بار بنچ تنازع ہڑتال کی طوالت پر وکلاء 2حصوں میں تقسیم

بار بنچ تنازع ہڑتال کی طوالت پر وکلاء 2حصوں میں تقسیم

  



ملتان (خبر نگار خصوصی) باراوربینچ تنازعہ کے ساتھ ہڑتال کے فیصلے کی طوالت پروکلاء کے درمیان بھی تنازعہ پیداہوگیا۔سینئرجج کی عدالت میں صدربارکی جانب سے ہڑتال پرعمل درآمدکے لئے وکلاء کی جانب سے تلخ کلامی کے بعدمعاملہ کو حل کرنے کے لئے جنرل ہاؤس اجلاس بلانے کی ریکوزیشن (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

دے دی گئی جبکہ ڈسٹرکٹ بارمیں منعقدہ اجلاس میں صدرہائیکورٹ بارشیرزمان قریشی کی حمایت کرنے کے ساتھ آج جنوبی پنجاب کے وکلاء کا نمائندہ کنونشن بھی طلب کرلیا گیاہے۔تفصیل کے مطابق ہائیکورٹ وڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز کی جانب سے گزشتہ روز14 ویں دن بھی باروبینچ تنازعہ پرمکمل عدالتی بائیکاٹ کی کال دی گئی تھی تاہم چند وکلاء کی جانب سے عدالتوں میں پیش ہونے کی اطلاع پرصدرہائیکورٹ بارشیرزمان قریشی دیگر وکلاء اور عہدیداروں کے ہمراہ عدالتوں میں پہنچے اوروکلاء کو ہڑتال کے فیصلے پر عمل درآمدکرتے ہوئے پیش ہونے سے منع کیا اس دوران سینئرجج کی عدالت میں سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل میاں عباس احمداورسابق جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بارشیخ غیاث الحق نے صدربارکو عدالت سے جانے اوروکلاء کو پیش ہونے سے روکنے سے منع کردیااورتلخ کلامی بھی ہوئی بعد ازاں سابق وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل سمیت دیگر وکلاء کے دستخطوں پر مبنی ریکوزیشن جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بارصاحبزادہ ندیم فرید کو جمع کرائی جس میں کہاگیا تھاکہ باروبینچ تنازعہ میں کو ہائیکورٹ کی سطح پرحل کیاجاناچاہیے تھالیکن اس تنازعہ کی وجہ سے ساہیوال اورلودھراں بارایسوسی ایشنز نے ان کے علاقوں کو دیگربینچزمیں مقدمات دائرکرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے جو منظورکرلی گئی ہے اوریہ صرف معاملہ کو درست طورپر حل نہیں کرنے کی وجہ سے ہواہے اورایگزیکٹوباڈی نے مذاکرات کا راستہ ہی بندکردیاہے جو قطعی طورپر درست نہیں ہے اس لئے بارکا جنرل باڈی اجلاس فوری طورپربلایاجائے جس میں تمام معاملات کو طے کیاجائے اس موقع پرسابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل میاں عباس احمد نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ تنازعہ کے احتجاج میں ہائیکورٹ کی املاک کونقصان پہنچایاگیاہے اورجج کے نام کی تختی روندی گئی ہے اوراس پر لکھے نام کابھی خیال نہیں رکھاگیاہے نیز غیرمعینہ مدت تک ہڑتال کے اعلان کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کوانصاف حاصل نہیں ہورہاہے۔انھوں نے کہاکہ صدربار کوعدالت نے طلب کیاہے اورعدالتوں کے سامنے پیش ہوناہماراپیشہ اورشیوہ ہے لیکن صدربار بضدہیں کہ انھوں نے پیش نہیں ہوناہے اس لئے فیصلہ کیاہے کہ ان کے ساتھ وکلاء عدالتوں میں پیش ہوں گے اس لئے معاملہ کو سلجھانے کی خاطر صدربارعدالت میں پیش ہوں اورپیشی سے قبل تحریری جواب بھی عدالت میں جمع کرایاجائے۔انھوں نے کہاکہ صوبہ بنانے کا معاملہ اسمبلی نے کرناہے عدلیہ اس معاملہ میں خودکچھ نہیں کرسکتی ہے تاہم لودھراں اورساہیوال کے مقدمات دیگر بینچ میں دائر کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی قابل قبول نہیں ہے اورنوٹس واپس لیاجائے۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بارصاحبزادہ ندیم فریدنے کہاکہ ان حالات سے بچنے کے لئے مل کر حل نکالاجائے اورآج بھی وقت ہے کہ وکلاء کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے۔ بعدازاں ڈسٹرکٹ بارمیں ہنگامی اجلاس منعقد کیاگیاجس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہائیکورٹ بارشیرزمان قریشی نے کہاکہ چاہے ان کا لائسنس ختم کردیاجائے یاان کی صدارت ختم کردی جائے توانھیں فرق نہیں پڑتاہے یاآج جج بننے کے خواہشمند وکلاء نے انھیں سینئرجج کی عدالت سے دھکے دے کر باہرنکال دیاہے اوران وکلاء نے دھکے دئیے جنہوں نے ان کے ساتھ رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی اس لئے اس طرح کے رویوں سے وکلاء کی توہین ہوتی رہے گی اس طرح ان کے خلاف ایک وکیل نے ہی پورے شہرمیں بینرزلگائے گئے ہیں جو افسوسناک ہے۔ انھوں نے بتایاکہ انھیں ایجنسیوں کی جانب سے کئی باردھمکیاں دی گئیں اور فون تک ریکارڈ کیا جارہاہے ایسے حالات میں اگرٹاؤٹ سازشیں کریں گے توہماری تحریک ناکام ہوجائے گی۔انھوں نے کہاکہ عدالتی احکامات میں وکلاء کے خلاف غلط الفاظ لکھے گئے ہیں کیایہ وکلاء کی عزت کرنے کا اقدام ہے اس لئے چیف جسٹس پاکستان ازخودنوٹس لیں۔انھوں نے کہاکہ یہ جنگ کالے کوٹ کی ہے اس لئے وکلاء ثابت قدم رہتے ہوئے یہ جنگ جیت کررہیں گے انھوں نے کہاکہ راجن پوربارنے اپنے نمائندے جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بارکی ہڑتال ختم کرنے کی کال کو مسترد کر دیا ہے۔اس موقع پر وکلاء نے ان کو دادکی اورکھڑے ہوکر اظہاریکجہتی کیاہے۔صدرڈسٹرکٹ بار ایم یوسف زبیرنے کہاکہ بارکے فیصلوں کے خلاف اقدامات سے وکلاء اتحادکونقصان پہنچایاجا رہا ہے اورہڑتال کے مسلئے پر وکلاء کو دوگروپوں میں تقسیم کردیاگیاہے لیکن تحریک کے باغی صرف داغی رہیں گے اورحقیقی وکلاء تحریک کوکامیاب کریں گے۔ممبرپنجاب بارکونسل جاویدہاشمی نے کہاہے کہ تمام وکلاء کو جنرل ہاؤس کے فیصلوں پرقائم رہناہوگااورکچھ بھی ہوجائے شیرزمان قریشی توہین عدالت کیس میں پیش نہیں ہوں گے اس طرح لاہورمیں پنجاب بارکونسل نے 27 رکن کمیٹی قائم کی ہے لیکن اس میں کئی ممبران کو نہیں بلایاگیاہے اس لئے اب نمائندہ کنونشن کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔ممبرپنجاب بارکونسل افتخارابراہیم قریشی نے کہا ہے کہ معاملہ کے حل کے لئے 5 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنادی گئی ہے۔دریں اثناء ہائیکورٹ وڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز کی جانب سے آج بھی مکمل عدالتی بائیکاٹ کی کال دی گئی ہے اور ساڑھے 10 بجے دن ڈسٹرکٹ بارمیں جنوبی پنجاب کا نمائندہ کنونشن منعقد کیاجائیگا۔

بار بنچ تنازع

مزید : ملتان صفحہ آخر