احتساب کمیشن صرف مجھے سیاسی انتقال کا نشانہ بنانے کیلئے بنایا گیا تھا:لیاقت شباب

احتساب کمیشن صرف مجھے سیاسی انتقال کا نشانہ بنانے کیلئے بنایا گیا تھا:لیاقت ...

  



نوشہرہ(بیورورپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی پشاور ڈویژن کے صدر سابق صوبائی وزیر لیاقت شباب نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے احتساب کمیشن صرف مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے بنایا تھا لیکن جب میرے خلاف ثبوت نہ ملے تو الٹا احتساب کمیشن کے چیئرمین جنرل (ر) حامد خان کو ہٹا کر صوبائی احتساب کمیشن کو تالہ لگا دیا گیا صوبائی احتساب کمیشن کے تالے کھلیں گے جب وزیراعلیٰ پرویز خٹک اوران کے چیلوں کے کرپشن کی فائلیں کھلے گی اور وہ حقیقی معنوں میں احتساب ہوگا سیاسی انتقام نہیں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اس دورجدید میں بھی سرکاری سکولوں کے طلباء وطالبات ٹھاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے کیا یہی وہ پی ٹی آئی کی تعلیمی ایمرجنسی ہے اگر یہ تعلیمی ایمرجنسی ہے تو خیبرپختونخوا کے عوام ایسی تعلیمی ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے نوشہرہ کینٹ میں کینٹ جنرل ہسپتال روڈ میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر عمرخان، رمضان خان، تیمورخان، عاقب خان اعوان، کاشف خان، زیشان، نعمان، آفتاب اعوان، محسن قریشی، حمزہ پراچہ، فراز، آیاز اور دیگر نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہوکر پیپلزپارٹی میں شمولیت کااعلان کیا شمولیتی تقریب سے پی کے 14 کے جنرل سیکرٹری سعیداللہ اور نوشہرہ کینٹ کے صدر شاہ زیب خان نے بھی خطاب کیا لیاقت شباب نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اپنے منظور نظر اور من پسند ٹھیکیداروں کو مسلسل نواز کر دریائے کابل کے کنارے پشتوں (ڈانگے )کے ٹھیکے دے رہے ہیں یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے پی ٹی آئی نے میرٹ کی دھجیاں اڑا دی ہے میرٹ تو صرف اخباری بیانات کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ قاضی میڈیکل کمپلیکس پر پانے خان بننے کی کوشش نہ کریں یہ منصوبہ سابقہ حکومتوں کا منصوبہ تھا افتتاح پی ٹی آئی والوں نے کیا ہے تو ملازمین تنخواہوں کیلئے اور مریض علاج کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...