تحریک پاکستان شروع ہونے پر بھائی کہنے والے ہندو مخالف ہو گئے‘ علی شیر

تحریک پاکستان شروع ہونے پر بھائی کہنے والے ہندو مخالف ہو گئے‘ علی شیر

  



ملتان (سٹی رپورٹر)قیام پاکستان سے قبل ضلع حصار تحصیل بھیانی رواسا گاؤں ننگانہ سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے 85سالہ علی شیر نے کہاہے کہ تحریک پاکستان شروع ہونے سے قبل ہندوستان میں سب کچھ ٹھیک تھا ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے لیکن تحریک پاکستان شروع ہونے کے بعد ایسا لگتا تھا جیسے اپنے پرائی ہو گئے جو ہندو ہمیں بھائی کہتے تھے وہ مخالف ہوگئے جو ں جوں تحریک پاکستان میں مسلمانوں کے جوش و جذبے میں اضافہ ہوتا گیا اس کے ساتھ ساتھ ہندو ؤں کی مخالفت بھی(بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

بڑھتی گئی جب 14اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو مسلمان خوشی سے جھوم اٹھے مٹھائیاں تقسیم کی اور شکرانے کے نفل ادا کئے جبکہ دوسری طرف ایسا محسوس ہوتا کہ ہندو کو مسلمانوں کی یہ خوشی پسند نہ آئی اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا شروع کر دیں 14اگست کے بعد مختلف علاقوں سے اطلاعات موصو ل ہونا شروع ہو گئی تھی کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے گاؤں پر حملہ کر دیا وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہو تا گیا اس کے بعد مسلمانوں نے اپنے گاؤں خالی کرکے مسلمانوں کی اکثریت والے گاؤں میں پناہ لینا شروع کر دی ، جب تحریک پاکستان کے وقت حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو ہمارے آباؤں اجداد نے گاؤں کے لوگوں سے پیسے اکھٹے کرکے اسلحہ خریدنا شروع کر دیا تھا جو ہمار ے پھرپو کام آیا ایک روز تمام گاؤں والے اپنے اپنے گھروں میں سو رہے تھے کہ صبح اذان کے وقت ہزاروں کی تعداد میں ہندوؤں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کر دیا ا ن کے ہاتھوں میں لٹھ ، تیر ، کلہاڑیاں ، تلواریں ، نیزہ اور بندوقیں تھیں حالات کا جائزہ لیتے گاؤں والوں نے فوری طور حکمت عملی مرتب کی اور گاؤں وہ نوجوان جن کے بندوقیں تھی ان کو تین تین کی ٹولیوں کی شکل میں ہندوؤں کے جتھوں کے چاروں طرف بھیج دیا گیا جبکہ لٹھ بردار مسلمان ان کے سامنے آ گئے جیسے ہندوؤں کا جتھے نے مسلمان گاؤں پر حملے کیا تو مسلمان نوجوانوں نے چارو ں طرف سے ہندوؤں کے جتھے پر بندوق سے فائرنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے ہندو ؤ گھبرا کر وہاں سے بھاگ گئے اس لڑائی میں ایک مسلمان شہید جبکہ درجنوں ہندو مارے گئے تھے اس کے کسی ہندو کی جرآت نہ ہوئی کہ وہ ہمارے گا ؤں پر حملہ کریں بلکہ ہمارا گاؤں مشہور ہو گیا تھا کہ ان کے پاس تو بہت اسلحہ بارود ہیں ، ہمارے گاؤں کے نوجوان ساری ساری پہرہ دیتے تھے بلکہ نزدیک ترین گاؤں میں آباد مسلمان جہاں ہندو کی تعداد زیادہ تھی وہ بھی ہمارے گاؤں میں آکر آباد ہو گئے تھے اس کے بعد جب ہندوستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو ہمارے بزرگوں نے بھی ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا ہم خالی ہاتھ اپنے گاؤں سے سات میل تک پیدل چل کر بلیانی گئے وہاں سے بھوانی اسٹیشن چلے گئے وہاں دو روز تک بے رو مدد پڑے رہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان موجود تھے وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر پاکستان کی جانب روانہ ہوئے راستے میں کئی جگہوں پر ٹرین پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہمیں لے جانیوالے سپاہیوں نے اسے ناکام بنا دیا ، پاکستان پہنچنے کے بعد کیمپوں مسٹر جناح اور لیاقت علی خان سے بھی ملاقات ہوئی جسے مل کر ہمارے جذبے بلند ہو ، آج پاکستان میں آزادی سے سانس لیکر خوشی محسوس ہو تی ہے کہ ہم اپنے آزاد ملک میں موجود ہیں جہاں ہم اپنی عبادت بے خوف و خطر کررہے ہیں انہوں نے کہاہے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل تو آتے رہتے کی ان کی ہمیں پروا نہیں کرنی چاہیے اپنا گھر اور اپنا ملک اپنا ہوتا سو سال رہنے کے باوجود بھی کرائے کا مکان کرائے کا ہی ہوتا ہے آج ہم اپنے گھر میں موجود ہے اس سے بڑی خوشی کچھ بھی نہیں ہے ۔

علی شیر

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...