آؤ اللہ کا ذکر کریں

آؤ اللہ کا ذکر کریں
آؤ اللہ کا ذکر کریں

  



قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کے اطمینان کا ذریعہ بتا یا ہے (الرعد13:28)۔مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کر کے بھی دل بے چین و مضطرب رہتا ہے۔وہ صبح و شام تسبیحات پڑ ھتے ہیں ، مگر پھر بھی زندگی حز ن و ملال اور بے چینی و انتشار میں گزرتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اطمینان سے مراد سکون کی وہ کیفیت نہیں ہے جو کسی نشے کو اختیار کرنے کے بعد انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔اور جس کے بعد انسان دنیا و مافیہا کے ہر غم سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ بلکہ یہاں اطمینان سے مراد وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جس ہستی پر وہ ایمان لایا ہے ، جس کو اس نے اپنا رب اور اپنا معبود مانا ہے ، و ہی در حقیقت خالق و مالک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں کل کائنات کی بادشاہی ہے۔اور جس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا، اللہ تعالیٰ اسے کبھی رسوا اور محروم نہیں کرے گا۔

تاہم یہ یقین اللہ کے جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے وہ محض تسبیح پر انگلیاں پھیرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کی یاد میں جینے کا نام ہے۔یہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہیں ، اس کے ذکر سے منہ میں شیرینی گھل جانے کا نام ہے۔یہ اس کے نام کی مالا جپنے کاعمل نہیں ، ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کیفیت کا نام ہے۔یہ اللہ ھو کا ورد کرنے کا عمل نہیں ، رب کی محبت اور اس کے ڈرمیں زندگی گزارنے کا نام ہے۔اس یاد کی بڑ ی خوبصورت تعبیر ، اگر فیض کے الفاظ مستعار لیں توکچھ یوں ہے۔

رات یوں دل میں تری بھولی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم

جیسے بیمار کو بے و جہ قرار آ جائے

قرآن نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اطمینان قلب کی وہ کیفیت جس میں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی اندیشہ ، اللہ کے دوستوں کو عطا کی جاتی ہے۔فرمایا:

’’سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔ان کے لیے خوشخبری ہے ، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔یہی بڑ ی کامیابی ہے ‘‘۔ (یونس10:62۔64)

یہاں قرآن یہ بھی بیان کرتا ہے کہ اللہ کے یہ دوست کون ہوتے ہیں ؟ یہ کوئی ’’بزرگ‘‘ قسم کے لوگ نہیں بلکہ وہ سچے اہل ایمان ہیں جو اپنے ایمان کا ثبوت تقویٰ سے دیتے ہیں۔یعنی رب کی یاد ان کا احاطہ اس طرح کر لیتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے میں وہ یہ سوچ کر گناہ سے بچتے ہیں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے۔یہی لوگ اللہ کے ولی اور اس کے دوست ہیں۔ اور جو اللہ کا دوست ہو وہ کیسے کسی خوف و حزن کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں۔ کسی ملک کے صدر یا وزیر اعظم سے جو ملک کا طاقتور ترین شخص ہوتا ہے اگر کسی شخص کی براہِ راست دوستی ہوجائے تو پھر اس ملک کا کوئی سرکاری محکمہ اسے تنگ نہیں کرسکتا۔ کہیں اس کا کام پھنس نہیں سکتا۔جب ایک فانی انسان کا یہ حال ہے تو جن لوگوں کوا للہ تعالیٰ اپنا دوست قرار دیدے ، ان کے معاملات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔وہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اللہ انہیں ہر خوف و حزن سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں اور اللہ ان کے دلوں کو اطمینان سے بھردیتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر تکالیف بھی آتی ہیں ، بلکہ اکثر انہی پر آیا کرتی ہیں توپھر یہ لوگ کس طرح خوف و حزن سے محفوظ ہوئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حزن و خوف دل کی ایک کیفیت کا نام ہے۔جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں ، ان کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہو سکتے ہیں ، مگر ان کے قلب پر اطمینان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پرسکون رہتا ہے۔ اس کا سب سے اچھا نمونہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سیرت ہے۔ آپ کو اپنی زندگی میں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑ ا اور ہجرت کے موقع پر تو خون کے پیاسے لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے غارثور تک آپہنچے۔ آپ کے ساتھ سوائے حضرت ابو بکرؓ کے اور کوئی نہ تھا۔ مگرآپﷺ اس موقع پر ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہ ہوئے بلکہ جب حضرت ابوبکرؓ آپﷺ کی طرف سے فکرمند ہوئے تو آپﷺ نے ان کو اس طرح تسلی دی ’’ اے ابو بکر! ان دوکے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے ‘‘

ایک بندہ مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو باآسانی اسے ان مشکلات سے نکال سکتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا اور اسی سے مدد چاہتا ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے اس مشکل سے نجات عطا کر دیتے ہیں۔تاہم اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ یہ مشکلات ، اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی ، جنت میں اس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت کے دکھوں سے اسے بچا رہی ہیں۔چنانچہ مشکلات و تکالیف بھی اسے یہ اطمینان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر اک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافہ کا سبب بنے گا۔جو شخص اطمینا ن کی اس کیفیت میں جیتا ہو، اس کے سکونِ قلب کے کیا کہنے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے امتحان کی تیاری میں مصروف کوئی قابل طالبعلم رات بھر جاگتا اور نیند کی راحت سے محروم رہتا ہے۔ مگر اسے یہ تکلیف اس لیے گوارا ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس کا بہترین نتیجہ دیکھے گا۔ یا کوئی کاروباری شخص اپنے کاروبار میں پیسے لگاتا ہے اور مشقت اٹھاتا ہے ، اس امید پر کہ آنے والے دنوں میں اسے بھرپور منافع ملے گا۔

یہ ایک حقیت ہے کہ اللہ کی یاد میں بڑ ا سکون ہے۔ مگر اس شخص کے لیے جو ایمان و تقوی کی کیفیات میں جیتا ہو۔ نہ اس شخص کے لیے جسے عام حالات میں اللہ یاد رہے نہ آخرت بلکہ اس کی زندگی کا مقصود دنیا کی لذتیں ہوں۔ ہاں اسے کبھی تکلیف پہنچ جائے تو اس تکلیف سے نجات پانے کے لیے وہ وظیفے پڑ ھنا شروع کر دے اور سمجھے کہ یہ اللہ کی یاد ہے جس سے اسے سکون مل جائے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...