نوجوان لڑکی کا اغواءاور پھر اغواءکار ایک دن اسے شاپنگ کروانے بازار لے گیا جس کے بعد۔۔۔ ایسا واقعہ کہ جان کر آپ کو واقعی چکر آجائیں گے

نوجوان لڑکی کا اغواءاور پھر اغواءکار ایک دن اسے شاپنگ کروانے بازار لے گیا جس ...
نوجوان لڑکی کا اغواءاور پھر اغواءکار ایک دن اسے شاپنگ کروانے بازار لے گیا جس کے بعد۔۔۔ ایسا واقعہ کہ جان کر آپ کو واقعی چکر آجائیں گے

  



روم(مانیٹرنگ ڈیسک) چند روز قبل اٹلی میں ایک برطانوی ماڈل کو اغواءکر لیا گیا اور ڈارک ویب پر جنسی غلام کے طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اغواءکار نے بعدازاں اسے رہا کر دیا۔ اب اس واقعے کی تحقیقات میں ایسا انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ اطالوی میڈیا اس کی صداقت پر سوال اٹھانے لگا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 20سالہ ماڈل کلوئی ایلنگ کے ایک دوست نے یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے 30سالہ اغواءکارلوکاز ہربا کو پہلے سے جانتی تھی اور رواں سال اپریل میں اس سے پیرس میں مل بھی چکی تھی۔ جب لوکاز نے اسے اٹلی میں اغواءکیا تو اس دوران وہ اس کے ساتھ جوتے خریدنے کے لیے بازار بھی گئی تھی، کیونکہ اغواءہونے کے دوران کلوئی کے جوتے کہیں کھو گئے تھے، چنانچہ اغواءکار اسے دکان پر لے گیا اور نئے جوتے دلائے۔

قربت کے لمحات میں خاتون کے منہ سے ایک لفظ ایسا نکل گیا کہ غصے میں آکر آدمی نے جان سے ہی مار ڈالا

اطالوی میڈیا سوال اٹھا رہا ہے کہ اگر لوکاز نے کلوئی کو اغواءکر رکھا تھا تو وہ اس کے ساتھ جوتے خریدنے کیوں اور کیسے گئی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اطالوی پولیس کہہ چکی ہے کہ اغواءکی یہ واردات حقیقی تھی۔واضح رہے کہ کلوئی کو30سالہ لوکاز ہربا نے فوٹوشوٹ کے بہانے پیرس سے اٹلی کے شہر میلن بلایا اور وہاں اغواءکر لیا۔ اس نے کلوئی کوبے ہوشی کا انجکشن دیا، ہتھکڑیاں لگائیں اور سوٹ کیس میں بند کرکے اٹلی کے ایک اور شہر میں لے گیا۔ وہ اسے ڈارک نیٹ کے ذریعے جنسی غلام کے طور پر نیلام کرنے والا تھا۔ تاہم جب اسے معلوم ہوا کہ کلوئی ایک بچے کی ماں ہے، تب اس نے اسے رہا کر دیا اور خود لے کر اٹلی میں واقع برطانوی سفارتخانے چلا گیا جہاں لوکاز کو گرفتار کر لیا گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس