روزانہ کم از کم اتنی چھینکیں لازمی مارا کریں تاکہ ....

روزانہ کم از کم اتنی چھینکیں لازمی مارا کریں تاکہ ....
 روزانہ کم از کم اتنی چھینکیں لازمی مارا کریں تاکہ ....

  



  لاہور ( طبی رپورٹر) انسان ہی کیا جانور بھی چھینکتے ہیں اور اگر وہ چھینکنا بند کردیں تو انہیں بہت سی بیماریوں مبتلا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔چھینک ایک قدرتی عمل ہے جو دراصل دماغی غلافوں کو آلودگی اور جراثیم سے بچانے میں معاون ومحافظ ہوتی ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ جونہی انسان کودو یا تین چھینکیں آگئیں ،ان کو نزلہ زکام کا آلارم سمجھ کراینٹی بائیوٹک یا الرجی کی میڈیسن کھانا شروع کردیتے ہیں۔طب اور میڈیکل سائنس چھینکوں کو باڈی کا آلارم اور باڈی گارڈ سے تشبیہ دیتی ہے۔روزانہ ایک سے تین تک چھینکیں قدرتی طور پر آجائیں تو اسکو اللہ کی رحمت سمجھیں اور الحمد للہ کہیں۔کیونکہ قدرت نے آپ کے دماغ پر حملہ آور ہونے والی آلودگی کو جھٹک کر باہر پھینک دینا ہوتا ہے۔تاہم یاد رہے کہ چھینکیں روزانہ بہت کم لوگوں کو آتی ہیں ۔کچھ کو مہینے میں اور کسی کو سال میں ایک آدھ بار آتی ہیں۔ فضائی آلودگی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس ماحول میں خود بھی روزانہ ایک دو بار چھینک لینا چاہئے۔پرانے زمانے میں اس کام کے لئے سُرخ مرچوں کی دھونی لی جاتی تھی ،اب بھی چھینک لانے کے لئے ایسی نباتات استعمال کی جاتی ہیں یا پھر جب کھانا پک رہا ہواور کوئی چیز جل جائے تو اس سے اٹھنے والے دھوئیں سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔چھینک پر ہونے والی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چھینک انسان کو مستعد کردیتی ہے لہذا جو لوگ دماغی طور پر مستعد رہنا چاہتے ہیں وہ روزانہ ایک دوبار چھینکنے کا اہتمام لازمی کیا کریں ۔چھینک کوروکنا انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ڈپریشن اور دماغی امراض میں مبتلا مریضوں کو تو ہرگز یہ فعل نہیں کرنا چاہئے ۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...