چالان کئے اور 322ملین روپیکے جرمانے عائد کئے گئے جس میں سیاب تک278.8ملین روپیحاصل ہوچکے ہیں ۔ مشتاق مہر نے کہا کہ اس وقت صرف 2525پولیس اہلکار دو شفٹوں میں ٹریفک کی ریگولیٹنگ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا 1262پولیس اہلکار اس میٹروپولیٹن سٹی کی ہر ایک شفٹ میں ٹریفک کی ضروریات کا احاطہ کررہے ہیں۔اس پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ نئے بھرتی کئے گئے 4227پولیس اہلکار تربیت حاصل کررہے ہیں اس طرح سے جب یہ اپنی ٹریننگ مکمل کرلیں گے تو عملے کی قلت کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ وزیر اعلی سندھ نے ایڈیشنل آئی جی ٹریفک ،ڈی آئی جی ٹریفک ، سینئر ڈائریکٹر ٹریفک انجینئرنگ بیورو،پی ڈی کراچی پیکیج کے ایک نمائندے پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جوکہ ہر ایک روٹ /سڑک/سگنلز کے انتظامات اور صورت حال کے تدارک کے لیے ہر ایک پہلو کا جائزہ لے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول