چارسدہ پولیس میں اندھیر نگری چوپٹ راج شروع

چارسدہ پولیس میں اندھیر نگری چوپٹ راج شروع

  



چارسدہ(بیورو رپورٹ) چارسدہ پولیس کی کار ستانیاں جاری ۔ نستہ پولیس نے مبینہ طور پر بھاری رشوت لیکر اپنے ہی پیٹی بند بھائی کو ناکر دہ گناہ کی پادا ش میں چار گھنٹے تک حوالات میں بند کر دیا ۔ نستہ پولیس کے ایس ایچ او نے عدالتی فیصلے کا مذاق اُڑاتے ہوئے میری ایک نہ سنی اورد ھکے دیکر دفتر سے نکال کر حوالات میں بند کیا ۔ وزیر اعلی اور آئی جی سے ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں محکمہ پویس سے ریٹائرڈ ہونے والے پولیس انسپکٹر جمشید خان نے چارسدہ پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ محکمہ پولیس میں خدمات سر انجام دینے کے بعد انہوں نے فنڈ لیکر اپنے گھر کے قریب 34مرلے کا پلاٹ خریدا مگر بعد ازاں پلاٹ کے سابق مالک کے بیٹوں نے مذکورہ پلاٹ پر قبضہ کر لیاجس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ۔ فاضل عدالت نے ختمی فیصلے تک دو نوں فریقین کو پلاٹ میں مداخلت سے روک دیا اور اس حوالے سے حکم امتناعی جاری کیا ۔ سابق پولیس انسپکٹر جمشید خان نے کہاکہ عدالتی حکم کے باوجود د مخالفین نے پولیس سے ملی بھگت کرکے ان کی خریدی ہوئی پلاٹ پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کی رپورٹ درج کرنے کے لئے وہ پولیس سٹیشن نستہ گئے تو ایس ایچ او نستہ جوہر شید خان نے نہ صرف عدالتی حکم امتناعی کا مذاق اڑایا بلکہ مجھے خاموشی سے پلاٹ سے دستبردار ہونے کی ہدایت کی ۔ اس حوالے سے ایس ایچ او نے میرا موقف سننے کی بجائے دھکے دیکر دفتر سے نکالا اور چار گھنٹے تک حوالات میں بند کئے رکھا ۔ سابق پولیس انسپکٹر نے وزیر اعلی پر ویز خٹک اور آئی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او جوہر شید کے غیر قانونی اقدامات اور عدالتی فیصلے کا تمسخر اڑانے کے حوالے سے مکمل انکوائری کرکے ان کو انصاف فراہم کیا جائے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر