فاٹا کا انضمامکسی صورت برداشت نہیں کرینگے :مولانا عبدالشکور

فاٹا کا انضمامکسی صورت برداشت نہیں کرینگے :مولانا عبدالشکور

  



ہنگو (بیوررپورٹ)فاٹا کاصوبے میں انضمام کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔قبائلی عوام کی اکثریتی رائے الگ صوبے کی قیام کے حق میں ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے سے قبل قبائل کے لئے الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ کرتی رہی بعد میں حسب روایت یو ٹرن لے لیا۔ایف سی آر ختم کی گئی تو متبادل کے طور پر رواج ایکٹ نافذ ہو گا جو کہ قبائلی عوام اور علاقوں کے لئے دوسرا ایف سی آر ہوگا۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام ف فاٹا کے امیر حضرت مولانا مفتی عبد الشکور نے دورہ ہنگو کے موقع پر یونٹی پبلک سکول ہنگو میں ہنگا می پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری فاٹا جے یو آئی مولانا عبد البصیر ،ناظم عمومی مولانا رحمت اللہ زار،دیگر ضلعی قائدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔مفتی عبد الشکور سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ قبائلی عوام کے آزاد اور خود مختارریفرنڈم سے ہونا چاہئیے جس میں قبائلی عوام آزادانہ رائے دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا ریفارمز کمیٹی کی سفارشات رپورٹ حقائق کے برعکس ہے جس میں قبائلی عوام کورائے دینے سے محروم رکھا گیا ہے جس میں فاٹا کے ایک کروڑ عوام کے بجائے من پسندانہ چند ہزار افراد کی رائے پر رپورٹ مرتب کر دی گئی ۔جن کو چیلنج کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے ملک دشمن بیرونی طاقتیں فاٹا کو پاکستان کا حصہ تک تسلیم نہیں کرتے اور فاٹا کے مستقبل سے وابستہ کوئی بھی گیر سنجیدہ فیصلہ قبائلی عوام کے قومی اور عوامی مفادات کے منافی تصور کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں حالات خرابی اور بد امنی کے فضا ء پیدا کرنے کے لئے ملک دشمن بیرونی قوتوں نے کروڑوں ڈالرز خرچ کئے جبکہ علما ء حق کی جدو جہد سے ملک دشمن سازشوں ناکام بنا دیا گیا۔مفتی عبد الشکور نے کہا کہ فاٹا کے مسئلے کو زمینی حقائق کے روشنی میں دلائل پر حل کرنے کی حق میں ہے اور فاٹا انضمام یا علیحدہ صوبہ سے متعلق آزاد ریفرنڈم مسئلے کا واحد حل ہے۔فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے سے اغیار کی ناپاک سازشوں کو تحفظ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے زیر اہتمام 15اکتوبر 2017کو پشاور میں تمام فاٹا کے نوجوانوں کا عظیم الشان یوتھ کانفرنس منعقد کیا جائے گا جس میں فاٹا کے روشن مستقبل کے بارے میں نوجوانوں سے رائے بھی لی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے متصل شاہراہوں پر کروڑوں اربوں کی تجارت ہوتی ہے اور قبائلی علاقوں قدرتی وسائل وزخائر سے مالا مال ہے ۔تورخم سرحد کے راستے سالانہ 42ارب روپے کی خطیر رقوم کی آمدن خزانے میں جمع ہوتی ہے ۔کرومائٹ ،کوئلہ ،قدرتی گیس،معدنیات اور دیگر قیمتی قدرتی زخائر کی وافر مقدار موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے قائدین نے نہ قبائلی علاقوں میں آپریشن پر دستخط کئے اور نا ہی ریحام خان اور عائشہ گلالئی کے معاملے پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاناما سمیت ہر قسم کے کرپشن میں ملوث سیاستدانوں سمیت ہر قسم کے افراد کا کھڑا احتساب چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اور رواج ایکٹ یکسر مسترد کرتے ہیں اور قبائلی عوام پر ان کی مرضی کے خلاف فیصلے کی مخالفت کریں گے جبکہ قبائل کو ایک علیحدہ صوبہ دینے کی حمایت کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر