قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 36

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 36
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 36

  



دس پندرہ سال چلنے کے بعد سلیم رضا صاحب کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ایک گلوکار ہ کوثر پروین ہوتی تھیں( اب یہ دونوں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں) ان دونوں کی جذباتی وابستگی ہو گئی اور یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے ۔ ویسے تو مذہب بیدار نہیں ہوتا لیکن ان معاملات میں مذہب بیدار ہو جاتا ہے۔ جب یہ خبر عام ہوئی کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آچکے ہیں اور سلیم رضا عیسائی اور کوثر پروین مسلمان ہیں تو اندر ہی اندر سلیم رضا صاحب کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں۔ سارے میوزک ڈائریکٹر مسلمان تھے۔ انہوں نے واچ کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر یہ اس حد تک پہنچے کہ ایک دن میں کسی مشاعرے کے سلسلے میں ریڈیو پاکستان گیا تو یہ وہاں موجود تھے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو کہنے لگے کہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ اس طرح کوثر پروین کو بھی ڈرایا دھمکایا گیا اوران دونوں میں دوری ہو گئی ۔ بعد میں کوثر پروین نے ایک میوزک ڈائریکٹر اختر اکھیاں سے شادی کر لی اور یہ دل برداشتہ ہو کر کینیڈا چلے گئے۔ میں ایک بار کینیڈا گیا تو میں ابھی ٹورنٹو میں تھا کہ مجھے ان کا فون ملا کہ میں مینٹوبر میں ہوں اور سنا ہے کہ آپ کا یہاں کا بھی پروگرام ہے۔ اس لئے جب یہاں آئیں تو ضرور مل کر جائیں۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 35  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مشاعروں میں میرا ساتھ اکثر ضمیر جعفری صاحب کے ساتھ ہوتا ہے ۔ پروین حنا سید اور حمایت علی شاعر بھی اس وقت ساتھ تھے۔ وہاں گئے تو پتا چلا کہ سلیم رضا صاحب کے دونوں گردے خراب ہو گئے تھے اور حکومت نے ان کو پاس سے دو مصنوعی گردے لگوا کر فری دیئے ہیں اور اب انہیں ہفتے میں ایک ہسپتال میں جانا پڑتا ہے اور زیادہ گھومنے پھرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اب یہ کمزور ہو چکے تھے اور رنگ بھی کچھ سیاہ ہو گیا تھا ۔ لیکن اس طرح ملے کہ دیکھنے والوں نے دیکھا اور پھر اس نے کہا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو اب تک فاقہ ہ زدگی سے مر چکا ہوتا کیونکہ وہا ں میرا کمائی کا کوئی انتظام نہیں رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ روزی کا یہاں کیا انتظام ہے تو کہنے لگے کہ یہاں تو بیماروں کیلئے الاؤنس ہوتا ہے ۔ لیکن میں وہ پسند نہیں کرتا اور میں نے میوزک کی کلاس کھول رکھی ہے اور ٹیوشن سے گزر اوقات کرتا ہوں۔

ان کے شاگردوں میں سے ایک شخص راج تھا جو ہندو تھا اور امریکہ کی ایک ریاست میں رہتا تھا۔ اس ریاست کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہاں بہت سے ہندوستانی لوگ آباد ہیں جنہیں انگریز شروع شروع میں دھوبی اور حجام وغیرہ کے کام کرنے کیلئے ہندوستان سے ساتھ لے کر گئے تھے اور ان کی بولی اب بھی پوربی ہے ۔ راج کی کچھ دلچسپی شاعری سے بھی تھی۔

ہم جس پارٹی کے ساتھ گئے تھے انہوں نے ہمارے ساتھ بالکل خرکاروں والا سلوک کر رکھا تھا۔وہ ہمیں آرام بھی نہیں کرنے دیتے تھے اور امریکہ اور کینیڈا کے آٹھ دس شہروں میں ہمیں تیز تیز گھما چکے تھے ۔ سلیم رضا نے مجھ سے کہا کہ آپ یہاں رکیے اور میں نے اس شخص راج کا ایک ایل پی کرنا ہے جس کیلئے آپ کا کلام منتخب کر رکھا ہے۔ اس نے مجھے ایک ہزار ڈالر دیئے۔ میرے باقی ساتھی تکلیف میں تھے اور میں نے انہیں بھی حسب ضرورت کچھ پیسے دیئے۔ پھر سلیم رضا نے مجھے ایک بکس بھی تحفہ کے طور پر دیا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ سفر کیلئے بہت موزوں ہے اور اسے چاہے دسویں منزل سے نیچے گراؤ ٹو ٹتا نہیں۔ پھر انہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنی اور راج کی گاڑی میں دو روز میں پورے علاقے کی سیر کروائی۔

افسوس یہ ہوتا ہے کہ سلیم رضا کی آواز بھی مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھ گئی۔ یہ نہیں کہ تعصب صر ف ہمارے ملک میں ہی ہے بلکہ مذہبی تعصب دوسرے ممالک میں بھی موجود ہے پھر بھی جب کوئی اچھا فنکار اس مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے تو مجھے بہت رنج اور افسوس ہوتا ہے۔

طفیل ہوشیار پوری اور مشیر کاظمی

ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے جو بیان کرتا ہوں ‘ اس میں خود ستائی نہیں ہے بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انسان کو صرف وہی کام کرنا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ اسے اپنے آپ سے اور اس کام سے انصاف کرنا چاہئے جو خواہ مخواہ اس کی جھولی میں ڈالا جا رہا ہو۔ تمہیدی طور پر میں یوں کہوں گا کہ میں فلمساز بھی رہا ہوں اور جو پہلی فلم میں نے شروع کی وہ ’’اک لڑکی میرے گاؤں کی ‘‘ تھی۔ مجھے سب کہتے رہے کہ اس کی ڈائریکشن آپ کریں۔ کہانی اور ڈائیلاگ بھی خود لکھیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں اچھے ڈائیلاگ لکھ سکتا ہوں اور مصنف اور شاعر سے بہتر ڈائریکشن کوئی دوسرا آدمی نہیں کرسکتا۔ لیکن میں نے کہا کہ میں بنیادی طور پر نغمہ نگار ہوں اور میرے صرف دو ہی ٹائٹل ہوں گے ایک نغمہ نگار کا اور دوسرا فلمساز کا ۔ چنانچہ میں نے کہانی ’ڈائیلاگ اور ڈائریکشن تینوں ہی باہر سے لیں۔

باقی فلموں میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ جب ہند کو فلم ’’قصہ خوانی ‘‘بنائی تو اس میں بھی یہی کیا حالانکہ ہند کو میر ی مادری زبان ہے اور میں بہت اچھے ڈائیلاگ لکھ سکتا تھا۔ لیکن میں نے کہانی ‘ڈائیلاگ اور ڈائریکشن تینوں چیزیں باہر سے لیں اور خود صرف نغمے ہی لکھے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہ رہاہوں کہ میں صرف وہی کام کرتا ہوں جو کہ میں کر سکتا ہوں اور جس پر مجھے عبور ہے ۔

جس زمانے میں محترمہ فاطمہ جناح اور جنرل ایوب کے درمیان الیکشن تھا‘ اس زمانے میں خدا جانے کیا وجہ تھی کہ پروگریسو ہونے کے باوجود میرا جھکاؤ صدر ایوب کی طرف تھا حالانکہ ان کی طرف سے کوئی لالچ یا مفاد بھی نہیں تھا۔ حبیب جالب اس کے برعکس یہ کہہ رہا تھا کہ:

ایسے دستور کو میں نہیں مانتا

مگر اس مسئلے پر میرا اور اس کا اختلاف بھی رہتا تھا اور میں کہتا تھا کہ صدر ایوب ذاتی طور پر ٹھیک آدمی ہیں۔ مگر وہ کہتا تھا کہ تم ذاتی باتیں چھوڑو‘ یہ شخص جو نظام لے کر آیا ہے وہ اس ملک کا بیڑا غرق کر دے گا اور اس ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ لیکن میں جالب سے لڑتا تھا اور بعض اوقات تلخ بھی ہو جاتا تھا۔ بعد میں آکر میں نے جالب سے اس کا اعتراف بھی کیا کہ میں غلط تھا اور میں نے تم سے جو تلخ گوئی کی ہے اس کی معافی چاہتا ہوں۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے


loading...