تونسہ بیراج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ،زمینی راستے منقطع

تونسہ بیراج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ،زمینی راستے منقطع

  



کوٹ ادو،دائرہ دین پناہ،کوٹ سلطان (نمائندگان)نچلے درجے کے سیلاب نے تباہی مچادی،تونسہ بیراج میں پانی کی سطح بڑھنے لگی،زمینی راستے منقطع کوٹ ادو سے نمائندہ پاکستان،تحصیل رپورٹر کے مطابق دریائے سندھ تونسہ بیراج کے مقام پرپانی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔(بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

سیلابی پانی کی لپیٹ میں آنے والی بستیاں نشان والی،بھیڑی والا اوراردگرد کی بستیوں کا زمینی راستہ منقع ہوگیا ہے لوگوں نے نقل مقانی شروع کردی ہے۔پانی کے زیادہ کٹاؤں کی وجہ سے عباس والا بندکوبھی خطرہ ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پانی کی آمد4لاکھ24ہزار388کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے متاثرہ بستیوں کے رہائشیوں کی مطابق چاول اور گنے کی فصلات شدید متاثرہوی ہے لہذا حکومت ہمارے نقصان کا ازالہ کرے اورامدای کاروائی شروع کرے۔ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں داؤن فال شروع،کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہونا شوع ہو گئی،کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر سیلاب درمیانے درجے سے کم ہوکر نچلے درجے پر آگیا،تونسہ بیراج کے مقام پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب،حفاظتی اقدامات کے تحت مظفرگڑھ کنیال اور ڈی خان کنیال بند،ٹی پی لنک میں 6ہزار کیوسک چھوڑا جا رہا ہے، بیٹ کے علاقوں کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی شروع کردی۔دائرہ دین پناہ سے نامہ نگار کے مطابق حکومت پنجاب نے ایل ایم بی مارجنل عباس والابندکے بعدسیلاب سے بچاؤکے لیے سیکنڈڈیفنس کے طورپرسناواں بندکی مضبوطی کے لیے ساڑھے11کروڑلاگت سے کام جاری ہے محکمہ انہاراورٹھیکیدارکی ملی بھگت سے مٹی کی بجائے ریت کااستعمال دھڑلے سے جاری ہے،لیڈباہرسے لانے کی بجائے ٹھیکیدارسعیددرانی نے پانڈایریااورٹی پی لنک اورمظفرگڑھ کینال سے ریت اٹھاکربندپرڈال دی گئی ہے۔علاوہ ازیں محکمہ انہارکی ملی بھگت سے بااثرزمینداروں نے بندکی بنیادمیں سے50سے زائدمقامات پرغیرقانونی موگے اورپائپ ڈال کرپانی چوری سے کھیتوں کوسیراب کیاجارہاہے جس سے سیکنڈڈیفنس بندسناواں کی مضبوطی رقم ضائع کرنے کے مترادف ہے ،شہریوں محمدنواز،غلام عباس،محمدذوالفقار،عبدالرشید،محمدفاروق وغیرہ کی سربراہی میں سینکڑوں لوگوں نے بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کودرخواستیں ارسال کرنے کے علاوہ فوری کاروائی کابھی مطالبہ کیاہے۔کوٹ سلطان سے نامہ نگار کے مطابق 1للیہ کی 5نشیبی یونین کونسلوں جکھڑ پکا ،بکھری احمد خان ،بیٹ وساوا شمالی ،واڑہ سیہڑاں اور پہاڑ پور نشیب میں دریائے سندھ کے حالیہ نچلے درجے کے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے ،سیکڑوں بستیاں شدید متاثر ہو جانے سے علاقہ مکین اور ان کی فصلات کو شدید نقصان پہنچا ہے ،درجنوں بستیاں سرے سے ملیا میٹ ہو چکی ہیں جن میں شاہ والا ،بستی کاٹھی ،کالرو والا ،بستی گرمانی ،اوڈ والا ،اٹھ مہار ،سیدن والا ،ٹاہلی والا ،دبلی اور دیگر شامل ہیں ،ان بستیوں کے سیکڑوں مکین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ،کپاس کی تیار فصل بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے ،متاثرین محمد سعید ،محمد اظہر ،سعید اللہ ،خادم حسین ،شمشاد علی ،محمد ایوب ،نعمان علی ،جمیل احمد اور دیگر نے کہا کہ حکومتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں ضلعی انتظامیہ نے تاحال کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے انہوں نے کمشنر ڈی جی خان اور دیگر ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

سیلاب

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...