صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے سرمایہ کاروں کو مراعات دے رہے ہیں:پرویز خٹک

صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے سرمایہ کاروں کو مراعات دے رہے ...

  



پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو وسیع مراعات دے رہی ہے تاکہ صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ سی پیک کے تناظر میں کافی سرمایہ کار خیبر پختونخوا آ رہے ہیں جن کو صوبائی حکومت مکمل سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی سربراہی میں بینک کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ۔محکمہ خزانہ اور ہاؤسنگ کے انتظامی سیکرٹری ، سٹرٹیٹجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی و باہمی معاونت کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سٹیٹ بینک کے گورنر کو صوبائی حکومت کی ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ سکیم کے تحت ملازمین کو تین اور پانچ مرلہ پلاٹ الاٹ کئے جائیں گے جس کا فارمولہ تشکیل دیا جائے گا۔گورنر سٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ سکیم سے اتفاق کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ سکیم کے حوالے سے باقاعدہ ایک ماڈل تیار کیا جائے تاکہ اس پر آگے کام کیا جا سکے اور سٹیٹ بینک اس حوالے سے مکمل معاونت فراہم کرے گا۔وفد نے وزیر اعلیٰ کو پشاور چوک یادگار میں غیر قانونی ہنڈی کے کاروبار سے بھی آگاہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس پر کئی مرتبہ ایکشن لے چکی ہے اور ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کیا ہے لیکن عدالت نے انہیں اس وجہ سے رہا کیا کہ یہ پولیس کا نہیں ایف آئی اے کا کام ہے اور ایف آئی اے وفاقی ادارہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار کا قلع قمع کرنے کے لئے صوبے کی پولیس ایف آئی اے کے ساتھ ہر وقت کام کرنے کے لئے تیار ہے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے 2013سے 2017 کے دوران مختلف محکموں کے صوبائی اسمبلی سے پاس شدہ قوانین کے رولز اینڈ ریگولیشنزکو 17 اگست 2017 تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے تاکہ منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کئے جا سکیں ۔ انہوں نے تازہ ترین پاس شدہ قوانین کے رولز اینڈ ریگولیشنز کی تشکیل کا عمل بھی بلاتاخیر شروع کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ متعلقہ حکام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور قواعد وضوابط کی تشکیل پر تیز رفتار عمل درآمد یقینی بنائیں ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی حکومت کے قوانین کے تحت قواعد وضوابط کی تشکیل کے حوالے سے فالو اپ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں، سٹرٹٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس کو صوبائی حکومت کے 2013 سے 2017 کے دوران صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ قوانین کے قواعد و ضوابط کی تشکیل پر تازہ ترین صورتحال پر بریفینگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت مختلف صوبائی محکموں کے مجموعی طور پر 64 قوانین کے قواعد وضوابط کی تشکیل پر کام جاری ہے جن میں سے 14 سے زائد مکمل ہیں جو ویٹنگ کیلئے محکمہ قانون کو دیئے گئے ہیں۔ 27 قوانین کے قواعد وضوابط کی تشکیل تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ 15 التواء کا شکار ہیں۔ ان قوانین میں محکمہ اوقاف ، حج، مذہبی اور اقلیتی اُمور کے 4 قوانین ،محکمہ ایگرکلچر ، لائیو سٹاک کا ایک ، اسٹبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن کے پانچ ، ماحولیات کے دو ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، خزانہ ، خوراک ، کھیل و سیاحت ، ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک ایک ، محکمہ داخلہ و قبائلی اُمور کے آٹھ، محکمہ اعلیٰ تعلیم آرکائیوز اینڈ لائبریریز کے چار ، لیبر کے نو ، انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے تین ، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ترقی نسواں کے چار ، محکمہ صحت کے 11 ، صنعت ، تجارت و فنی تعلیم کے چار اور محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے تین قوانین کے قواعد وضوابط شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے قوانین کے قواعد و ضوابط ہر صورت میں 17 اگست تک مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ باضابطہ منظوری کیلئے کابینہ کے اجلاس میں پیش کئے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جب کوئی قانون تشکیل کے مرحلے میں ہو تو ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط پر بھی کام شروع کردینا چاہیئے ۔صوبائی محکموں کو حکومت کی ضروریات کا خیال رکھنا ہے ۔ قوانین کی تشکیل کے پس پردہ مقاصد اور اہداف کا حصول یقینی بنانے کیلئے قواعد وضوابط نا گزیر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قواعد وضوابط کی تشکیل کا عمل جلد مکمل کرنے کی خصوصی تاکید کی اور عندیہ دیا کہ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بل بھی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں منظور کرالیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے محکمہ لیبر کے قوانین کے قواعد و ضوابط کی تشکیل کے عمل کو سست اور غیر تسلی بخش قرار دیا اور ہدایت کی کہ محکمہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ۔اگر کسی قانون کے قواعد وضوابط کیلئے کنسلٹنٹ ہائر کرنا ہے تو اُسے 45 دن سے زائد کا وقت نہ دیں ۔انہوں نے محکمہ قانون میں ویٹنگ کیلئے موجودقوانین کا سٹیٹس بھی معلوم کرنے جبکہ التواء کے شکار قواعد و ضوابط کی تشکیل کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت کی اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور لوکل ترقیاتی اداروں کے قوانین کو ہم آہنگ بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ باہمی مشاورت سے اس مسئلے کو حل کریں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول