لال مسجد شہداءفاﺅنڈیشن خواتین کے جسم سے بال ہٹانے والی کریم کیخلاف عدالت پہنچ گئی

لال مسجد شہداءفاﺅنڈیشن خواتین کے جسم سے بال ہٹانے والی کریم کیخلاف عدالت ...
لال مسجد شہداءفاﺅنڈیشن خواتین کے جسم سے بال ہٹانے والی کریم کیخلاف عدالت پہنچ گئی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) لال مسجد شہداءفاﺅنڈیشن خواتین کے جسم سے بال ہٹانے والی کریم کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی اور استدعا کی کہ مس ویٹ پاکستان پر پابندی عائد کی جائے ،خوبصورتی کا مقابلہ اسلام اور پاکستان کی اقدار کیخلاف ہے ۔

فاﺅنڈیشن کے صدر طارق اسد کی طرف سے دائر درخواست میں موقف اپنایاگیاکہ ’ یہ پراڈکٹ کا مقصد خوبصورتی میں عارضی اضافہ ہے اور اشتہارات میں خواتین کو کہاجاتاہے کہ صنف مخالف کو زیادہ جاذب نظراورپرکشش دکھائی دینے کے لیے اپنے جسم سے بال اتاریںجو بنیادی طورپر شرمناک ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے بھی منافی ہے ۔ درخواست گزار نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ اس پراڈکٹ کو پاکستان میں ٹی وی پر چلنے کی اجازت نہ دی جائے ، اس سے مقابلہ حسن کے انعقادکی راہ ہموار ہوگی جو کہ پہلے ہی کئی مغربی ممالک میں ہورہاہے ۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ اگر اس کو یوں ہی چلتے رہنے کی اجازت دی گئی تو ہمارے معاشرے اور ثقافت کو کھاجائے گی ، خاندانی نظام توڑپھوڑ کا شکار ہوگا اور ہماری معاشرتی اقدار تباہ ہوجائیں گی ، فیشن، ماڈلنگ ایونٹس، ڈانس و گائیکی کے مقابلے اورٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کی اقدار کیخلاف ہیں۔

اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا۔

مزید : اسلام آباد